13.3 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

خبردار! یہ دل کے دورے کی علامات ہو سکتی ہیں

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

کرونا وائرس نے حال ہی میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز مرض کی صورت اختیار کر لی ہے، لیکن اس سے پہلے یہ "اعزاز” دل کے امراض کو حاصل تھا کہ جو دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے دل کے دورے کی بروقت تشخیص بہت ضروری ہے تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے۔

لیکن آپ کو پتہ کیسے چلے گا کہ فلاں علامت دراصل دل کے دورے کی ہے؟ تو آئیے آج آپ کو کچھ علامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو دل کے دورے کا سبب بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ

سینے میں درد

سینے میں درد ہو یا طبیعت میں بے چینی کا احساس ہو تو جان لیں کہ یہ دل کے دورے کی سب سے عام علامت ہے جسے ‘انجائنا’ کہتے ہیں۔ انجائنا تب ہوتا ہے جب شریانوں میں کسی بھی رکاوٹ کے نتیجے میں خون کی فراہمی میں مشکل پیش آئے۔ تنگ شریانوں کی وجہ سے دل کے پٹھوں اور جسم کے باقی حصوں کو بھی خون کی فراہمی رک سکتی ہے۔ تقریباً 50 فیصد دل کے دورے کی ابتدائی علامات یہی ہوتی ہیں اور یہ علامات دنوں بلکہ ہفتوں تک بھی جاری رہ سکتی ہیں۔

ابتدائی علامات میں شامل ہیں:

  • سینے پر معمولی سا بوجھ، درد یا جلن، جو گھٹتی بڑھتی رہے
  • بے چینی کا احساس، ویسا ہی جیسا بدہضمی میں ہوتا ہے
  • بے چینی جو کسی بھی جسمانی سرگرمی سے مزید بڑھے اور آرام کرنے سے کم ہو جائے

سانس پھولنا

صرف چند سیڑھیاں چڑھنے کے بعد آپ کا سانس اس طرح چلنے لگے کہ گویا آپ ابھی میراتھون دوڑ مکمل کر کے آئے ہیں، تو یہ علامت اس امر کی ہو سکتی ہے کہ آپ کا دل جسم کو اچھی طرح خون فراہم نہیں کر پا رہا۔ سانس سینے میں درد کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی ہو سکتا ہے اور یہ دل کے دورے کی ایک خاموش لیکن عام علامت ہے۔ کبھی کبھار یہ بے چینی کے ساتھ بھی ہوتا ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ سانس پہلے پھولنے لگے اور بے چینی بعد میں ہو۔


سر چکرانا، غشی

دل کے دورے کی ایک علامت یہ ہے کہ آپ کا سر چکرانے لگے اور ممکنہ طور پر ساتھ ہی غشی بھی طاری ہونے لگے۔ ویسے تو یہ علامات مردوں اور عورتوں دونوں میں ظاہر ہوتی ہیں لیکن سانس پھولنا عورتوں میں زیادہ عام ہے۔ اگر آپ کو وہ کام کرنے میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے جو پہلے آپ باآسانی کیا کرتے تھے، جیسا کہ بستر کی چادریں ٹھیک کرنا یا چہل قدمی کرنا، تو ڈاکٹر سے فوراً اور لازماً رجوع کریں کیونکہ یہ دل کے دورے کی ایک خفیہ علامت ہو سکتی ہے۔

کمزوری کا احساس، ذہنی اضطراب

دل کے دورے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ کو کمزوری اور ناخوشگواری کا احساس ہو۔ ذہنی اضطراب محسوس ہونا اور ایسا لگے کہ بغیر کسی وجہ کے آپ کو وحشت طاری ہو رہی ہے۔


متلی

مردوں کی طرح عورتوں میں بھی سینے کی تکلیف اور بے چینی دل کے دورے کی عام علامات ہیں۔ لیکن خواتین کی چند علامات ایسی ہیں جو مردوں سے مختلف ہیں، جیسا کہ سانس پھولنا، متلی/الٹی آنا اور گردن کے پچھلے حصے اور جبڑوں میں درد ہونا۔


ٹھنڈے پسینے

آپ کو اچانک ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہو جائیں اور جلد چپچپی سی محسوس ہو تو یہ بھی دل کے دورے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بند شریانوں کی وجہ سے دل کو خون فراہم کرنے کے لیے زیادہ کوشش کرنا پڑتی ہے اور اس اضافی کوشش کے دوران پسینہ ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو نیچے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی عورتیں ہوشیار ہو جائیں کہ ٹھنڈے پسینے محض سنِ یاس کی علامت نہیں ہیں بلکہ یہ دل کے کسی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔


بازوں، کندھوں یا گردن میں تکلیف

دل کے دورے سے محض آپ کا دل ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کا احساس پورے جسم کو ہوتا ہے۔ لیکن کون سا درد دل کے دورے کا ہے، اس کو سمجھنا ہو سکتا ہے مشکل لگے۔ اس لیے ان جگہوں پر تکلیف محسوس ہو تو ہوشیار ہو جائیں:

  • بازو (ایک یا دونوں)
  • گدّی
  • گردن
  • جبڑے
  • پیٹ

یہ علامات ہر شخص میں الگ الگ ہو سکتی ہیں۔ مثلاً چند لوگوں کو دل کے دورے کے بعد گردن کے پچھلے حصے میں ہونے والی تکلیف ایسی لگتی ہے گویا کسی نے انہیں رسّی سے باندھ دیا ہو۔


شدید تھکن

تھکن کئی امراض اور ادویات کی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن مستقل اور نئی قسم کی تھکن دل کے کسی مسئلے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ یہ علامت شاذ و نادر ہی ظاہر ہوتی ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ دل کے دورے کا سبب ہو۔

کبھی کبھار دل کا دورہ خاموش بھی ہوتا ہے اور اس کا پتہ نہیں چلتا جب تک کہ علامات ظاہر نہ ہو جائیں اور تشخیص نہ ہو۔ اس لیے جیسے ہی آپ کو گڑبڑ محسوس ہو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا امراضِ قلب کے قریبی مرکز پر جائیں۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے