22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

خواجہ سراؤں کے لیے پاکستان میں پہلے مدرسے کی بنیاد رکھ دی گئی

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

پاکستان میں خواجہ سراؤں کے لیے پہلا مدرسہ کھول دیا گیا، یہاں ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا، انہیں مساجد میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، رانی خان پاکستان میں خواجہ سراؤں کے لیے کھولے گئے اس مدرسے میں طلبا کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی ہیں، اسی تنخواہ سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران رانی کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کے ساتھ اکثر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور ان کو قبول نہیں کیا جاتا۔ انہیں گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ اتنا کہتے ہی رانی کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ وہ 13 سال کی تھیں تو انہیں بھی گھر سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد وہ بھیک مانگنے پر مجبور تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ 17 سال کی عمر میں وہ ہم خیال لوگوں کے ایک گروپ میں  شامل ہوگئیں جو گھروں اور شادیوں میں جاکر گانے گاتی تھیں۔

رانی خان اپنے گھر میں قرآن پاک پڑھتی تھی اور مدرسہ کھولنے سے قبل دینی مدارس جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک حکومت کی طرف سے ان کے مدرسے کے لیے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی لیکن کچھ عہدیداروں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وہاں کے طلبا کو ملازمت تلاش کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا اپنے ایک پیغام میں کہنا تھا کہ یہ مدرسہ خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر دوسرے شہر بھی اس اقدام کو اپناتے ہیں تو بڑے تبدہلی واقع ہوگی۔

اس بات کا بھی خیال رہے کہ 2018 میں خواجہ سراؤں کو پاکستان میں تیسری صنف تسلیم کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی انہیں بنیادی حقوق جیسے ووٹ کا حق اور سرکاری دستاویزات میں تیسری صنف کے انتخاب کا حق دیا گیا تھا۔

پاکستان میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 10 ہزار خواجہ سرا موجود ہیں جبکہ ٹرانس رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ نمبرز مزید بڑھ کر 3 لاکھ تک جاسکتے ہیں۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے