27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

آسکر ایوارڈز کے لیے پاکستان کی انٹری، جو خود پاکستانیوں نے نہیں دیکھی

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

دنیا کے سب سے بڑے فلمی اعزاز ‘آسکر’ کے لیے حتمی نامزدگیوں کا اعلان کچھ عرصے میں کر دیا جائے گا۔ فی الحال دنیا بھر کے ممالک ‘بہترین بین الاقوامی فیچر فلم’ کے زمرے کے لیے اپنی فلمیں پیش کر رہے ہیں اور پاکستان نے رواں سال ایک ایسی فلم بھیجی ہے جو پاکستانیوں نے اب تک نہیں دیکھی۔ یہ فلم ہے متنازع ‘زندگی تماشا’۔

سوا دو گھنٹے کی اس فلم کی کہانی پرانے لاہور کے ایک ادھیڑ عمر شخص راحت خواجہ کے گرد گھومتی ہے جو ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ ہے، لیکن اس کی شہرت ایک نعت خواں کی حیثیت سے ہے۔ لیکن اس کی زندگی یکدم ایک موڑ لیتی ہے جب کسی شادی کے دوران اس کے ایک پرانے پاکستانی گانے پر رقص کرنے کی وڈیو بن جاتی ہے اور وائرل ہو جاتی ہے۔ یوں اپنے علاقے کا مشہور نعت خواں کی زندگی اچانک تماشا بن جاتی ہے۔ وہ مذہبی تقریبات کہ جہاں کبھی اس کی واہ واہ ہوتی تھی، وہاں سے اسے دھکے دے کر نکالا جاتا ہے، انٹرنیٹ پر اس کا مذاق اڑتا ہے، وہ بچے جو کبھی خوشی خوشی اس کے ہاتھوں سے مٹھائیاں لیتے تھے اب اسے دیکھ کر گالیوں سے نوازتے ہیں۔ یہاں تک کہ خود اس کی بیٹی بھی اس سے منہ پھیر لیتی ہے۔

پاکستان میں اس فلم پر پابندی اس لیے لگی کیونکہ اس میں ایک مولوی کا کردار ہے جو راحت خواجہ کو دھمکی دیتا ہے کہ وہ اس کو گستاخ قرار دلوا دے گا اور یہ منظر ٹریلر میں شامل ہے، جس کے منظرِ عام پر آتے ہی تحریکِ لبیک پاکستان نے فلم کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور یوں فلم کی مرکزی کردار کی طرح ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کی زندگی تماشا بن گئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ مجھے مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شامل کیا گیا، جہاں مشکوک لوگ مجھے ایسی بھیانک تصویریں بھیجتے جن میں کسی کا سر قلم ہوا ہوتا، مجھے قتل کی دھمکیاں ملیں اور کچھ لوگوں نے گستاخی کا مرتکب بھی قرار دیا۔

یہاں تک کہ حکومت نے "زندگی تماشا” کی ریلیز پر پابندی لگا دی اور اسلامی نظریاتی کونسل سے کہا کہ وہ اس فلم کا تنقیدی جائزہ لے، جس کے بعد اسے ریلیز کیا جائے گا، یعنی سمجھیں کہ عملاً فلم ڈبے میں بند ہو گئی۔

لیکن فلم عالمی سطح پر کافی مقبول ہوئی ہے۔ 2019ء کے بوسان فلم فیسٹیول میں اس نے کم جی-سیوک ایوارڈ جیتا اور نومبر 2020ء میں پاکستان نے اسے آسکر ایوارڈز کے لیے اپنی انٹری کے طور پر بھیج دیا ہے۔

پاکستان نے 1959ء میں پہلی بار ‘بہترین بین الاقوامی فیچر فلم’ کے زمرے میں اپنی کوئی فلم بھیجی تھی، یہ اختر جے کاردار کی مشہور فلم ‘جاگو ہوا سویرا’ تھی۔ اس کے بعد 1963ء میں خواجہ خورشید انور کی ‘گھونگھٹ’ کو بھی آسکر کے لیے بھیجا گیا۔ لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اگلے 50 سال تک پاکستان نے اپنی کوئی فلم آسکر میں اس زمرے کے لیے نہیں بھیجی یہاں تک کہ 2013ء میں مینا گور اور فرجاد نبی کی فلم ‘زندہ بھاگ’ آئی۔ تب سے اب تک پاکستان ہر سال ایک فلم اس کیٹیگری کے لیے بھیجتا ہے۔ پاکستان نے 2014ء میں ‘دختر’، 2015ء میں ‘مُور’، 2016ء میں ‘ماہِ میر’، 2017ء میں ‘ساون’، 2018ء میں ‘کیک’ اور ‘2019ء’ میں ‘لال کبوتر’ کو آسکر کے لیے اپنی انٹری کے طور پر پیش کیا لیکن کوئی فلم حتمی نامزدگی فہرست کا حصہ نہیں بن پائی۔ دیکھتے ہیں کہ زندگی تماشا تاریخ کی پہلی پاکستانی فلم بنتی ہے یا نہیں۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے