13.3 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

پاکستان، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت رکھنے والا ملک

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

چند سال پہلے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان میں عام تاثر یہی تھا کہ شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار کو ملک میں بجلی کی کُل پیداوار کے 5 فیصد سے آگے نہیں جانا چاہیے۔

عالمی بینک میں سینیئر انرجی اسپیشلسٹ اولیور نائٹ لکھتے ہیں کہ قابلِ تجدید توانائی یا renewable انرجی کے حوالے سے یہ تاثر مختلف خدشات اور بجلی کے موجودہ نظام پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے تھا، لیکن اصل خدشہ یہ تھا کہ اس سے بجلی کی پیداوار پر آنے والی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے جدید منصوبوں کے حوالے سے ایک ہچکچاہٹ نظر آئی اور پاکستان شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیتوں کا حقیقی فائدہ اٹھانے میں کہیں پیچھے رہ گیا۔

عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی بنانے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ اتنی زیادہ کہ ملک کے رقبے کا صرف 0.071 فیصد حصہ استعمال کر کے پورے پاکستان کی بجلی کی طلب پوری کی جا سکتی ہے، جی ہاں! 1 فیصد سے بھی کم رقبہ! اور اس کی وجہ بالکل سادہ سی ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں سخت گرمی پڑتی ہے اور دھوپ تقریباً پورا سال موجود رہتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ گلوبل وِنڈ اٹلس کے مطابق ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی بہت زیادہ ہے۔

بالآخر حکومت کی درخواست پر 2018ء کے وسط میں عالمی بینک کی ایک ٹیم کو تحقیق کی ذمہ داری سونپی گئی کہ آخر پاکستان کم از کم لاگت کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کے ان ذرائع سے کتنی بجلی پیدا کر سکتا ہے اور اس پر کتنی لاگت آئے گی۔

تحقیق نے اندازہ لگایا کہ "کم از کم” لاگت کے ساتھ 2030ء تک پاکستان موجودہ گنجائش میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کر سکتا ہے، اور اس سے 20 سال میں 5 ارب ڈالرز کا ایندھن بچا سکتا ہے جبکہ توانائی تحفظ میں اضافہ بھی ہوگا اور ماحول کے لیے مضر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی کم ہوگا۔ لیکن اس کے لیے پاکستان کو 2030ء تک سولر اور ونڈ پاور میں تقریباً 24,000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگانے پڑیں گے جبکہ آج یہ صرف 1,500 میگاواٹ ہیں۔ یعنی کہ ہر مہینے 150 سے 200 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہونا چاہیے۔ تحقیق نے حکومتِ پاکستان کو 2025ء تک کُل گنجائش میں 20 فیصد اور 2030ء تک 30 فیصد بڑھانے کا ہدف دیا ہے۔

اولیور نائٹ کے مطابق ہماری حالیہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اگر پاکستان اپنی قابلِ تجدید صلاحیتوں کا استعمال کرے تو سولر اور ونڈ پروجیکٹس کی سوچ سمجھ کر تنصیب سے 20 فیصد ہدف بخوبی حاصل کر سکتا ہے۔ البتہ 30 فیصد کا ہدف حاصل کرنے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری درکار ہوگی، اس میں ہائبرڈ سولر اور وِنڈ پارکس کی تیاری بھی شامل ہے جو مخصوص ٹرانسمیشن لائنز کے بہتر استعمال میں مدد دیں گے۔

گو کہ ہر صوبہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اہم حصہ ادا کر سکتا ہے لیکن بلوچستان اس حوالے سے سب سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی بہترین شمسی توانائی اور بلکہ مغربی بلوچستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی کہیں زبردست صلاحیتوں کی بدولت یہ صوبہ بڑے سولر+وِنڈ فارمز کی تعمیر اور 1,000 کلومیٹرز طویل ایک ہائی وولٹیج DC لائن بچھانے کے لیے بہترین جگہ ہے جس کے ذریعے یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو سکتی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ اس مشکل کام کو شروع کیا جائے: لاگت کو کم کرنے کے لیے بولی کے عمل میں مسابقت ہو، بجلی کی ترسیل کے نئے انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی جائے اور قابلِ تجدید توانائی سے ہونے والی پیداوار کو سلسلہ وار بڑھانے کے لیے پیش بندی کا ایک مرکزی نظام تشکیل دیا جائے۔ بلاشبہ پاکستان میں اس وقت بجلی ضرورت سے زیادہ ہے لیکن اس کی وجہ معاشی نمو سُست ہونا، غالباً کووِڈ-19 کی وجہ سے، ہے لیکن اس دوران شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف منتقلی کا عمل رکنا نہیں چاہیے، کیونکہ ان طریقوں سے ہونے والی پیداوار کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے میں بھی 2 سے 3 سال لگیں گے۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے