29.9 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

‘قاتل’ کے ٹو، جو سردیوں میں ‘خونخوار’ ہو جاتا ہے

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے چھوٹا 8,611 میٹر بلند کے ٹو دنیا کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے لیکن یہ ایک قاتل پہاڑ ہے۔ اس کی چوٹی تک پہنچنے کی ہر چار کامیاب کوششوں کے پیچھے ایک کوہ پیما کی جان ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سردیوں میں تو کے ٹو پر حالات اور خطرناک ہو جاتے ہیں اور اس ہفتے چند مزید کوہ پیماؤں کی جان چلے جانے کا خطرہ ہے۔ پاکستان کے محمد علی صدپارہ، آئس لینڈ کے جون سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر نے آخری بار جمعے کو بیس کیمپ سے رابطہ کیا تھا۔ ہفتے کے ان کے لاپتہ ہونے کا اعلان کیا اور آج بدھ ہے۔ اب تک ان کی تلاش کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، اور ساتھ ہی ان کی زندگی کی امیدیں بھی۔

1953ء کے موسمِ گرما میں اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرنے والے امریکی کوہ پیما جارج بیل نے کچھ ایسا کہا تھا جسے آج بھی دنیا میں دہرایا جاتا ہے۔ موت سے بال بال بچنے کے بعد ایک صحافی سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ "یہ خونخوار پہاڑ ہے جو آپ کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔”

کے ٹو پاک-چین سرحد پر قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے اور 1954ء سے اب تک اس کو سر کرنے کی کوشش میں 87 کوہ پیماؤں کی جان گئی ہے جبکہ کامیابی کے ساتھ اس کی چوٹی تک پہنچنے والوں کی تعداد 377 ہے۔ اس لحاظ سے مرنے والوں کوہ پیماؤں کی تعداد کتنی زیادہ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو 9 ہزار سے زیادہ مرتبہ سر کیا جا چکا ہے، جبکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد صرف 300 ہے۔

سردیوں میں تو کے ٹو مزید خطرناک ہو جاتا ہے، 200 کلومیٹرز فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جانے والا درجہ حرارت۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں اسے سر کرنے کی کوششیں بھی بہت کم ہوئی ہیں۔ معلوم تاریخ میں اب تک کے ٹو کو سر کرنے کی صرف آٹھ سرمائی کوششیں ہوئی ہیں۔ کامیابی صرف ایک کو ملی ہے، ابھی پچھلے ہی مہینے، جب 16 جنوری کو نیپال کے کوہ پیماؤں نے اسے سر کر کے نئی تاریخ رقم کی۔

لیکن اس تاریخی دن پر ہی کے ٹو پر ہسپانوی کوہ پیما سرگئی منگوتے کی موت کی اطلاع ملی جو بغیر آکسیجن سلنڈر کے چوٹی سر کرنے کی کوشش میں سینکڑوں میٹر نیچے گرے۔ پھر دو ہفتے بعد ایک بلغاریہ کے کوہ پیما کی بھی جان گئی اور اب تین مزید کوہ پیماؤں کی زندگی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

کے ٹو کو سر کرنے والی پہلی امریکی خاتون وینیسا اوبرائن بتاتی ہیں کہ جتنا کے ٹو کو سر کرنا مشکل ہے، اس سے بھی زیادہ خطرناک اترنا ہے۔

8 ہزار میٹر سے زیادہ بلند چوٹیوں میں 85 فیصد اموات واپسی پر اترتے ہوئے ہوتی ہیں، کیونکہ کوہ پیما اپنی تمام تر توانائی چڑھائی میں لگا چکے ہوتے ہیں اور ان میں اتنا دم باقی نہیں بچتا۔

کے ٹو کے خطرناک ہونے کی کئی قدرتی وجوہات ہیں، یہ سرد ترین اور تیز ترین ہواؤں والا پہاڑ ہے۔ اس کی چوٹی کے راستے میں کوہ پیماؤں کو عمودی چٹانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو 80 درجے کے زاویے پر ہوتی ہیں جبکہ برفانی تودوں کا گرنا ایک الگ خطرہ ہے۔

2008ء میں کے ٹو پر ایک برفانی تودہ ایک ٹیم پر گرا جس میں 11 کوہ پیماؤں کی جان چلی گئی تھی۔ یہ کے ٹو پر پیش آنے والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔

اوبرائن کہتی ہیں کہ خطرناک پہاڑ کوہ پیماؤں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں اور یہ مضبوط اعصاب اور جسم رکھنے والے کوہ پیماؤں کو آزماتے ہیں۔

انہوں نے دو ناکام کوششوں کے بعد 2017ء میں بالآخر کے ٹو کو سر کر لیا تھا اور اس کا احوال اپنی کتاب "To the Greatest Heights” میں لکھا ہے۔ کہتی ہیں کہ "کے ٹو کی خاص بات یہ ہے کہ اسے سر کرنا کوہ پیماؤں کو جتنا آسان لگتا ہے، لیکن یہ اس سے کہیں، کہیں، کہیں زیادہ مشکل ہے۔ کے ٹو پر صرف ایک بات یقینی ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں کچھ نہ کچھ ضرور غلط ہوگا۔

وینیسا اوبرائن نے کہا کہ کوہ پیما خود کو خطروں کا کھلاڑی یا فطرت کا انعام یافتہ سمجھتے ہیں اور ان کے ذہن میں ہوتا ہے کہ وہ سب مشکلات کو عبور کر کے منزل پر پہنچ جائیں گے، لیکن کے ٹو ان کے ارادوں کو روندتا ہے، توڑتا ہے اور اپنی بلندیوں کے نظارے دیکھنے سے پہلے ہی ان کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے