13.3 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

‘سات چوٹیاں’، داستان ہر بر اعظم کے بلند ترین پہاڑ کی

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

‏’Seven Summits’ یعنی ‘سات چوٹیوں’ کا مطلب ہے ہر براعظم کی بلند ترین چوٹی۔ ایشیا میں ہمالیہ سے لے کر افریقہ اور انٹارکٹیکا تک پھیلی یہ ‘سات چوٹیاں’ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی نظروں میں رہتی ہیں اور اب تک صرف 350 ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے یہ ساتوں چوٹیاں سر کر رکھی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان میں کتنے پاکستانی ہیں؟

معروف خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ پہلی پاکستانی تھیں کہ جنہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ یہ ساتوں چوٹیاں بھی سر کیں۔ 2014ء میں ان کے اس کارنامے کے بعد تقریباً 4 سال بعد ان کے بھائی علی بیگ بھی ان کوہ پیماؤں میں شامل ہو گئے۔ یوں ان دونوں بہن بھائیوں کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہر بر اعظم کی بلند ترین چوٹی پر پاکستان کا پرچم لہرایا ہے۔

یہ ‘سات چوٹیاں’ کون سی ہیں؟ اس پر ذرا سا اختلاف ہے، اور اختلاف دراصل ایک ہی چوٹی پر ہے کہ آخر بر اعظم آسٹریلیا کی بلند ترین چوٹی کون سی ہے؟ معروف اطالوی کوہ پیما رینالڈ میسنر کہتے ہیں کہ یہ انڈونیشیا کے علاقے پاپوا میں واقع پنجک جایا ہے یا پھر آسٹریلیا کی ماؤنٹ کوشچوشکو۔ اختلاف کی وجہ دراصل بر اعظم کی تعریف ہے۔ کیا بر اعظم میں صرف جزیرہ آسٹریلیا شامل ہوگا یا اس تعریف کا اطلاق اوقیانوسیہ (Oceania) پر بھی ہوگا۔

ایک عرصے تک تو مونٹ بلانک کو یورپ کی بلند ترین چوٹی سمجھا جاتا تھا لیکن اب سب کا اتفاق ہے یہ اعزاز جارجیا کی سرحد پر واقع ماؤنٹ البرس کو حاصل ہے۔

امریکی کوہ پیما رچرڈ بیس وہ پہلے انسان تھے کہ جنہوں نے ہر بر اعظم کی بلند ترین چوٹی پر قدم رکھا۔ ان کے مطابق ماؤنٹ کوشچوشکو آسٹریلیا کی بلند ترین چوٹی ہے، اس لیے ان کی فہرست کو ‘بیس لسٹ’ کہا جاتا ہے جبکہ رینالڈ میسنر کے مطابق یہ اعزاز انڈونیشیا کی پنجک جایا کے پاس ہے۔

بہرحال، بیس اور میسنر دونوں کی فہرست پر مبنی ان ‘سات’ بلکہ ‘آٹھ’ چوٹیوں کی تفصیل حاضر ہے:

1۔ ماؤنٹ ایورسٹ، ایشیا

ماؤنٹ ایورسٹ نہ صرف بر اعظم ایشیا بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹی بھی ہے۔ سلسلہ کوہِ ہمالیہ میں چین کے علاقے تبت اور نیپال کی سرحد پر واقع ماؤنٹ ایورسٹ سطحِ سمندر سے 8,848 میٹر یعنی 29,029 فٹ بلند ہے۔ تبت اور نیپال کے مقامی لوگ اسے چومولنگما یعنی "مقدس ماں” کہتے ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے تقریباً 5 ہزار لوگ اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُن کی کامیابی کی شرح بھی اچھی خاصی ہے، یعنی 77 فیصد۔ ایک تین چوتھائی سے زیادہ کوہ پیما اس مہم میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ان ‘سات چوٹیوں’ میں تکنیکی طور پر دشوار ترین ہے اور صرف تجربہ کار کوہ پیما ہی اسے سر کر سکتے ہیں۔


2۔ اکونکاگوا، جنوبی امریکا

اکونکاگوا اس فہرست کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے اور بر اعظم جنوبی امریکا کا بلند ترین مقام بھی۔ یہی نہیں بلکہ یہ جنوبی اور مغربی نصف کرّہ (hemisphere) میں بھی بلند ترین چوٹی ہے، جو سطحِ سمندر سے 6,961 میٹر یعنی 22,841 فٹ اونچی ہے۔ یہ ارجنٹینا کے علاقے مینڈوزا میں واقع ہے۔


3۔ ڈینالی، شمالی امریکا

ڈینالی کو پہلے ‘ماؤنٹ میک کنلی’ کہا جاتا تھا، جو براعظم شمالی امریکا کی بلند ترین چوٹی ہے۔ سطحِ سمندر سے 6,194 میٹر یعنی 20,321 فٹ بلند ڈینالی امریکی ریاست الاسکا میں واقع ہے۔

امریکا نے اس چوٹی کو اپنے سابق صدر ولیم میک کنلی کا نام دیا تھا، اس کے باوجود کہ انہوں نے زندگی میں کبھی الاسکا نہیں دیکھا تھا۔ بہرحال، اگست 2015ء میں اسے اس کا اصل اور مقامی نامی ڈینالی دیا گیا۔

اس چوٹی کو سر کرنا سخت موسمی حالات کی وجہ سے دشوار سمجھا جاتا ہے۔ 2017ء تک اسے 32 ہزار افراد نے سر کرنے کی کوشش کی، جن میں سے 60 فیصد ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئے جبکہ 100 کی تو جانیں چلی گئیں۔


4۔ کلیمنجارو، افریقہ

ماؤنٹ کلیمنجارو افریقہ کا بلند ترین پہاڑ ہے اور ‘سات چوٹیوں’ میں بلندی کے لحاظ سے اس کا نمبر چوتھا ہے۔ کلیمنجارو دراصل ایک آتش فشاں ہے، جو تنزانیہ کے علاقے موشی میں واقع ہے۔ اس کے اردگرد کوئی دوسرا پہاڑ نہیں اس لیے اسے ‘دنیا کا بلند ترین تنہا پہاڑ’ کہا جاتا ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘سفید پہاڑ’ جو غالباً اس کی چوٹی پر موجود برف کی وجہ سے دیا گیا ہوگا۔ کلیمنجارو کم ترین تکنیکی مہارت کے ساتھ بلند ترین مقام تک پہنچنے کے لیے آسان ترین جگہ ہے کیونکہ اسے سر کرنا اتنا دشوار نہیں ہے۔


5۔ ماؤنٹ البرس، یورپ

ماؤنٹ البرس بھی دراصل ایک آتش فشاں ہے، جو روس میں مغربی قفقاز کے پہاڑی سلسلے میں جارجیا کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ یہ 5,642 میٹر یعنی 18,510 فٹ کی بلندی کے ساتھ یورپ کا بلند ترین پہاڑ ہے۔ یہ ‘سات چوٹیوں’ میں سب سے آسان سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس پر ایک انوکھا کیبل کار سسٹم ہے جو 3,810 میٹر بلندی تک جاتا ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا لوگ اسے سمجھتے ہیں۔ برف، تیز ہواؤں اور بلندی کی وجہ سے اس کے اپنے چیلنجز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چوٹی پر سالانہ 15 سے 30 اموات ہوتی ہیں، جو ساتوں چوٹیوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہے لوگوں کی غیر منظم اور بغیر ساز و سامان کے چوٹی سر کرنے کی بے وقوفانہ کوششیں۔


6۔ ماؤنٹ ونسن، انٹارکٹیکا

سطح سمندر سے 4,892 میٹر یعنی 16,049 کی بلندی کے ساتھ ماؤنٹ ونسن بر اعظم انٹارکٹیکا کی بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ ایلسورتھ کے سلسلے میں قطب جنوبی سے 1,207 کلومیٹرز کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ بلاشبہ ‘سات چوٹیوں’ میں سب سے دُور دراز پہاڑ ہے۔

انٹارکٹیکا کا بے رحم موسم، ناخوشگوار حالات، درکار تکنیکی مہارت، سخت ٹھنڈ، کم درجہ حرارت، رسائی میں مشکلات اور سر کرنے کے لیے بہت کم وقت ملنے کی وجہ سے بہت کم لوگوں نے ماؤنٹ ونسن کو سر کیا ہے۔ یہاں کا درجہ حرارت منفی 80 درجہ سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے جو اسے ‘سات چوٹیوں’ میں سب سے سرد بناتی ہے۔ البتہ ‘سات چوٹیوں’ کا حصہ ہونے کی وجہ سے حال ہی میں اسے کافی شہرت ملی ہے۔ اسے دسمبر سے فروری کے دورنا سر کیا جاتا ہے جب انٹارکٹیکا میں گرمی کا موسم ہوتا ہے اور درجہ حرارت نسبتاً بہتر منفی 20 درجے تک آ جاتا ہے اور سورج بھی سر پر 24 گھنٹے چمکتا رہتا ہے۔


7۔ ماؤنٹ کوشچوشکو، آسٹریلیا

ماؤنٹ کوشچوشکو آسٹریلیا کی بلند ترین چوٹی ہے اور ‘سات چوٹیوں’ میں سب سے چھوٹی بھی۔ اس کی چوٹی تک پہنچنا سب سے آسان ہے اور صرف تین گھنٹے میں اسے عبور کیا جا سکتا ہے۔ ویسے تو سال کے کسی بھی حصے میں ماؤنٹ کوشچوشکو کو سر کیا جا سکتا ہے لیکن عموماً لوگ یہاں جون سے اکتوبر کے دوران آتے ہیں۔ ہر سال 1 لاکھ سے زیادہ لوگ اسے سر کرتے ہیں یعنی یہ ‘سات چوٹیوں’ میں سب سے زیادہ مرتبہ سر کی جاتی ہے۔


7۔ پنجک جایا، بر اعظم آسٹریلیا

رینالڈ میسنر کی فہرست ذرا سی مختلف ہے، وہ ماؤنٹ کوشچوشکو کی جگہ انڈونیشیا کے جزیرہ نیو گنی میں واقع پنجک جایا کو اس بر اعظم کا سب سے بلند پہاڑ سمجھتے ہیں، جو اس لحاظ سے درست ہے کہ بر اعظم آسٹریلیا میں محض آسٹریلیا شمار نہیں ہوتا بلکہ یہ تمام علاقہ بھی اس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

بہرحال، پنجک جایا سطحِ سمندر سے 4,884 میٹر یعنی 16,024 فٹ بلند ہے۔ اس چوٹی کو Carstensz Pyramid بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ماؤنٹ کوشچوشکو سے کہیں زیادہ مشکل ہے، اس لیے بیشتر کوہ پیما ‘میسنر لسٹ’ ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور پنجک جایا جاتے ہیں۔

ویسے اس فہرست سے کوہ پیماؤں کو ایک اچھا خیال بھی آیا اور انہوں نے ‘دوسری سات چوٹیوں’ کی فہرست بنا ڈالی یعنی ہر بر اعظم کی دوسری بلند ترین چوٹی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست کی تمام چوٹیاں کہیں زیادہ مشکل ہیں اور انہیں سر کرنا ‘سات چوٹیاں’ سر کرنے سے بھی بڑا کارنامہ ہے۔ خاص طور پر کے2 کی وجہ سے، جو ایشیا اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے لیکن ماؤنٹ ایورسٹ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس فہرست کی تمام چوٹیوں کو پہلی بار 2013ء میں کرسچن اسٹینگل نے سر کیا تھا۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے