8.2 C
Islamabad
منگل, جنوری 25, 2022

چین اور یورپ کو ملانے والی 12 ہزار کلومیٹرز طویل انٹرنیٹ کیبل اور ایک نیا ہنگامہ

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

رواں سال ایک نئی انٹرنیٹ سب میرین کیبل فرانس کے ساحلی شہر مارسے تک پہنچے گی۔ اس کیبل کا نام "PEACE” ہے، جو Pakistan & East Africa Connecting Europe کا مخفف ہے۔ جی ہاں! یہ کیبل چین سے پاکستان میں داخل ہو گی اور اس کے بعد سمندروں سے ہوتی ہوئی 12 ہزار کلومیٹرز سے زیادہ کا سفر کر کے افریقہ سے فرانس پہنچے گی۔

‘بلوم برگ’ کے مطابق اس عظیم منصوبے کی تکمیل کا تمام تر کام چینی ادارے کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ کئی ملکوں کو تیز ترین انٹرنیٹ کا ایک زبردست ذریعہ ملے گا۔ یہ کتنا تیز ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سب میرین کیبل سے ایک سیکنڈ میں نیٹ فلکس کے 90 ہزار گھنٹوں کےبرابر ڈیٹا لایا جا سکتا ہے۔ اس سے چینی کمپنیوں کو یورپ اور افریقہ میں اپنی سروسز بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ منصوبہ انٹرنیٹ کی ‘عالمی سیاست’ میں ایک نیا نقطہ اشتعال (فلیش پوائنٹ) ہے۔ یہ کیبل چینی کمپنی ہینگ ٹونگ آپٹک الیکٹرک کمپنی بنا رہی ہے کہ جس کے ایک تہائی حصص ہواوی ٹیکنالوجیز کے پاس ہیں، یعنی وہ ادارہ جس کی وجہ سے امریکا اور چین کے مابین کشیدگی ہے۔ اس کے علاوہ ہواوی PEACE کیبل کے لینڈنگ اسٹیشنوں اور اس کے انڈر واٹر ٹرانسمیشن گیئر کے لیے سامان بھی بنا رہی ہے۔

گوگل اور فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ PEACE کیبل کا استعمال نہیں کریں گے کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی کافی گنجائش موجود ہے۔ لیکن اگر وہ کرنا بھی چاہیں گے تو ان کے لیے مشکل ہوگا کیونکہ امریکا چینی ٹیلی کمیونی کیشن اداروں کا بائیکاٹ کر رہا ہے اور اس کے لیے قومی سلامتی کا بہانہ بنا رہا ہے۔

سب میرین کیبل بہت تزویراتی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ اس وقت 400 سے زیادہ ایسی کیبلز دنیا بھر میں موجود ہیں اور دنیا کا 98 فیصد انٹرنیٹ ڈیٹا اور ٹیلی فون ٹریفک انہی سے گزرتا ہے۔ ان میں سے کئی کمپنیاں امریکا کی ملکیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکا کو چین کے ہاتھوں انٹرنیٹ پر اپنا غلبہ خطرے میں محسوس ہوتا نظر آ رہا ہے۔

گزشتہ سال اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے زور دیا تھا کہ بین الاقوامی برادری یقینی بنائے کہ انہیں عالمی انٹرنیٹ سے جوڑنے والی سب میرین کیبل چین کی جاسوسی کے لیے استعمال نہ ہو۔

بلاشبہ امریکا کا فرانس پر بھی دباؤ ہو گا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکومت PEACE کیبل کے لیے اس دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ مخصوص ڈیٹا اس کیبل پر نہ لا کر امریکا کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ فرانس کی حکومت چین کو انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کی اس دوڑ سے دُور نہیں کرنا چاہتی کیونکہ فرانس تمام تر فیصلوں کے لیے امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہتا اور یہ بات بالکل واضح ہے۔ گزشتہ ماہ جرمن چانسلر انگیلا مرکیل نے بھی فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں چین کو تنہا کرنے کی کوششوں پر اعتراض کیا تھا۔

لگتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ عالمی سب میرین کیبل سسٹم پر امریکا کی اجارہ داری ختم ہوتی جائے گی۔

انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کونفلکٹ اسٹڈیز (اور نیدرلینڈز میں قائم لائیڈین ایشیا سینٹر کا اندازہ ہے کہ 2019ء تک چین دنیا کی 11.4 فیصد سب میرین کیبلز کا لینڈنگ پوائنٹ، مالک یا سپلائر بن چکا تھا اور اب توقع ہے کہ یہ شرح 2025ء سے 2030ء کے دوران بڑھ کر 20 فیصد ہو جائے گی۔

امریکا چین کا راستہ روکنے کی کئی کوششیں کر چکا ہے۔ 2018ء میں اسی کے دباؤ پر آسٹریلیا نے ہواوی میرین نیٹ ورکس کیبل کا منصوبہ ختم کر دیا تھا، جو جزائر سولومن، پاپوا نیو گنی اور سڈنی کو بحر الکاہل میں واقع چند جزائر سے جوڑتا۔ پھر گزشتہ سال 8 ہزار میل طویل لاس اینجلس-ہانگ کانگ کی کیبل کے ایک حصے کا راستہ تبدیل کر دیا گیا کیونکہ امریکا کے قومی سلامتی عہدیداروں کو اعتراض تھا۔ اس منصوبے میں گوگل اور فیس بک کی فنڈنگ بھی شامل تھی۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے