26.1 C
Islamabad
پیر, اپریل 12, 2021

وائرل ٹک ٹاک نے "پاکستانی ممی” کی یادیں تازہ کر دیں

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

یہ اکتوبر 2000ء تھا، کراچی پولیس کو ایک ایسے شخص کے بارے میں پتہ چلا جو بلیک مارکیٹ میں ایک "ممی” یعنی حنوط شدہ لاش فروخت کرنا چاہتا تھا، وہ بھی 11 ملین ڈالرز میں۔ یہ معاملہ جیسے جیسے کھلتا گیا، مسائل بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ یہ ممی پاکستان اور ایران کے مابین وجہ نزاع بن گئی۔ یہ پوری داستان پڑھنے کے قابل ہے لیکن 20 سال بعد اس ممی کی باتیں کیوں؟

دراصل ٹک ٹاک پر ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس نے "فارسی شہزادی کی ممی” کو ایک مرتبہ پھر موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔ مسٹری ٹیم انکارپوریٹڈ (‎@mysteryteaminc) نے ٹک ٹاک پر اپنی حالیہ وڈیو میں اس معاملے پر بات کی ہے۔ یہ وڈیو بہت وائرل ہوئی ہے اور اب تک اسے تقریباً ساڑھے 5 لاکھ سے زیادہ لائیکس مل چکے ہیں۔

پاکستان کے قانون کے تحت اس طرح کوئی بھی نوادرات فروخت کرنا منع ہے، اس لیے پولیس نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا اور اکبر علی نامی شخص کو گرفتار کر کے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ ممی دراصل بلوچستان میں ایک شخص کے پاس ہے۔ بالآخر ممی برآمد کر کے اسے کراچی کے قومی عجائب گھر منتقل کر دیا گیا۔ پاکستان اور دنیا بھر کے ماہرین سر جوڑ کے بیٹھے اور اس دوران نہ صرف پاکستان کے صوبوں بلکہ پاکستان اور ایران کے درمیان بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ پہلے بلوچستان نے سندھ سے کہا کہ یہ ممی اس کی ملکیت ہے اس لیے کراچی سے واپس لائی جائے۔ پاکستان نے معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ احمد حسن دانی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ممی پر لکھے رسم الخط کے مطابق یہ 600 قبلِ مسیح کے ایک فارسی بادشاہ کی بیٹی ہے۔ یہ خبر سامنے آتے ہی ایران نے دعویٰ کر دیا بلکہ دھمکایا کہ وہ ممی کے حصول کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرے گا۔

اس میں قدیم ایران کے علاوہ مصری ممیوں کی چند علامات بھی تھیں۔ اس پر سونے کا کام بھی تھا اور قدیم فارسی زبان کندہ تھی، جسے 2600 سال پرانا سمجھا گیا ۔ ماہرین نے اسے خشارشا اول (Xerxes I) کی بیٹی کی ممی سمجھے تھے جیسا کہ اس پر درج تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ مغرب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس کے لیے 1.1 ملین ڈالرز کی پیشکش کی تھی لیکن ممی رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ ان کی قیمت 11 ملین ڈالرز ہے۔

@mysteryteamincThe Mummy Murder Pt 1 #unsolved #truecrime #mystery #truecrimecommunity #truecrimepodcast #murder #fyp #truecrimetiktok #creepy #mummy

♬ Goosebumps – JP III

ٹک ٹاک کے مطابق یہ بہت حیرت انگیز نقل تھی۔ 2001ء میں بی بی سی نے اس پر جو دستاویزی فلم بنائی تھی اس کے مطابق یہ اتنی بہترین نقل تھی کہ کئی ماہر سناروں، تابوت سازوں، پتھر کا کام کرنے والوں اور اس رسم الخط کے ماہرین کی ضرورت پڑی تب جا کر اس کی "اصلیت” کھلی۔ ماہرین کے علاوہ سی ٹی اسکین، کیمیکل ٹیسٹنگ اور کاربن ڈیٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی اور بالآخر پتہ چل گیا کہ یہ ممی جعلی ہے۔

مزید تحقیقات پر پتہ چلا کہ یہ ایسی خاتون کی باقیات ہیں جن کی وفات 1996ء میں ہوئی تھی اور ہو سکتا ہے کہ ان کا قتل ہوا ہو۔ طبّی معائنے کے مطابق موت کی وجہ گردن کا ٹوٹنا ہے جو سخت ضرب لگنے کا نتیجہ تھی۔ بی بی سی کے مطابق مبینہ قتل کے بعد اس لاش کو 24 گھنٹوں میں ہی ممی بنا دیا گیا تھا جس کا مطلب ہے کہ اس کی ممی بنانے کا پہلے سے ارادہ کر لیا گیا تھا۔

یہ جعلی ممی تقریباً پانچ سال تک ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس رہی جس کے مطابق اس کی دیکھ بھال پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے اور 2005ء میں ادارے نے یہ کہہ کر اس کو دفنا دیا کہ وہ اسے مزید اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔

لیکن آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ لاش کس کی تھی؟ کیا یہ کوئی ایرانی خاتون تھیں؟ یا پاکستانی؟ قتل کیوں کیا گیا؟

@mysteryteamincThe Mummy Murder Pt 2 #unsolved #truecrime #mystery #truecrimecommunity #truecrimepodcast #murder #fyp #truecrimetiktok #creepy #mummy

♬ Mystery – Conscientious Sounds

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے