22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

پی ڈی ایم ۔انا للہ وانا الیہ راجعون – عامر خاکوانی

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

کسی بھی اتحاد کی کامیابی کے لئے اصل نکتہ ان کا ایجنڈا مشترک ہونا ہے، اگر یہ نہ ہو تو پھر شکست وریخت بہت جلد ہوجاتی ہے۔ایسا ڈھائی سال پہلے ایم ایم اے کے ساتھ ہوا۔ جولائی 2018ءکے الیکشن سے پہلے جماعت اسلامی اور جے یوآئی ف نے مل کر ایم ایم اے کی تشکیل نو کی۔ اس میں چھوٹی دینی جماعتیں بھی شامل تھیں، مگر بڑی جماعتیں یہی دو تھیں۔

یہ غلط تجربہ تھا کیونکہ تب تمام اہم ترین ایشوز میں جماعت اور مولانا کی جے یوآئی انتہائی مخالف سمتوں میں کھڑی تھی۔ جماعت اسلامی پانامہ کیس کی حامی تھی، وہ سپریم کورٹ یہ معاملہ لے کر گئی اور احتساب کا نعرہ لگا رہی تھی۔دوسری طرف مولانا کے خیال میں پانامہ ملک کے خلاف عالمی سازش تھی، وہ نواز شریف صاحب کے حامی تھے۔ جماعت اسلامی نے فاٹا کے انضمام کی حمایت کی جبکہ مولانا فضل الرحمن نے اس کی شدید مخالفت کی، وہ اسے عالمی سازش قرار دیتے رہے، اسی طرح کئی دیگر امور میں دونوں میں اختلاف تھا۔ غیر فطری اتحاد کے باوجود ایم ایم اے نے الیکشن لڑا اوراسے شکست ہوئی۔ جماعت اسلامی کو سخت نقصان ہوا اور اس کا صفایا ہوگیا، بمشکل ایک سیٹ اسے مل پائی۔ جماعت کے اندر مایوسی اتنی شدید تھی کہ الیکشن کے فوری بعد انہوں نے ایم ایم اے کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

کم وبیش یہی صورتحال پی ڈی ایم کے ساتھ پیش آئی۔ اس میںکہنے کو تو دس جماعتیں ہیں، مگر بڑی جماعتیں دو ہیں،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ، تیسری بڑی جماعت مولانا فضل الرحمن کی جے یوآئی ہے جبکہ بعض چھوٹے دینی گروہوں کے ساتھ بلوچ ، پشتون قوم پرست جماعتیں بھی اس کا حصہ ہیں۔پی ڈی ایم کی سربراہی ابتدا ہی سے مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے، اس پر ن لیگ پلس مولانا کی جارحانہ عقاب پالیسی غالب رہی ہے۔

جولائی اٹھارہ کے انتخابات کے بعد سے مولانا اس پارلیمنٹ کو جعلی قرار دے رہے ہیں، ان کا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ ختم کر کے نئے الیکشن کرائے جائیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن طویل عرصے بعد اپنے دونوں حلقوں سے الیکشن ہار گئے اور وہ اسمبلی سے باہر ہیں۔مولانا الیکشن ہارنے کے بعد سے شدید اشتعال میں ہیں اور ان کی روایتی مسکراہٹ اور خوش مزاجی بھی غائب ہوچکی ہے، وہ صحافیوں کے عام سوالوں پر بھی جلد برہم ہوجاتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کا رویہ بھی جارحانہ ہے، وہ نئے انتخابات کے بھرپور حامی ہیںکہ انہیں لگتا ہے پنجاب اور مرکز میں مقتدر قوتوں کی سپورٹ سے ن لیگ کو کارنر کر کے تحریک انصاف کو جتوایا گیا۔ مریم نواز شریف اور ان کے وفاداروں کا خیال ہے کہ نیا الیکشن اس وقت ہوا تو تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اب پنجاب میں ن لیگ سوئپ کر لے گی۔ پی ڈی ایم کی دیگر اہم جماعتوں میں سے اے این پی کے پی میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی تھی، محمود خان اچکزئی کی میپ کو بلوچستان میں بڑی شکست ہوئی جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ کی نیشنل پارٹی بھی بلوچستان میں معمولی کارکردگی دکھا پائی۔ اویس نورانی کی جے یوپی تو کسی کھاتے میں نہیں جبکہ ساجد میرصاحب کی تمام تر جدوجہد سینیٹر بننے پر مرکوز ہوتی ہے، وہ سینیٹر بن چکے ہیں، اب نئے الیکشن بھلے سے کل ہوجائیں ساجد میر صاحب کو کوئی مسئلہ نہیں۔

اس طرح سے پی ڈی ایم کے دس میںسے نو جماعتوں کے موجودہ پارلیمنٹ اور سیاسی سسٹم میں کوئی سٹیک موجود نہیں۔ اس پارلیمنٹ کے مزید دو ڈھائی سال چلنے میں ان نو جماعتوں کو معمولی سا بھی فائدہ نہیں۔ دوبارہ الیکشن البتہ انہیں کچھ نہ کچھ دے جائیں گے۔ پی ڈی ایم کی واحد مگر بڑی اور اہم جماعت پیپلزپارٹی کا معاملہ مختلف ہے۔ پیپلزپارٹی کے اس سسٹم اور پارلیمنٹ میں بڑے سٹیک موجود ہیں۔ ان کے پاس سندھ جیسے بڑے صوبے کی حکومت ہے ،جہاں انہیں کوئی خطرہ نہیں جبکہ سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی وہ طاقتور گروپ کے طور پر موجود ہیں۔

پیپلزپارٹی پچھلے چند برسوں میں پنجاب اور کے پی میں بہت کمزور ہوچکی ہے۔ کے پی ، بلوچستان اور پنجاب سے عملاً اس کا صفایا ہوچکا، پنجاب سے تین چار الیکٹ ایبلز کی سیٹوں کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں۔ وہ کسی ضمنی الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑے کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی تمام تر قوت اور فوکس سندھ پر ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر نئے الیکشن ہوئے تو زیادہ سے زیادہ ان کے پاس سندھ آئے گا اور قومی اسمبلی میں بھی کم وبیش اتنی نشستیں ہی ملنا ہیں۔ اگر یہی کچھ ہونا ہے تو پھر نیا الیکشن کے لئے جدوجہد کرنے، ڈنڈے کھانے، جیلیں بھگتنے اور اربوں روپے الیکشن کمپین پر خرچ کرنے کا کیا فائدہ ؟

آصف زرداری کی شہرت ایک گھاگ سیاستدان کی ہے، وہ اپنے کارڈز ہاتھ میں چھپا کر رکھتے ہیں ۔ اس بار بھی انہوں نے اپنے اصل ایجنڈے کو ہوشیاری سے مخفی رکھا اور اپوزیشن جماعت کے طور پر تاثر بنائے رکھا۔ وہ میدان ن لیگ ، مولانا کے لئے کھلا چھوڑنے کے خلاف تھے۔ پیپلزپارٹی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا خوشی خوشی حصہ بنی۔بلاول بھٹو زرداری اپنے مخصوص مصنوعی انداز میں پرجوش تقریریں کرتے رہے۔پیپلزپارٹی نے البتہ حالات زیادہ بگاڑنے سے گریز کیا۔ پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہوا تھا، جس میں میاں نواز شریف نے بڑی جارحانہ تقریر کی۔اگلا جلسہ کراچی میں تھا، میزبان پیپلزپارٹی تھی۔ انہوں نے وہاں دانستہ نواز شریف صاحب کو تقریر ہی نہیں کرنے دی۔ بعد میں بھی بلاول بھٹو دانستہ میاں نواز شریف کی شعلہ برساتی تقریروں سے فاصلہ کرتے رہے۔ پیپلزپارٹی نے حکمران جماعت پر شدید تنقیدکا سلسلہ تو جاری رکھا ہوا ہے،وہ آگ بھڑکاتے ہیں مگر اسے قابو سے باہر نہیں جانے دیتے۔

ادھر پی ڈی ایم کو جس جارحانہ انداز سے نواز شریف صاحب اور مولانا نے آگے بڑھایا تھا، اس کا فطری ہدف سیاسی آگ کو تیز کرکے سسٹم کو اڑا دینا ہے ۔ وہ لانگ مارچ اور دھرنوں کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفوں کا ہتھیار بیک وقت استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اتنا گند پڑ جائے کہ نیا الیکشن کرانا پڑ ے۔ ادھرپیپلزپارٹی باقی سب کچھ کرنے کو تیار ہے، مگر سردست نیا انتخاب نہیں چاہتی۔ وہ یہ سسٹم چلانا اور پارلیمنٹ میں لڑائی لڑنا چاہتی ہے، مقصد وہی کہ سندھ حکومت پر دو ڈھائی سال مزید مزے لے لئے جائیں۔

دو دن پہلے اس کشمکش کا ڈراپ سین ہوگیا۔ زرداری صاحب کو یہ لگ رہا تھا کہ نوجوان بلاول گھاگ مولانا اور شعلہ بیان مریم نواز شریف کے زیراثر آ رہا ہے۔ انہوںنے پی ڈی ایم کے اجلاس سے پہلے دانستہ بلاول کو کراچی بلا لیا اور پھر بلاول کے بجائے خود سربراہی اجلاس سے ویڈیو خطاب کیا۔ زرداری صاحب نے ایک دلچسپ شرط رکھی کہ ہم استعفے دینے اور آل آؤٹ وار پر جانے کے لئے تیار ہیں، مگر پہلے میاں نواز شریف وطن واپس آئیں۔ جیل جانا پڑا تو ہم سب جائیں گے ، لڑیں گے ،مگر اس کے لئے میاں صاحب کو ہمارے بیچ ہونا چاہیے۔

زرداری صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ میاں نواز شریف کسی بھی صورت پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ وہ پہلے ہی کتنے جتن کر کے علاج کے بہانے باہرگئے۔ میاں صاحب واپس آئے تو جیل جانا پڑے گا۔ زرداری صاحب کی یہ شرط ن لیگ کو سخت ناگوار گزری ہے، مریم نواز شریف یہ توقع نہیں کر سکتی تھی کہ نواز شریف کی واپسی کا مطالبہ پی ڈی ایم کی ایک بڑی جماعت کر دے گی۔ وہ اس پر بھنائی بیٹھی ہیں، نجی محفلوں میں تند وتیز تبصرے کر رہی ہیں، مگرمیڈیا میں کھل کر کچھ نہیں کہہ سکتیں۔

عملی صورت یہ ہے کہ پی ڈی ایم اب ختم ہوگیا۔ اخبار میں ایک کارٹون چھپا کہ مولانا دیگ پکا رہے ہیں، اس میں P ،D اورM کے نام کے تین بڑے کفگیر پڑے ہیں، ان میں سے پیپلزپارٹی نے P کے نام کا کفگیر اٹھا لیا اور وہ چلتے بنے۔ مولانا ہونق بنے تماشا دیکھ رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کے توڑنے کا اعلان مگر نہیں ہوگا۔ یہ کسی جماعت کو سوٹ نہیں کرتا۔ پیپلزپارٹی بھی اپنی صوبائی حکومت بچانے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعت ہونے کا تاثر دیتے رہنا چاہتی ہے۔ وہ بھی پی ڈی ایم سے الگ نہیں ہوگی، مگر کسی بھی صورت زرداری صاحب سندھ اسمبلی کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، وہ پارلیمنٹ پر خودکش حملے کے لئے قطعی طور پر استعمال نہیں ہوں گے۔
پیپلزپارٹی کے لئے تین آپشنز ہیں۔پی ڈی ایم کے ڈھونگ کوکسی نہ کسی طرح مزید آگے چلایا جائے۔یاپھر کسی خفیہ ڈیل کے ساتھ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ چلائے۔اس میں پیپلزپارٹی کومیڈیا پر سخت تنقید کا سامناکرنا پڑے گا۔ تیسری آپشن یہ ہے کہ وہ استعفے دئیے بغیر لانگ مارچ اور دھرنوں کا حصہ بنے مگر عملاً اس میں اپنا وزن شامل نہ کرے اور علامتی نمائندگی رکھے۔

یہاں پرحکمران جماعت کا کردار بھی اہم ہے۔ عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد زرداری صاحب کے خلاف بہت سخت تقریر کر چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے فاصلہ کرنے کے لئے کوئی پیش کش کرتی ہے؟ حکومت کے ابتدائی دنوں میں پیپلز پارٹی نے مفاہمت کے اشارے دئیے تھے۔ یہ کہا گیا کہ ملکی معیشت سنبھالنے کے لئے تمام جماعتوں کو تعاون کرنا چاہیے۔ اس وقت عمران خان گھوڑے پر سوار تھے، وہ پیپلزپارٹی یا اس کی قیادت کانام تک سننے کو تیار نہیں تھے۔ ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نے پچھلے ڈھائی برسوں سے کیا سبق سیکھا ہے؟ کیا وہ آؤٹ آف باکس سوچنے اور اپوزیشن کو منقسم کر کے کمزور بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں؟

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

ایک تبصرہ

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے