27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

‘ارطغرل’ سیریز بنگلہ دیشی عوام کے دل میں بھی گھر کر گئی

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

ترک ٹیلی وژن سیریز ارطغرل اب تک دنیا کے 156 سے زیادہ ممالک میں نشر ہو چکی ہے، اور اپنی شاندار کہانی اور زبردست اداکاری کی وجہ سے ہر ملک میں تہلکہ مچایا ہے۔ مثلاً یہ سیریز اسپین کی سماجی زندگی تک کا حصہ بن چکی ہے اور وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ لیکن حال ہی میں جن ممالک میں ارطغرل نے اپنے پرستار بنائے ہیں، ان میں بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ یہاں نہ صرف شہروں بلکہ دُور دراز کے دیہات میں بھی لوگ اس سیریز کے دیوانے ہیں۔

‘دریلش ارطغرل’ جو پاکستان میں ‘ارطغرل غازی’ کے نام سے جاری ہے، دنیا میں ترک "گیم آف تھرونز” کی حیثیت سے مشہور ہے۔ اس سیریز کی کہانی سلطنتِ عثمانیہ کے قیام سے بھی پہلے سے شروع ہوتی ہے اور 13 ویں صدی کے اناطولیہ میں سلطنت کے بانی عثمان اوّل کے والد ارطغرل غازی کی جدوجہد بیان کرتی ہے۔ پاکستان میں اس ڈرامے کو اردو ڈبنگ کے ساتھ نشر کیا گیا جس کے بعد یہ کشمیر اور پھر بنگلہ دیش میں بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔

علی الرحمٰن بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ایک پرائیوٹ کالج کے طالب علم اور فلموں کے شوقین ہیں، وہ بھی بنگالی زبان میں ڈب کی گئی اس سیریز کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک مقامی پرائیوٹ ٹیلی وژن چینل اس سیریز کو بنگالی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ علی کہتے ہیں کہ "یہ سیریز اپنے بہترین اخلاقی اسباق اور تاریخی پس منظر کے ساتھ میرے تخیّل سے بھی آگے کی چیز ہے۔” ارطغرل کے پہلے دو سیزن دیکھنے کے بعد وہ اب چینل پر باقی تین سیزنز کے منتظر تھے لیکن انتظار نہ کر سکے اور علی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انگریزی یا بنگالی سب ٹائٹلز کے ساتھ باقی تین سیزنز بھی دیکھ ڈالے ہیں۔

‏گزشتہ سال جب عید الاضحیٰ کے لیے بنگلہ دیش کے ساحلی ضلع برگونا گئے تو اپنے رشتہ داروں کو دکھانے کے لیے اپنی پین ڈرائیو (یو ایس بی ڈرائیو) میں "ارطغرل” کی کچھ قسطیں بھی لے گئے۔ انہوں نے اس دور دراز علاقے میں ایک موبائل سروس شاپ چلانے والے فرہاد حسین کو یہ اقساط دیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چند صارفین کو موبائل فون پر یہ قسطیں دینے کے بعد تو یہ سیریز جنگل کی آگ کی طرح علاقے میں پھیل گئی۔ ان کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ گئی ہیں جو ترک سیریز کے طالب ہیں۔ انہوں نے ترک خبری ادارے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ اب لوگ گانے اور دوسری چیزوں کے بعد صرف "ارطغرل” ہی مانگنے کے لیے ان کی دکان پر آتے ہیں۔

اب ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ مختلف ذرائع سے ارطغرل سیریز دیکھ رہے ہیں اور ترک تاریخ اور اس سیریز کے جمالیاتی پہلوؤں کو سراہ رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے ایک سینیئر صحافی مرشد عالم کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر اس ڈرامے کی تمام اقساط دیکھی ہیں اور اب ایک اور ترک سیریز "کورولش عثمان” دیکھ رہے ہیں جو درصل ‘ارطغرل’ ہی کا تسلسل ہے اور سلطنتِ عثمانیہ کے ابتدائی ایام کی داستان بیان کرتی ہے۔

ٹیلی وژن جرنلسٹ کی حیثیت نے اپنے طویل کیریئر کا حوالہ دیتے ہوئے مرشد عالم نے کہا کہ انہوں نے کئی غیر ملکی فلمیں اور سیریز دیکھی ہیں لیکن ‘ارطغرل’ سب سے بہتر ہے۔ "بہترین موضوعات اور دیگر تکنیکی پہلوؤں پر معیاری فلمیں بنانے کے خواہشمند افراد کو ترک سیریز سے بہت سے سبق سیکھنے چاہئیں۔”

انہوں نے بیانیہ حصوں کا خاص طور پر ذکر یا، جو زیادہ تر فلموں میں اکتا دینے والے ہوتے ہیں، لیکن اس ترک سیریز میں دل موہ لینے والے ہیں۔ خاص طور پر ارطغرل غازی اور ابن العربی کی گفتگو۔ ان کے خیال میں ان کے مکالمے بتاتے ہیں کہ گھریلو، سماجی اور سیاسی زندگی کے نازک ترین لمحات میں کسی شخص کو کیا ردعمل دکھانا چاہیے۔

جنوب مغربی ضلع کھلنا کی ایک نجی جامعہ کے استاد پروفیسر شاہ عالم نے بھی کہا کہ یہ ترک سیریز زندگی کے ہر پہلو کے لیے اسباق رکھتی ہے۔ "یہ سیریز بتاتی ہے کہ ایک انسان اپنی نجی بلکہ معاشرتی اور ریاستی زندگی میں بھی کس طرح آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ سیریز ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی مسلمان کو ایک اچھا، باصلاحیت اور انقلابی مسلمان کس طرح ہونا چاہیے۔”

دیپتو ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فواد چوہدری نے بتایا ہےکہ ترک سیریز کو بنگلہ دیشی ناظرین کی جانب سے زبردست تائید حاصل ہوئی ہے اس کے موضوعات، کہانی اور دیگر معیاری کام کے لحاظ سے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا چینل روزانہ پانچ گھنٹے ترک سیریز چلاتا ہے اور یہ ریکارڈ ہے کہ کسی پرائیوٹ چینل نے اپنا زیادہ وقت غیر ملکی پروگراموں کے لیے مختص کیا ہو۔

اس ٹیلی وژن سیریز کے ساتھ بنگلہ دیشی عوام میں ترکش زبان سیکھنے کا رحجان بھی پیدا ہو رہا ہے۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے