23.3 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

‏زندگی کی ضمانت – سلمان احمد صوفی

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

کچھ باتیں زبان یا قلم کی نوک سے نکل کر سیدھی دل میں پیوست ہوجاتی ہیں۔ اک شاعر نے فارسی میں کیا خوب کہا ہے جسے اردو کے نابغہ روزگار شاعر علی سردار جعفری صاحب نے اپنے مشاعروں کے دوران دہرا کر امر کر دیا

درین حدیقه بھار و خزان ہم آغوش است
زمانه جام بدست و جنازه بر دوش است

ترجمہ: اِس دنیا کے باغ میں بہارو خزاں ہم آغوش ہیں ِ
زمانے کے ہاتھ میں شراب کا جام ہے اور کاندھے پر جنازہ

اس جہاں میں آنے والوں میں اکثر کو زندگی گزارتی ہے، بس چند ہی ہوتے ہیں جو زندگی کے منہ زور گھوڑے کی سواری کرپاتے ہیں ۔

اس نے 14 جون 1928ء کو ارجنٹینا کے ایک اپر مڈل کلاس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب بڑا تھا اور دمہ کا مریض تھا مگر اس کے باجود بہت ہی اچھا ایتھلیٹ تھا۔ اسے بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے اور غور وفکر کی عادت تھی۔ اس نے زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں گہری دلچسپی لینا شروع کر دی۔ اسکول میں شاندار کامیابی کے بعد میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1951ء میں حصول تعلیم کے دوران اس کا اپنے ایک دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پہ روڈ ٹرپ کا منصوبہ بنا جو کہ آگے چل کر اس کی زندگی میں ہنگامہ خیز تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس 9 ماہ کے سفر نے اس ذہنی بالیدگی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے ارجنٹائن سے سفر کا آغاز کیا چلی ،پیرو ،کولمبیا سے ہوتا ہوا وینزویلا پہنچا۔ ان ممالک میں پھیلی غربت کو محسوس کر کے اس کا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل کر رہ گیا۔ اس کے دل و دماغ میں کارل مارکس کے نظریات نے اپنی جڑیں گہری کرنا شروع کر دیں۔1953 میں میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے گوئٹے مالا کا رخ کیا جہاں پہ جیکب اربنز نامی سوشلسٹ کی حکومت تھی جو کہ اس کے نظریات کے قریب تر تھی ۔ جب 1954ء میں امریکی آشیرباد سے جیکب اربنز کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو اسے یقین ہو گیا اک انقلاب کی صورت میں ہی سوشلزم ایک نظام کے طور پہ دنیا میں رائج ہو سکتا ہے۔اس کے لیے وہ میکسیکو چلا گیا جہاں اس کی ملاقات کاسترو برادران سے ہوئی۔ان کے ساتھ مل اس نے 81 آدمیوں کا اک گروہ بنایا جس نے انقلاب کے لیے مسلح کاروائیوں کا آغاز کیا مگر جلد ہی کیوبا کی کی حکومت نے ان کے تقریباً تمام ساتھیوں کو ختم کر دیا مگر وہ زخمی حالت میں جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور کیوبا کے پہاڑوں میں پناہ لی اور نئی حکمت عملی اپنائی جو کہ گوریلا کارروائیوں پہ مشتمل تھی۔ پہلے پہل تو وہ صرف زخمیوں کا علاج کرتا تھا، پھر باقاعدہ ٹریننگ حاصل کی اور کیوبا میں فیڈیل کاسترو کی حکومت قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ۔ اس نے کچھ عرصہ حکومت کے اہم وزیر کے طور پہ کام کیا پھر پس پردہ رہ کر سوشلزم کی دیگر ملکوں میں ترویج کے لیے کاروائیوں کا آغاز کیا۔ پہلے اس نے کانگو میں کوششیں کی، وہاں ناکامی کے بعد پھر بولیویا کا رخ کیا اور ابتدا میں کامیاب رہا، مگر پھر بولیویا کی فوج اس کے گرد گھیرا تنگ کردیا۔ اک دن اسے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا اور 1967 میں اس کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ دنیا اس کو "چی گویرا” کے نام سے جانتی ہے ۔

دنیا میں بیسویں صدی میں جن دو لوگوں کو موت کے بعد زیادہ شدت سے یاد کیا گیا اور پذیرائی ملی، ان میں اک گلوکار ایلوس پریسلے اور دوسرے چی گویرا ہیں۔چی گویرا اپنی موت کے بعد مزاحمت اور سوشلزم کا "سمبل” بن کر ابھرے ۔ بائیں بازو کے نظریات سے تعلقات رکھنے والے آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں اور ان کی تصاویر والی ٹی شرٹس پہنتے ہیں۔اس نے دو جنریشنز پہ اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔
پاکستان میں دیکھتے ہیں تو اقتدار کی مسند پہ تو بہت سے لوگ بیٹھے مگر بھٹو کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں بہت سے حکمران ایسے آئے جن کے نام بھی آج لوگوں کو یاد نہیں یاد تو وہی رہتے ہیں جو ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل کاٹی مگر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔

دوسری طرف ہمارے لیڈر میاں نواز شریف بات تو انقلاب کی کرتے ہیں مگر ان کو جیل کے مچھر خوفزدہ کر دیتے ہیں، جیل میں ان کی "ڈیپریشن” کا لیول ہائی ہو جاتاہے جب مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو حسین نواز نے اس وقت کے پی ٹی وی کے سربراہ کو ٹیلی فون کیا اور اپنے حق میں خبر چلانے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ میاں صاحب پی ٹی وی کا دفتر اب پاک فوج کے کنٹرول میں ہے میں کیا کر سکتا ہوں ؟ حسین نواز نے آگے سے کہا کہ” بیگ صاحب ان سے ٹکرا جائیے یہ "وقت شہادت” ہے آپ کی قربانی یاد رکھی جائے گی۔”

جب میاں نواز شریف کے سٹینڈ لینے کا وقت آیا تو بیسیوں بکسوں میں سامان لاد کر "قربانی ” دینے کے لیے سپیشل جہاز میں سوار ہوگئے۔

اب بھی ان کی دختر مریم نواز فرماتی ہیں نواز شریف واپس تو مگر اس کی زندگی کی "ضمانت” کون دے گا؟

اک شخص جو 1980 سے مختلف اشکال میں اقتدار کی راہداریوں میں گھوم رہا ہے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلی رہے پھر تین بار اس ملک کا وزیراعظم رہا وہ اپنی زندگی کی تقریباً ستر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ اللّٰہ ان کو لمبی عمر اور صحت عطاء فرمائے مگر سوال بنتا ہے کہ اگر وہ اب اگر واقعی "نظریاتی” ہوگے ہیں تو موت سے خوفزدہ کیوں ہیں ؟ انقلاب کے خواہاں تو موت کو ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں کسی بھی انقلابی سوچ رکھنے والی شخص کی پانچ براعظموں پہ پھیلی کاروبار کی ایمپائر نہیں ہوتی۔ جب ان سے اس بے حساب دولت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو فرماتے ہیں کہ کسی کو کیا اگر ان کے پاس اتنی دولت ہے اور وہ اس کے ذرائع کیوں بتائیں ؟جب وہ پہلی بار وزیراعظم بنے تھے تو جنرل حمید گل مرحوم ان کے پاس تشریف لے گئے اور کہا کہ اب وہ اپنے ذاتی کاروبار سے الگ ہو جائیں کیونکہ کاروبار کرنا حکمرانوں کو زیب نہیں دیتا تو شریف فیملی کا جواب تھا کہ "ہن تے ساڈا کمان دا ٹیم آیا اے” باقی سب تاریخ ہے۔ اگر وہ واقعی اس ملک سے مخلص ہیں تو واپس آئیں اور اعلان کریں کہ جب ان کی پارٹی حکومت میں آئی تو شریف خاندان کاروبار نہیں کرے گا اور مقدمات کا سامنا کریں۔مگر وہ ذات کے کاروباری ہیں گھاٹے کا سودا نہیں کرتے ان کا زندگی کی "ضمانت” دینے کا مطلب یہی ہے کہ ان کے خلاف تمام کیسز ختم کیے جائیں اور ان کو ددوبارہ مسند اقتدار پہ بٹھانے کی کوئی راہ نکالی جائے۔باقی "ووٹ کو عزت دو” اور اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ بس پریشر ٹیکٹکس ہیں۔اصل مقصد دوبارہ حصول اقتدار ہے کیونکہ سچ ہے کہ کچھ لوگوں کی اقتدار اور دولت کی ہوس کی آگ کو قبر کی مٹی ہی بجھا سکتی ہے۔

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے
اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے
ہے اور ہی کاروبار مستی
جی لینا تو زندگی نہیں ہے

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے