27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

اب کسی لانگ یا شارٹ مارچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، شبلی فراز

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارسطو سعید غنی سینیٹ انتخابات پر بات کررہے تھے، ان کی کوشش ہے آئے روز شوشے چھوڑے جائیں، ان لوگوں نے ذاتی مقاصد کے لیے اداروں کو استعمال کیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں استحکام آگیا ہے، اب کسی لانگ یا شارٹ مارچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ لوگ اسلام آباد آکر دکھائیں، ان کو ایک گملہ بھی نہیں توڑنے دیں گے۔ حزب اختلاف نے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا اس پر معافی مانگیں اور کفارہ ادا کریں۔ پیپلز پارٹی پہلے فیڈریشن کی جماعت تھی، اب کمزور ہوکر دیہاتی علاقوں میں چلی گئی۔

شبلی فراز نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ علاقائی جماعتوں میں تبدیل ہوگئی ہے، پیپلز پارٹی نے نظریے سے ہٹ کر ذاتی مقاصد کے لیے کام شروع کردیا۔ جس نے مخالفت کرنی ہے کھل کر مخالفت کرے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سیاست میں آئے تو ایک فیکٹری تھی، پھر 29 فیکٹریاں بن گئیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عوام کو خوشحالی نہیں ملی، ان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، ادارے مفلوج تھے۔ عوام کو مصنوعی جھلک دکھائی گئی، عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ سینیٹ میں اکثریت نہیں تھی، اہم ریفارم نہیں لا پارہے تھے، رکاوٹیں تھیں، یہ لوگ 30 سال سے حکومت کررہے تھے۔ ایسے موقع پر بلوچستان سے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنایا گیا، فاٹا سے مرزا آفریدی ہمارے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے آنے کے بعد ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، معیشت بہتر ہورہی ہے، مہنگائی کا چیلنج ہے، وزیراعظم نے مہنگائی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا ہے کہ انتخابات میں اوپن ووٹنگ ہونی چاہیئے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ اوپن ووٹنگ کی بات مان لیں، اب رو رہے ہیں، اوپن ووٹ کے لیے ہم عدالت بھی گئے، آرڈیننس بھی لائے ۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے