13.3 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

پاکستان مسلسل دوسرے مہینے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے پاکستان کو جنوری میں مسلسل دوسرے مہینے 229 ملین ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا ہے، جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو صفر پر لانے کی کوشش کرنے والی حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ البتہ اگر ماہانہ بنیادوں پر دیکھیں تو خسارہ 64.87 فیصد کم ضرور ہوا ہے، کیونکہ دسمبر 2020ء میں یہ 652 ملین ڈالرز تھا۔

مالی سال ‏2020-21ء کے ابتدائی سات مہینوں کو ملائیں تو کرنٹ اکاؤنٹ اب بھی 921 ملین ڈالرز کے ساتھ مثبت میں ہے، البتہ ہر گزرتے مہینے کے ساتھ اس کا سرپلس حجم گھٹتا جا رہا ہے۔

گزشتہ مالی سال یعنی ‏2019-20ء کے ابتدائی 7 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 ارب ڈالرز تھا جبکہ پورے مالی سال میں یہ 2.97 ارب ڈالرز ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکومت 2018ء میں 20 ارب ڈالرز کو چھونے والے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو رواں سال کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، لیکن یہ رحجان ظاہر کرتا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک کرنٹ اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھر خسارے میں جا سکتا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تجارتی خسارے کو پاٹنے کے لیے برآمدات میں اتنی بہتری نہیں آئی۔

ڈیٹا کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں برآمدات میں ذرا سی کمی آئی ہے اور یہ 13.897 ارب ڈالرز کی ہوئی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 14.446 ارب ڈالرز تھیں۔ البتہ درآمدات میں رواں مالی سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو 26.044 ارب ڈالرز کے مقابلے میں بڑھتے ہوئے 27.639ارب ڈالرز تک پہنچ گئی ہیں۔ حکومت برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے کئی رعایتیں دے رہی ہے لیکن ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ یہ نمو سُست ہے اور اب بھی گزشتہ مالی سال سے کم ہے۔

ٹیکسٹائل ملک کی کُل برآمدات کا 55 سے 60 فیصد ہے لیکن کپاس کی کم پیداوار نے صنعت کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ ٹیکسٹائل ملز کا کہنا ہے کہ کپاس کی برآمدات موجودہ مالی سال کے اختتام تک 3 ارب ڈالرز تک پہنچیں گی، یعنی یہ فرق مزید بڑھے گا اور بالآخر سال کا اختتام خسارے کے ساتھ ہوگا۔ اب تک ٹیکسٹائل ملز 1 ارب ڈالرز سے زیادہ کی کپاس درآمد کر چکی ہیں۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوری کا خسارہ دسمبر کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ اگر یہ 200 سے 250 ملین ڈالرز ماہانہ کے درمیان رہتا ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال ‏2020-21ء کے اختتام تک صفر ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان FATF کی گرے لسٹ سے باہر نکل جاتا ہے تو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات دونوں میں اضافہ ہوگا اور یوں ملک کو موجودہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے