28.8 C
Islamabad
اتوار, اگست 1, 2021

پی ڈی ایم تباہ دے – احمد حماد

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

گزشتہ روز تحریک انصاف اور اس کے ہینڈلرز کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی تفصیلات طے کرنے اور پارلیمان سے استعفیٰ دینے کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا۔

طویل اجلاس کے بعد مختصر پریس ٹاک میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ 9 جماعتیں استعفے کے حق میں تھیں جبکہ پیپلز پارٹی نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔

مولانا چند جملے بول کر روسٹرم سے ہٹ گئے۔ صحافیوں حتیٰ کہ مریم نواز کے روکنے پہ بھی نہیں رکے۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ مولانا پیپلز پارٹی کے اس فیصلے سے خوش نہیں۔ جس کا اظہار بعد میں انہوں نے یوں کیا کہ آج اجلاس میں پیپلز پارٹی کا رویہ جمہوری نہیں تھا۔ مزید یہ کہ وہ پریس ٹاک کے لیے آنا نہیں چاہتے تھے۔ انہیں اصرار کر کے لایا گیا۔

اس سے قبل "ذرائع” اس اجلاس کی ساری کارروائی میڈیا کو لِیک کرتے رہے۔ ایک اطلاع کے مطابق پیپلز پارٹی کی شیری رحمان یہ کام کرتی رہیں۔ جبکہ صحافی منصور علی خان نے بتایا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک ایک رکن ساری تفصیلات میڈیا کو لیک کر رہا تھا۔

جب اجلاس کثیر الجماعتی ہو اور اس میں متعدد افراد شامل ہوں تو تفصیلات کی اس طور سے نکاسی پہ بند باندھنا ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حتمی اعلامیے سے پہلے ہی سارا ملک جانتا تھا کہ اجلاس میں مریم نواز اور زرداری کی کیا گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو سے یہ بھی پتا چل رہا تھا کہ پیپلز پارٹی استعفیٰ دینے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں ڈھکے چھپے الفاظ میں یہی کہنے کی کوشش کی تھی کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے لیے یہ طویل اور صبر آزما جنگ نوازشریف کو تنہا لڑنا ہے۔ اور فاتح بھی وہی ہوں گے۔ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم استعمال کر کے بارگیننگ کر رہی ہے۔ جبکہ مولانا اپنے جانثار ساتھیوں کے ساتھ برہنہ شمشیر لیے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے خلاف صف آراء ضرور ہیں لیکن شمشیر زنی کرنے کے لیے جس قوتِ بازو کی ضرورت ہوتی ہے وہ قوت اور بازو، دونوں نوازشریف کے پاس ہیں۔ مولانا کے پاس اسٹریٹ پاور ہے اور جانثار کارکنان ہیں لیکن سیاسی نظام میں ارتعاش پیدا کرنے یا اس کی فیصلہ کن قطع و برید کے لیے پارلیمان میں ان کے پاس مناسب نمائندگی نہیں۔ نوازشریف کے پاس مناسب نمائندگی بھی ہے اور پنجاب کی حد تک فیصلہ کن کارروائی کے لیے درکار عوامی حمایت بھی۔ اس طرح مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کی جوڑی حقیقی معنوں میں کی۔لاک جوڑی ہے۔ ایک کے پاس خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جانثار ساتھیوں پہ مبنی اسٹریٹ پاور ہے تو دوسرے کے پاس ایوانوں میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں عوام کی حمایت بھی۔ دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بھی ہے اور منزل کے حصول کے لیے درکار قوت بھی فراہم کرتا ہے۔

دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ اتنی آسانی سے اور اتنی جلدی اپنے غیر آئینی اختیارات اور حاصل کردہ طاقت سے دستبردار ہونے اور آئین میں درج دائرہ کار تک محدود رہنے پہ آمادہ نہیں۔ بادشاہت کو آسانی سے کون چھوڑتا ہے۔ جبھی، اسٹیبلشمنٹ نے سیاست سے لاتعلق ہو رہنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور درون خانہ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں کھلے عام ہیر پھیر بھی کی اور پیپلز پارٹی کو بی ٹیم کا کردار بھی آفر کیے رکھا جو اس نے بخوشی قبول کر لیا اور بدلے میں مقدمات میں نرمی اور سندھ حکومت کے استحکام ایسی سہولیات حاصل کیں۔

اس ساری صورتحال پہ ملک میں رنگارنگ تبصرے ہو رہے ہیں۔ بعض تبصرے وٹس ایپ احکامات کا کمال ہیں۔ اور یہ وٹس ایپ احکامات جن "بزرگوں” کی طرف سے آتے ہیں، ان بزرگوں کو اب پاکستان کا بچہ بچہ پہچانتا ہے۔ جیسے کہ ایک تبصرہ فلوٹ کروایا گیا کہ جن جماعتوں کا نظام میں اسٹیک نہیں، وہ اس جماعت کو استعفیٰ دینے پہ قائل کر رہی ہیں جن کا اس نظام میں اسٹیک ہے، یعنی پیپلز پارٹی جس کی سندھ میں حکومت ہے اور ایوان بالا میں اس نے ایک سینیٹر بنوایا ہے۔ اب اپوزیشن لیڈر بھی اپنا لانا چاہ رہی ہے۔ اس جماعت نے حال ہی میں سینیٹ چیئرمین کا الیکشن بھی لڑا ہے۔

دیگر تبصرے بھی قابل غور ہیں۔ جیسے کہ بعض مبصرین کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف اس "نااہل” حکومت کو خود 5 سال پورے کروانا چاہ رہے ہیں تاکہ جب پانچ سال بعد یہ "نااہل” لوگ عوام میں جائیں تو اس جماعت کا مکو ہمیشہ کے لیے ٹھپا جائے۔ اور بعضوں کے نزدیک، پی ڈی ایم کا سفر اختتام پذیر ہوا۔ سب گھاگ سیاسی جماعتوں نے مل کر مولانا فضل الرحمان کو دھوکا دیا۔ مولانا کو گزشتہ سرما میں چودھری برادران نے دھوکہ دے کر اسلام آباد سے واپس بھیجا۔ اس بہار میں زرداری نے ان کے ساتھ بےوفائی کی۔

اس موقع پر ایک ستم ظریف نے جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی کے دیرینہ تعلق پہ روشنی ڈالتے ہوئے ایک واقعے کی طرف توجہ دلائی۔ اور وہ واقعہ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کے مبشر حسن نے سنایا تھا کہ 1977 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد جب قومی اتحاد سراپا احتجاج تھا اور اس کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے والد مولانا مفتی محمود مسٹر بھٹو کے ساتھ مذاکرات کے لیے جایا کرتے تھے تو مسٹر بھٹو شرارتاً مفتی محمود کو پیش کیے گئے مشروب میں چپکے سے شراب ملا دیا کرتے تھے۔ ایک ملاقات میں انہوں نے شراب نہ ملائی تو مفتی صاحب کہنے لگے، مسٹر بھٹو آج مشروب کا وہ لطف نہیں آیا جو پہلے آیا کرتا تھا۔

دروغ بر گردن راوی، لیکن ہم اس عمل کو نازیبا تصور کرتے ہیں اور ایک عالم دین کی توہین سمجھتے ہیں کہ ان کے علم میں لائے بغیر ان کو وہ چیز کھلا یا پلا دی جائے جسے وہ حرام سمجھتے ہوں۔ ہمارے اس ستم ظریف مبصر کا یہ کہنا ہے کہ آج مسٹر بھٹو کے داماد مسٹر زرداری نے مولانا مفتی محمود کے فرزند کے ساتھ وہی سلوک کیا جو مسٹر بھٹو، مفتی محمود کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ یعنی دھوکہ!

اب تذکرہ اس طوفان کا جس نے سوشل میڈیا کو پی ڈی ایم کے اعلامیے کے بعد سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اور وہ طوفان ہے، جیالوں اور متوالوں کی ایک دوجے پر لفظی گولہ باری۔ دونوں ایک دوسرے کو ناقابل اعتبار قرار دے رہے ہیں اور ماضی قریب و بعید سے مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر دوسرے کی لیڈرشپ کو دھوکا باز کہہ رہے ہیں۔

ان سب الزامات میں سے دلچسپ الزام نوازشریف کا کالا کوٹ پہن کر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف عدالت چلے جانا ہے۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ماضی قریب کے اس واقعے کو اپنے سیاق و سباق کے ساتھ اپنے قارئین کے سامنے رکھیں۔ تو عرض یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نوازشریف کے کالے کوٹ کا ذکر کرتی ہے لیکن پوری کہانی نہیں بتاتی! یہ بددیانتی ہے۔

پوری کہانی یہ ہے کہ نوازشریف جب جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور سعودی عرب سے برطانیہ آ چکے تھے۔ تو انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی۔ جس میں بینظیر بھٹو کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس کانفرنس کے کئی راؤنڈز ہوئے۔ اکثر میں بی بی شریک نہیں ہوتی تھیں۔ بلکہ اپنے نمائندے بھیجتی تھیں۔ اس اے پی سی کے اختتام پر ایک چارٹر آف ڈیموکریسی تیار کیا گیا جس پہ دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہان نے دستخط کیے۔ یہ سن دو ہزار چھ کا واقعہ ہے۔ مبصرین کے خیال میں یہ میثاق جمہوریت، جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک بریک تھرو کی حیثیت رکھتا تھا۔ عین انہی دنوں جب غیر جمہوری طاقتوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلنے کی قسمیں کھائی جا رہی تھیں اور میثاق لکھے جا رہے تھے، بینظیر بھٹو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ قطر میں میٹنگ کر رہی تھیں تاکہ نیشنل ری کنسیلی ایشن آرڈیننس یعنی این آر او کو حتمی شکل دی جا سکے۔ جیالے اس عمل کی وکالت کرتے تھے کہ بی بی بڑی ذہانت اور زیرکی سے آمریت کو جمہوریت کی راہ پہ ڈال رہی ہیں جبکہ دوسری طرف کے لوگ سوال اُٹھاتے تھے کہ بھلا ناپاکی کا ناپاکی سے، بدی کا بدی سے خاتمہ کبھی کیا جا سکتا ہے؟

دریں اثنا، افتخار چودھری کے حق میں جلوس نکلنے شروع ہو گئے۔ بی بی نے اگرچہ افتخار چودھری کے گھر کے سامنے اعلان کیا کہ ان کے چیف جسٹس افتخار چودھری ہیں لیکن ان کی پارٹی احتجاجی ریلیوں میں پچھلی صفوں میں پائی جاتی تھی۔ الیکشن 2008 سے پہلے بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ یہ قتل طاقتور عناصر کے مابین بدترین "ٹرسٹ ڈیفیسٹ” کا نتیجہ تھا۔ بی بی شہید نے ایک ای میل میں ان عناصر کے نام بھی بتا دیے تھے جو ان کو قتل کرنے کے درپے تھے۔

الیکشن کے لیے نئی تاریخ دی گئی۔ اس الیکشن میں پیپلز پارٹی واضح اکثریت لینے میں ناکام رہی تو نوازشریف کی پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا۔ نوازشریف نے ججوں کی بحالی کے وعدے پہ عوام سے ووٹ لیا تھا۔ ججز بحالی کے لیے نوازشریف اور زرداری کے درمیان بھوربن میں ایک معاہدہ ہوا۔ جس سے کچھ عرصہ بعد زرداری مکر گئے اور جج بحال کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دیکھ کر کہ زرداری نے "وعدے قرآن حدیث نہیں ہوتے” کہہ کر ڈوگر کورٹس کو ہی قانونی حیثیت دینے کی ٹھان لی ہے، نوازشریف اس مخلوط حکومت سے باہر آ گئے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائے۔ یہ سب ہو جانے کے باوجود، بجائے اس کے کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں آنے سے روکنے کا بندوبست کرتے، زرداری اراکین پارلیمنٹ کو قائل کرنے میں جت گئے کہ مشرف کی 2007 والی ایمرجنسی پلس کو انڈیمنیفائی کیا جائے۔ اس سے یہ ہوتا کہ پرویز مشرف پہ آرٹیکل 6 کا اطلاق نہ ہو پاتا جس کے تحت اپنے دور حکومت میں نوازشریف نے مشرف پہ مقدمہ کیا۔ زرداری نے مشرف کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے بعد، جناب زرداری نے ناجائز طور پہ پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔ اسی دوران میں سری لنکن ٹیم پہ قاتلانہ حملہ ہوا۔ اور پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کئی برس کے لیے رخصت ہو گئی۔ ایسی رخصت ہوئی کہ آج تک ویسی شان و شوکت سے بحال نہیں ہو سکی۔

یہ سچ ہے کہ میمو گیٹ کا واقعہ ہوا تو نوازشریف کالا کوٹ پہن کر عدالت پہنچ گئے تھے۔ اسی واقعے کو پیپلز پارٹی دہراتی رہتی ہے لیکن اس سے آگے یہ نہیں بتاتی کہ جب نوازشریف نے دیکھا کہ اس سے اسٹیبلشمنٹ فائدہ لینا چاہتی ہے تو انہوں نے کبھی اس مقدمے کی پیروی نہیں کی!

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ایشو کو بہانہ بنا کر MQM حکومت سے الگ ہوئی تو یوسف رضا گیلانی حکومت سادہ اکثریت کھو بیٹھی۔ نوازشریف چاہتے تو ہارس ٹریڈنگ کر سکتے تھے، ان کے ایک اشارہ ابرو سے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوجاتی لیکن انہوں نے اس دوران میں عدم اعتماد لانے سے گریز کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنا دورانیہ مکمل کرے۔

اس واقعے کے چند دن بعد پرویز الٰہی نے ق لیگ کو پیپلز پارٹی کا اتحادی بنایا اور خود ڈپٹی وزیراعظم بنے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے، جو سادہ اکثریت کھو بیٹھی تھی، اپنا Tenure مکمل کیا۔

مزید برآں، جنوری 2013 میں طاہر القادری والے دھرنے میں نوازشریف شامل نہیں تھے۔ بلکہ اس دھرنے کے خلاف APC بلائی جس میں پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے بھی شرکت کی۔

پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کا جو کردار رہا وہ قابل فخر نہیں کہلایا جا سکتا۔ اگرچہ ان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ لیکن انہیں یہ حق کس نے دیا کہ اپنے مفادات کا ذکر کرنے کے بجائے نوازشریف یا مولانا پہ پھبتیاں کسنے لگیں اور انہی ناقابل اعتبار گرداننے لگیں؟ کیا اس طرح کرنے سے ان کا عصر کے وقت روزہ توڑنے کا عمل عوام میں پذیرائی حاصل کرے گا؟ اگر وہ ایسا سمجھ رہے ہیں کہ اپنی ساتھی جماعتوں کو مطعون کر کے اپنے غلط فیصلے سے عوام الناس کی توجہ ہٹا لیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

اور ہاں، اسد عمر نے بھی پھبتی کسی، پی ڈی ایم تباہ دے۔ ان کو وقت بہت جلد بتا دے گا کہ سیاست زدہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت تباہ دے یا پی ڈی ایم تباہ دے!

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے