22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ زمینی راستے سے بھارت سے کپاس کی درآمد بھی شروع ہو جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد اگلے ہفتے بھارت سے کپاس اور یارن درآمد کرنے کے حوالے سے حتمی رائے دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کپاس کی قلت وزیر اعظم عمران خان کے علم میں ہے۔ ایک مرتبہ اصولی فیصلہ ہو جائے تو باضابطہ حکم نامہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے درونِ خانہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے البتہ حتمی فیصلہ وزیر اعظم کی منظوری سے ہی ہوگا۔ فی الحال مشیر تجارت کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے۔

دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کی بحالی پاکستان میں پیداواری لاگت گھٹانے اور اشیائے خورد و نوش کی مستقل فراہمی کا سبب بن سکتی ہے۔

پاکستان کپاس کی کم از کم 1 کروڑ 20 لاکھ گانٹھوں کی سالانہ طلب رکھتا ہے لیکن اس سال اسے صرف 77 لاکھ گانٹھیں ملنے کی توقع ہے۔ لیکن کپاس سے روئی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ صرف 55 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہی ہوگی۔ یعنی پاکستان کو 60 لاکھ گانٹھوں کی کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے مطابق ملک اب تک 1.1 ارب ڈالرز مالیت کی 6,88,305 میٹرک ٹن روئی درآمد کر چکا ہے۔ یعنی اب بھی 35 لاکھ گانٹھوں کی کمی ہے جو پاکستان کو درآمد سے پوری کرنی ہے۔

کپاس اور یارن کی کمی کی وجہ سے صارفین امریکا، برازیل اور ازبکستان سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں لیکن بھارت سے ہونے والی درآمد کہیں سستی ہوگی اور پاکستان میں تین سے چار دن میں پہنچ بھی جائے گی۔ دیگر ممالک سے درآمد نہ صرف پاکستان کو مہنگی پڑتی ہے بلکہ اس کے پہنچنے میں بھی دو مہینے تک لگ جاتے ہیں۔ یوں برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کا کہنا ہے کہ بھارت سے کپاس اور یارن کی درآمد کی اجازت نہ دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت سے درآمد سے کپاس کی قیمت پر براہ راست اثر پڑے گا۔ اس وقت پاکستان میں کپاس بونے کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اگر اس وقت 10 سے 15 فیصد کپاس بھارت سے درآمد کی جاتی ہے تو اس سے کاشت کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

بھارت نے چند دن پہلے کہا تھا کہ وہ اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتا ہے اور تمام مسائل کو پُر امن انداز میں حل کرنا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی سیزفائر معاہدے کا خیر مقدم کیا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے