28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

‏چاچا اللّٰہ دینو کا سوال – سلمان احمد صوفی

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

اس باپ کا دکھ کوئی نہیں جان سکتا جس کی جوان بیٹی کا لاشہ اٹھائے اک اجنبی لڑکا ہسپتال کے در پہ ڈال جائے، اس ماں کا کلیجہ درد سے پھٹ گیا ہو گا جب اسے معلوم ہوا ہو گا کہ اس کے جگر کا ٹکڑا اک گناہ عظیم کو چھپانے کی پاداش میں تڑپ تڑپ کر اس جہان سے گزر گیا۔

ایسی بے تحاشا کہانیاں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں جن میں لڑکے سگریٹ کے کش لگاتے یہ بھول جاتے ہیں ان کے باپ سارا سال بنا کوئی چھٹی کیے ریڑھی کو دھکیل کر یا اینٹیں اٹھا کر ان کے اک سمسٹر کی فیس پوری کرتے ہیں،مگر صاحبزادے کو آوارگی میں کچھ یاد نہ رہا۔

ہماری یونیورسٹیوں میں تین طرح کے طالب علم ہوتے ہیں پہلے جو واقعی زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں اور تعلیم کو ترقی کی سیڑھی سمجھتے ہیں دوسری قسم ان کی ہے جو بس ڈگری کی خاطر جا رہے ہیں اور ان کو یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ انہوں نے اس کورس میں داخلہ کیوں لیا؟ اس قسم میں لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد اس لیے ڈگری حاصل کر رہی ہوتی ہے کہ ان کو اچھے رشتے مل جائیں کہ لڑکی پڑھی لکھی ہے۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو بس "پھونڈی ” کرنے یا انجوائے منٹ کے لیے جاتی ہے، اس بات سے قطع نظر کہ ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے ان کا مقصد حصول علم نہیں ہوتا۔

جب اسکول اور کالج کے پنجرے میں قید پنچھی کو یونیورسٹی کی آزاد فضا میسر آتی ہے تو اس میں اک عجیب سا "ہوچھا پن” عیاں ہو جاتاہے، لیاقت پور، سکھر، مظفر گڑھ یا ڈیرہ غازی خان کے کسی گاؤں کا نوجوان لڑکا یا لڑکی جب اسلام آباد یا لاہور پہنچتے ہیں تو یقین مانیے ان کو ان شہروں کا ماحول کسی پرائے دیس جیسا لگتا ہے اور اکثر وبیشتر وہ اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، محبت کرنا جرم ہے نہ ہی اظہارِ محبت مگر ان کے کرنے کے انداز پہ کڑے سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔

محبت ہو جانا اور عہدو پیماں کر نا اک فطری اور خوبصورت عمل ہے جس کی نفی ممکن نہیں۔ارسطو نے اگر یہ کہا کہ انسان اک معاشرتی حیوان ہے تو یہ سچ ہے ہم جس بھی معاشرے میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہمیں اس کی اقدار کی پاسداری کرنی ہوتی ہے۔ ہمار مسئلہ یہ ہے کہ ہم جس خطے میں پیدا ہوئے اور رہتے ہیں اس کی مٹی کے خمیر میں جذباتیت کا عنصر زیادہ ہے ہم ہر معاملے میں اعتدال کی بجائے انتہا پسندی کی جانب مائل ہو جاتے ہیں اور اس کی سمت دونوں اطراف میں ہو سکتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کوئی بیچ کی رہ بھی ہو سکتی ہے جس پہ بنا پھسلے بھی چلا جا سکتا ہے۔ ہم کو جب بھی کسی بات کی آزادی میسر آتی ہے ہم مادر پدر آزاد ہو جاتے ہیں حالانکہ آزادی کے ساتھ احساس زمہ داری بھی لازم ہونی چاہیے۔

ہمارا معاشرہ اک گھٹن زدہ معاشرہ ہے جس میں آج کل نوجوان نسل فرسٹریشن کا شکار ہے۔ اوپر سے ہمارے گھروں ،اسکول اور کالجز میں تعلیم کے ساتھ تربیت کی ضرورت کا شدید فقدان دکھائی دیتا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ لڑکے یا لڑکی کی رائے کو شادی کے مقدم جاننا چاہیے مگر ہمارا معاشرہ اور ہم ابھی اتنے آزاد خیال نہیں ہوئے کہ سر راہ یا کسی جامعہ میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو "پروپوز” کریں اور اس بات کو کوئی اہمیت نہ دی جائے بس یہ کہہ دیا جائے یہ "بچوں” کا فعل ہے۔ جس ملک میں اکانومک سروے آف پاکستان کے مطابق 49 فیصد خواتین پڑھی لکھ نہیں سکتیں، خواتین ہماری آبادی کا تقریباً 50 فیصد ہیں، یعنی پاکستان کی آبادی مختلف اندازوں کے مطابق لگ بھگ 20 کروڑ ہے، اس میں 10 کروڑ مرد اور 10 کروڑ خواتین پہ مشتمل ہے۔ ان 10 کروڑ میں سے 5 کروڑ ناخواندہ ہیں جو اپنا نام لکھ یا پڑھ نہیں سکتیں ۔جو 5 کروڑ "پڑھی لکھی” ہیں ان میں سے کروڑوں کی تعداد کا پرائمری یا مڈل کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں غربت کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کے خیال میں بچی پرائمری یا مڈل کی تعلیم تک "جوان” ہو جاتی ہے پھر اس کا گھر سے باہر نکلنا مناسب نہیں لگتا۔ ماں باپ اگر انہیں پڑھانا بھی چاہیں تو معاشرے ،خاندان کے خوف اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسکول سے آگے بچی کو نہیں بھیجتے۔

حالات پہلے سے بہت حد تک دل تو چکے ہیں مگر اب بھی جو والدین بچی کو کالج تک تعلیم دلوا دیتے ہیں مگر یونیورسٹی میں بھیجنا والدین کے لیے اک بہت بڑا سوال ہوتا ہے۔ وہ ملک جہاں والدین پڑھے لکھے نہیں اور سنی سنائی پہ زیادہ یقین رکھتے ہوں جب وہ سوشل میڈیا پہ ایسی وائرل ویڈیوز جو کہ چند دنوں سے گردش کر رہی ہے جس میں اک لڑکی اک لڑکے کو پروپوز کر رہی ہے جس کے بعد وہ آپس میں گلے بھی مل رہے ہیں "موم بتی” مافیا اور ہمارے "لبرلز” کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آ رہی، اگر ہمارا معاشرہ، مذہب اور معاشرتی اقدار اس بات کی اجازت دیتے ہیں تو مجھے اس پہ کوئی اعتراض نہیں۔ اس ویڈیو کے بعد اس لڑکے اور لڑکی کی اک اور ویڈیو بھی آئی جس میں وہ ویڈیو کے وائرل ہونے پہ خوش دکھائی دے رہے تھے ان کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور پورے ملک میں ان کی "مشہوری” بھی ہو گئی مگر مجھے چولستان میں اپنے گاؤں کے چاچا اللہ دینو کا فکر مند چہرہ نظر آیا جنہوں نے اپنی 3 ایکڑ زمین بیچ کر اپنے تمام خاندان کی مخالفت کے باوجود لاہور اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا ہے، اب وہ کس کس کے سوالیہ نگاہوں کا جواب دے گا؟ سب اس سے پوچھیں گے کیا یونیورسٹیوں میں یہی سب ہوتا ہے ؟

لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد یونیورسٹیوں میں مخلوط نظام تعلیم کی بنا پہ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں ۔اس ایک ویڈیو نے نہ جانے کتنی لڑکیوں کو یونیورسٹی میں جانے سے محروم کر دیا ہو گا، یہ ہماری سوچ سے باہر ہے ۔ وہ لوگ جو اس ویڈیو کو بچوں کی ہنسی مذاق یا کوئی برائی نہیں دیکھتے تو ان صادق آباد کی "مائی جنتے” سے پوچھے جس نے اپنا زیور بیچ کر اپنی بیٹی کو بڑے شہر کے میڈیکل کالج میں بھیجا ہے اور خاندان کی طرح طرح کی باتیں سہ رہی ہیں۔ ان کی زندگی میں میں مزید تلخی شامل ہو جائے گی۔ جب سے سوشل میڈیا آیا ہے ہر کوئی مشہور ہونے کے چکر میں نت نئے حربے استعمال کر رہا ہے۔

خدارا اپنی مشہوری کی چاہ میں دوسرے لوگوں کے مستقبل کے ساتھ مت کھیلیں۔ میرا گلا ان لوگوں سے بھی جو اس طرح کی ویڈیوز کی حوصلہ افزائی بنا سوچے سمجھے کرتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ جب ہم سیاست پہ بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں حقائق سے زیادہ اہمیت "پرسیپشن” کی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب عوام کی پرسیپشن بن جائے گی جو کہ یونیورسٹی میں ان کی عزت محفوظ نہیں تو وہ اپنی بیٹیوں کو کیسے ادھر بھیجیں گے ؟ حقائق چاہے اس کے برعکس ہوں مگر عوام کو قائل کر نا بہت مشکل ہوگا۔۔بہت سے چاچا اللہ دینو سوال کریں گے کہ ہم اپنی بیٹی کوکالج یا یونیورسٹی بھیجیں یا نہیں۔۔۔۔۔؟

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

ایک تبصرہ

  1. سلمان صاحب کی تحریر ہمارے معاشرے کی صحیح عکاسی ہے انہوں نے اپنی تحریر میں ہمیشہ ہمارے معاشرے کی کی عکاسی کی ہے ہے اور اس آئینے میں ہمارا معاشرہ بہت بھدا اور بد صورت دکھائی دیتا ہے ۔

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے