15.6 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

ذہنی تناؤ کی چار علامات

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

ہو سکتا ہے کچھ لوگ بظاہر خوش و خرم نظر آتے ہوں، لیکن ان کے اندر ایک جنگ چل رہی ہو اور مسکراہٹ دراصل اس اضطراب کو چھپانے کی ناکام کوشش ہو۔ اکثر و بیشتر تو یہ آسان ہوتا ہے کہ آپ اپنے کسی عزیز کو ذہنی تناؤ میں دیکھ کر پہچان جائیں، لیکن کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو ظاہر نہیں ہوتیں۔

ماہرین کے مطابق بسا اوقات تو یہ خود کو بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، اس لیے لوگ کسی سے مدد کے طالب بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی کو اپنے احساسات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یوں معاملات وقت کے ساتھ ساتھ بگڑتے چلے جاتے ہیں۔

ذہنی صحت کے مسائل پر اگر توجہ نہ دی جائے تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ بہت اہم ہے کہ آپ اپنے اہلِ خانہ خاص طور پر نوعمر لڑکے لڑکیوں کو بغور دیکھیں کہ کہیں ان میں یہ علامات تو موجود نہیں؟

دعوت نامے مسترد کرنا

اگر کسی شخص کی سماجی سرگرمیاں اچانک محدود ہونے لگے تو یہ علامت ہوسکتی ہے کہ اس کے ساتھ ذہنی مسائل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ذہنی تناؤ اور اضطراب کے شکار افراد دعوت نامے مسترد کرنے لگتے ہیں اور گھر سے باہر نکلنے کے مواقع چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت اپنے کمرے ہی میں گزرتا ہے اور ان کی گفتگو بھی معمول سے گھٹ جاتی ہے۔

موڈ خراب ہونا

بلاشبہ کسی کا کوئی بھی دن بُرا ہو سکتا ہے، لیکن اگر موڈ مسلسل دو ہفتوں تک خراب رہے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ سنجیدہ ہو گیا ہے۔

ذہنی تناؤ کی تشخیص کے لیے آپ کو کم از کم دو ہفتے تک ان علامات کو دیکھنا چاہیے۔ ایک، دو دن تو چڑچڑا پن اور موڈ کی تبدیلی چلتی ہے لیکن جسے ڈپریشن ہو اس کا ہر وقت موڈ ہر وقت خراب رہتا ہے۔ مختلف معاملات پر ان کا جواب یا ردعمل منفی ہو سکتا ہے۔ چڑچڑا پن، بات بات پر رونا، ہر بات کا دکھ اور مزاج میں بہتری نہ ہونا اس کی واضح علامتیں ہیں۔ یہ دراصل ناامیدی کی کیفیت ہے۔

خود پر توجہ کا خاتمہ

آپ کا کوئی قریبی ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہوگا تو اس کی معمولاتِ زندگی میں دلچسپی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ تناؤ کے شکار افراد خود پر توجہ نہیں کرتے اور اپنی دیکھ بھال بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر کسی کو نہانے، دھونے یا بال صاف کرنے میں بھی دلچسپی نہ رہے تو خبردار ہو جائیں۔ میک اپ کی شوقین خواتین اگر اچانک سجنا سنورنا بند کر دیں تو یہ علامت ہوتی ہے کہ ان کی اپنی ذات میں دلچسپی ختم ہو چکی ہے جو ذہنی تناؤ کی علامت ہے۔

معمولات میں تبدیلیاں

روزمرہ معمولات میں تبدیلی آنا بھی کسی کے ڈپریشن کا شکار ہونے کی عام علامت ہے۔ لوگ کھانا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان کی بھوک کم ہو جاتی ہے اور کھانے میں دلچسپی بھی نہیں رہتی۔ ان کی نیند کے معمولات بھی متاثر ہوتے ہیں، یا تو رات بھر کروٹیں بدلتے رہیں گے یا پھر دیر تک سوتے رہیں گے یا سرے سے نیند ہی نہیں آتی۔ کسی بھی قسم کی تبدیلی ہو، چاہے بہت زیادہ نیند لینا یا بہت کم سونا، یہ ڈپریشن کی علامت ہے۔

ماہرین کے مطابق کھانے اور سونے کے معمولات میں تبدیلی، اپنا خیال نہ رکھنا، سماجی طور پر سب سے کٹ جانا اور موڈ میں تبدیلیاں وہ عام علامتیں ہیں جو کوئی بھی شخص محسوس کر سکتا ہے۔

ڈپریشن کچھ لوگوں کے ذہن میں اتنا سرایت کر جاتا ہے کہ وہ منفی ذہنیت کے حامل بن جاتے ہیں جیسا کہ اگر کوئی انہیں دعوت پر بلائے تو کہتے ہیں مجھے تو بس نجانے کیا سوچ کر بلایا ہوگا، یا کوئی مجھ سے ملنا کیوں پسند کرے گا؟ یا اچھے کپڑے پہننے کا کیا فائدہ؟ مجھے بھلا کون دیکھے گا؟ وغیرہ۔

یہ منفی سوچ اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ذہنی مسائل سے دوچار افراد یہ تک سوچنے لگ جاتے ہیں کہ میرے زندہ رہنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ایسے خیالات پیدا ہوں تو ان علامات کو خود سمجھنے کی کوشش کریں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اس صورت حال میں ایسی سوچوں کو دبانے کے لیے لوگ نشے کی طرف بھی راغب ہو جاتے ہیں، اس لیے ان کے اہلِ خانہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے