13.3 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

‏68 سال سلاخوں کے پیچھے گزارنے والا قیدی بالآخر رہا ہو گیا

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

یہ جو لیگن ہیں، امریکا کے معمر ترین اور سب سے طویل عرصے تک جیل کاٹنے والے قیدی، جنہوں نے تقریباً 7 دہائیوں سلاخوں کے پیچھے گزاریں اور بالآخر پنسلوینیا کی جیل سے رہا کر دیے گئے ہیں۔

لیکن کو فروری 1953ء میں اس وقت قید کیا گیا تھا جب ان کی عمر صرف 15 سال تھی اور انہیں چار دیگر لڑکوں کے ساتھ فلاڈیلفیا میں ایک ڈکیتی کی واردات کرنے اور اس دوران قتل و غارت کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس واقعے میں چھ افراد زخمی ہوئے جبکہ دو لوگوں کی جان گئی تھی۔

گو کہ عدالت میں لیگن کو قتل کے دو الزامات کا سامنا تھا، وہ مجرم بھی ثابت ہوئے لیکن لیگن آج بھی کہتے ہیں کہ مین نے 8 میں سے ایک آدمی کو چھرا ضرور مارا تھا لیکن کسی کو قتل نہیں کیا تھا۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ 1953ء میں جرم کی دنیا میں قدم رکھنے والا بچہ تو کہیں کھو چکا ہے، لیکن 2021ء میں جو شخص قید خانے سے باہر آیا ہے، وہ 83 سال کا ہے، جو مکمل طور پر بدل چکا ہے اور اب کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ اس سے جو غلطی سرزد ہوئی، اس کا بدلہ اس نے پوری طرح چکا دیا ہے اور اب مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام آزادی سے گزاریں۔

رہائی کا یہ بہت طویل اور مشکل رہا۔ 1970ء کی دہائی میں لیگن اور ان کے ساتھیوں کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ پیرول پر رہا کرنے کا انتخاب ملا تھا۔ ان کے دو ساتھیوں نے تو یہ پیشکش قبول کر لی البتہ لیگن نے اسے مسترد کر دیا۔ 2017ء میں بھی پیرول کی دوسری پیشکش مسترد کی جب امریکی سپریم کورٹ نے انہیں اس کا حقدار قرار دیا تھا۔ اس سے ایک سال پہلے 2016ء میں ایک عدالت نے قرار دیا تھا کہ نو عمری میں کسی جرم کرنے کے نتیجے میں عمر قید کی سزا پانے والوں کو پیرول پر رہائی کا موقع نہ دینا غیر قانونی ہے۔ اس فیصلے کی بدولت لیگن کی سزا بھی 35 سال رہ گئی اور وہ پیرول پر رہائی کے حقدار قرار پائے کیونکہ وہ 60 سال سے زیادہ کا عرصہ قید میں گزار چکے تھے۔

لیکن انہوں نے اس درخواست کو بھی مسترد کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پیرول انہیں وہ آزادی نہیں دے سکتا جس کے وہ حقدار ہیں، خاص طور پر اتنی دہائیوں کے بعد۔

پیرول انہیں اس شرط پر رہائی دیتا کہ وہ اپنی باقی پوری زندگی کڑی نگرانی میں گزاریں گے۔ لیکن وکیل کے مطابق لیگن ان شرائط کے ساتھ رہائی نہیں چاہتے تھے۔

‏15 سال سے ان کا مقدمہ لڑنے والے وکیل بریڈلی برج کہتے ہیں کہ نو عمری میں سرزد ہونے والے کسی جرم کی بنیاد پر تاعمر قید کی سزا غیر آئینی ہے۔

مقامی سطح پر ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد برج نے وفاقی عدالت کا رخ کیا اور نومبر 2020ء میں مقدمہ جیت لیا، جس کی بنیاد پر بالآخر 2021ء میں لیگن کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے