13.3 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

بھارت کے ‏60 فیصد تیجس طیارے گراؤنڈ کر دیے گئے

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

رواں مہینے کے آغاز میں ایرو انڈیا شو 2021ء کے دوران جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہوگا کہ ملک کی فضائیہ کو 83 تیجس Mk-1A طیارے فراہم کرنے کا ٹھیکہ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کو 6.25 ارب ڈالرز میں دیا گیا ہے تو وہاں موجود بھارتی فضائیہ کے عہدیدار اور کرتا دھرتا دل میں پریشان ضرور ہوئے ہں گے۔ کیونکہ تیجس کے ڈیزائن میں بنیادی خامیاں ہیں، جن سے ابھی تک نمٹا نہیں جا سکا۔ 35 سال سے زیادہ عرصے سے اس جہاز پر کام ہی ہو رہا ہے اور جو درجن ڈیڑھ جہاز اب تک بھارتی فضائیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں ان میں سے ایک تہائی گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔

بھارتی فضائیہ کے اہم عہدیداروں کی پریشانی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ تیجس Mk-1A طیاروں کے پچھلے آرڈر کی تکمیل میں بھی بہت تاخیر کی گئی ہے اور اب بھی پہلے آرڈر کے 2024ء سے پہلے مکمل ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ باقی ماندہ 2030ء میں فضائیہ کے حوالے کیے جائیں گے، وہ بھی اس صورت کہ HAL پروڈکشن شیڈول پر پورا اترے جو بھارت کے ‘بابو کلچر’ کو دیکھتے ہوئے نظر نہیں آتا۔ جنہوں نے ایک طیارے بنانے میں 35 سال لگا دیے، ان سے کچھ بھی بعید نہیں۔

اس وقت بھارتی فضائیہ میں جو تیجس لڑاکا طیارے شامل ہیں، ان میں انجن تھرسٹ، ہوائی جہاز کا وزن، ایندھن کی گنجائش اور 7.62mm کی گولیوں سے پائلٹ کا تحفظ کے مسائل نمایاں ہیں، جن کی وجہ سے 60 فیصد تیجس مسلسل گراؤنڈ حالت میں ہیں۔

‏HAL تیجس Mk-1A ایک لائٹ ویٹ سنگل انجن ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جسے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) نے بنایا ہے۔ یہ بھارت جیسے غریب ملکوں کی دفاعی ضرورت کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ لیکن بھارت کو تیجس کی مقامی سطح پر تیاری میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تب کہیں جا کر یہ اڑنے کے قابل بنا لیکن اس میں بنیادی نوعیت کے کئی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

اس کے ڈیزائن کی خامیاں ہیں، کارکردگی اور سیفٹی کے مسائل ہیں اور بھارتی فضائیہ تو اس پر اتنا "اعتماد” کرتی ہے کہ 26 فروری 2019ء کو بالاکوٹ کے ناکام مشن اور اگلے روز پاکستان کے ‘آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ’ کا جواب دینے کے لیے اپنے تمام طیارے استعمال کر لیے، لیکن تیجس کو میدان میں نہیں اتارا جبکہ اس کے مقابل میں پاکستان نے اپنی فضائیہ کے تمام ہی طیاروں کا استعمال کیا، امریکی ساختہ ایف-16 سے لے کر مقامی جے ایف-17 تک۔

ایک طرف بھارت یہ تاثر پیش کر رہا ہے کہ وہ تیجس کو جے ایف-17 کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے پرانے مِگ طیاروں کو بدلنا چاہتا ہے۔ بھارت نے کُل 1,220 مِگ-21 حاصل کیے تھے جن میں سے صرف 113 ہی اس وقت چلتی ہوئی حالت میں موجود ہیں اور تیجس کے مسائل نے ان کو بدلنے کے منصوبے کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

‏1970ء سے اب تک بھارتی فضائیہ کے 170 پائلٹ اور 40 عام شہری صرف مگ-21 طیاروں کے حادثات میں مارے گئے ہیں۔ مگ-21 کی تباہی کے کم از کم 14 واقعات تو ایسے ہیں جو 2010ء سے 2013ء کے دوران پیش آئے۔

تو ان کے متبادل کے طور پر پیش کیے جانے والے طیارے تیجس کا یہ حال ہے کہ 60 فیصد طیارے گراؤنڈ ہیں کیونکہ ان کے مسائل کا فوری حل موجود نہیں کیونکہ یہ انتہائی بنیادی نوعیت کے مسئلے ہیں جیسا کہ ڈیزائن، معیار اور ساخت کے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اب بھی کسی جنگ کے لیے مکمل طور تیار نہیں ہے۔

بھارت کی دفاعی مصنوعات دنیا بھر میں اپنی خامیوں، ناکامیوں اور گھٹیا معیار کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، یہی بنیادی وجہ ہے کہ 1985ء میں شروع ہونے والا تیجس پروجیکٹ آج 35 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود عملی رُوپ نہیں دھار سکا۔ اس کو پہلی بار پرواز قابل ہی تب قرار دیا گیا جب منصوبے کے آغاز کو 26 سال گزر چکے تھے یعنی 2011ء میں۔

کم ہی لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ HAL کا پہلا ناکام منصوبہ نہیں۔ اس سے پہلے مقامی طور پر اسمبل کیا گیا HF-24 ماروت پروجیکٹ بھی تھا، جسے 1955ء میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے پسِ پردہ مقصد بھی یہی تھا جو اب تیجس پروجیکٹ میں ہے۔ اس کے بھی کئی پروٹوٹائپس بنے اور 25 سال تک ایسی ہی بدترین ڈیولپمنٹ اور کئی ڈیزائن خامیوں، کینوپی کے مسائل اور ڈھانچے کی کمزوریاں دور کرتے کرتے بالآخر بھارتی فضائیہ نے HAL سے یہ طیارے خریدنے سے انکار کر دیا اور ماروت پروجیکٹ 1980ء کی دہائی میں اپنی موت آپ مر گیا۔ اس کے کُل چار پروٹوٹائپس بنے، لیکن وہ مسائل تک حل نہ ہو سکے، جو پہلے پروٹوٹائپ میں موجود تھے۔

پھر اسی دہائی میں لائٹ کومبیٹ ایئر کرافٹ (LCA) ‘ تیجس’ کے منصوبے کا آغاز کیا گیا تاکہ صفر سے ایک ملٹی رول فائٹر بنایا جائے جو مگ-21 کی جگہ لے۔

بھارتی فضائیہ نے 1985ء میں ہی اس کی فلائٹ پرفارمنس، سسٹم پرفارمنس، بھروسہ مندی اور اس کی مرمت کے معیارات پر مبنی ایک دستاویز پیش کی اور آج تک ان معیارات پر پورا اترنے کی کوشش ہی ہو رہی ہے۔

آج تیجس کے فلائی بائے وائر سسٹم میں مسائل ہیں۔ DRDO کی ڈیزائن کردہ کینوپی الیکٹریکل سسٹم میں خامی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک اور دو سیٹوں والے دونوں قسم کے طیاروں میں کسی حادثے کی صورت میں پائلٹ کے نکلنے میں مسئلہ ہو سکتا ہے جو یا تو بہت مشکل ہوگا یا تقریباً ناممکن۔ تیجس میں چند واقعات تو ایسے پیش آئے ہیں کہ کو-پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے پائلٹ کی جان خطرے میں پڑ گئی۔

ذرائع کے مطابق HAL اور DRDO اس کا الزام بھارتی فضائیہ اور اس کی خراب تربیت پر لگاتے ہیں۔ شاید یہی ناقص تربیت تھی کہ جس کی وجہ سے بھارت 27 فروری 2019ء کو پاکستان کے خلاف فضائی مڈبھیڑ میں اپنے دو لڑاکا طیارے مگ-21 اور سو-30 MKI کھو بیٹھا تھا۔ نہ صرف ایک ونگ کمانڈر پاکستان کے ہاتھوں گرفتار ہوا بلکہ بھارتی اہلکاروں کے ہاتھ پیر اتنے پھول گئے کہ انہوں نے اپنا ہی Mi-17 V5 ہیلی کاپٹر مار گرایا۔

بہرحال، تیجس کی یہی بنیادی ڈیزائن خامیاں تھیں کہ جن کی وجہ سے بھارتی بحریہ نے حکومت کے تمام تر دباؤ کے باوجود تیجس کو بحریہ میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ پروپیگنڈے پر پلنے والی مودی حکومت کے لیے باعث شرم تھا، کیونکہ انہیں توقع تھی کہ بھارتی بحریہ کی جانب سے تیجس کا آرڈر دیے جانے سے وہ ملک کی عسکری صلاحیتوں کا ڈھنڈورا پیٹیں گے۔

واضح رہے کہ بحریہ کے لیے تیجس پروٹوٹائپس کی تیاری پر حکومت نے 8 ہزار کروڑ یعنی 1.1 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی ہی بحریہ کے ہاتھوں یہ شرمندگی اٹھانی پڑی۔

اس کے برعکس پاکستان کے جے ایف-17 کے بلاک 1، بلاک 2 اور دو نشستوں والے ‘براوو’ نہ صرف پاک فضائیہ میں عملی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں بلکہ ملک سے باہر برما کی فضائیہ تک میں شامل ہو چکے ہیں۔ نائیجیریا کی فضائیہ کے جے ایف-17 بس کچھ ہفتوں میں ہی اس کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ آذربائیجان، ارجنٹینا اور ملائیشیا کی فضائیہ ان طیاروں میں دلچسپی لے رہی ہیں اور باضابطہ آرڈر دینے کے لیے اس طیارے کا جائزہ لے رہی ہیں۔ جبکہ جے ایف-17 کے بلاک 3 کی تیاریاں بھی اپنے عروج پر ہیں۔

اس کے مقابلے میں دنیا کی کسی فضائیہ یا بحریہ نے تیجس کے ایک جہاز کا آرڈر تک نہیں دیا، سوائے بھارتی فضائیہ کے۔ اب 60 فیصد تیجس طیاروں کا HAL کی کے ڈیولپمنٹ اور رپیئر مراکز میں ہونا اس کے برآمد ہونے کے امکانات کو مزید ٹھیس پہنچائے گا۔

بھارت کی فضائیہ سیاسی طور پر مرکزی حکومت کے کافی زیرِ اثر ہے، اس لیے وہ 6.25 ارب ڈالرز میں 83 تیجس طیاروں کا آرڈر دے چکی ہے جو 2030ء تک ملیں گے، اگر حالات ٹھیک رہے تو۔ لیکن یہ طیارے بھارت کی فضائی جنگ کی تیاریوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوں گے اور شاید بھارت کا 42 آپریشنل اسکواڈرن رکھنے کا خواب کبھی پورا نہ ہونے دیں۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے