28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

پیپلز پارٹی چھوٹی بات پر اعتماد کے قابل نہیں رہی تو بڑی بات پر کیسے اعتماد کروں؟ شاہد خاقان عباسی

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی ماننے سے انکار کردیا تو؟ جواب میں لیگی رہنما نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو لگتا ہے کہ شہباز شریف حکومتی ووٹ کی مدد سے آئے ہیں تو ضرور اختلاف کریں۔اگر میرا آپ پر اتنی چھوٹی سی بات پر اعتماد نہیں ہے، وہاں سے بھی آپ ہٹ جائیں گے تو کل میں آپ پر ایک بڑی بات پر کیسے اعتماد کروں گا؟ اس کا جواب مجھے دیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ روز جمیعت علمائے اسلام کے رہنما عبدالغفور حیدری سے ملاقات کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی دونوں کا یہی مؤقف ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف سینیٹ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ حکومتی ووٹوں سے اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے۔

لیگی رہنما نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور چینی 53 روپے سے آج 110 پر پہنچ گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کا کوئی قصور نہیں ہے، قصور اس فیصلے کا ہے جس نے ملک سے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، اس وقت جب ملک میں شوگر کی سرپلس کیپسیٹی نہیں تھی۔

شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو جو خط لکھا ہے اس میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا ذکر ہی نہیں ہے، بس صرف مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ خط نواز شریف لکھتا تو آرٹیکل 6 لگا ہوتا۔ یہ میرے لیے بہت تشویش کی بات ہے کہ حکومتِ پاکستان بیک ڈور چینل استعمال کررہی ہے۔

گزشتہ روز بھارت سے چینی درآمد کرانے کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چینی درآمد کرنے کی اجازت دینے سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ جب بھی پاکستان میں درآمدگی کی اجازت دی گئی ہے، مارشل لا حکومتوں نے دی ہے۔ جب بھی کسی جمہوری حکومت نے کوشش کی اسے غدار کا لقب دیا گیا۔ ملک کے جو بھی فیصلے ہوں، پارلیمان میں اس پر تبادلہ خیال ہونا ضروری ہے، پھر اونر شپ آئے گی۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے