22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

ایسا نہیں چلے گا حضور! – جمال عبداللہ عثمان

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -
انڈیا کے ساتھ اس وقت ہم جس دور میں داخل ہورہے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں، یہ پاکستان مسلم لیگ ن یا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے وقت ہوتا تو آج ہر چوک اور چوراہے پر نوازشریف اور آصف علی زرداری کی تصاویر لگی ہوتیں۔ جن پر لکھا ہوتا: ”مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے“۔
اس وقت اگر پاکستان تحریک انصاف اپوزیشن میں ہوتی تو یقینا بطورِ اپوزیشن لیڈر عمران خان پورے ملک میں نکلنے کی کال دے چکے ہوتے۔ نوازشریف یا آصف علی زرداری کو کشمیریوں کا قاتل قرار دے چکے ہوتے۔ اپنی تجارت کی خاطر کشمیریوں کا سوداگر اور پتا نہیں کیا کچھ ڈکلیئر کرچکے ہوتے۔
لیکن اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس سے بڑھ کر ”کسی اور“ کی حکومت ہے، سو انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔ کنٹرول لائن پر فائر بندی ہوچکی ہے۔ نریندر مودی اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان خطوط کی شکل میں ”محبت ناموں“ کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اور پی ٹی آئی کی صفوں یا اسٹیبلشمنٹ کے نمایندوں میں کسی کے اندر جرات نہیں کہ یاد دلادیں کہ حضور صرف ڈیڑھ سال پہلے آپ نے انڈیا سے متعلق کچھ اعلانات فرمائے تھے، ان کا کیا بنا؟
اعلانات یہ تھے کہ انڈیا جب تک کشمیر پر اپنا فیصلہ نہیں بدلتا، تب تک کوئی تجارت نہیں ہوگی۔ تب تک سفارتی تعلقات مکمل بحال نہیں ہوں گے۔ تب تک انڈیا کے ساتھ کسی فورم پر نہیں بیٹھیں گے۔ کوئی یاد دلاتا کہ آپ نے تو اسے موت اور زندگی کا مسئلہ بنادیا تھا۔ کور کمانڈرز کانفرنس بلالی گئی تھی۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس آپ کے زیرصدارت ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلالیے تھے۔
لیکن اب؟ صرف ڈیڑھ سال بعد آپ ایسے لیٹ گئے؟ انڈیا سے گندم منگوائی جارہی ہے۔ انڈیا سے کپاس کی درآمد ہورہی ہے اور انڈیا سے چینی منگوائی جارہی ہے۔تجارت مکمل طور پر بحالی کی طرف جارہی ہے۔ چیف آف آرمی چیف اسٹاف کسی اور کا گھر درست کرنے کے بجائے اپنا ہی گھر درست کرنے کی بات کررہے ہیں۔
اصولی بات یہ ہے کہ پاکستان او رانڈیا کے تعلقات ایسے ہی ہونے چاہییں۔ تجارت ہونی چاہیے۔ ایک دوسرے کے مسائل میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔ مشترکہ مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ آپ کررہے ہیں، تو بھی غلط نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے انڈیا کے ساتھ صرف بات چیت کرنے کو بھی اتنا سنگین جرم بنادیا تھا کہ جس کی سزا غداری اور موت ہوسکتی ہے۔ کل وہ کیوں تھا؟
آج آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ کیا کشمیر پر انڈیا کا موقف بدل گیا ہے؟ انڈیا ایک انچ بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا تو پھر کس بنیاد پر آپ یہ فیصلے کررہے ہیں؟ تکلیف کیا صرف اتنی ہے کہ ہمارے علاوہ کوئی اور یہ فیصلے کیوں کرے؟ حضور! اس رویے کو بدلیے۔ ورنہ سوال یہ ہوگا کہ پرویز مشرف کشمیر پلیٹ میں رکھ کر انڈیا کے ساتھ آگے بڑھنے کی بات کریں تو سب درست۔ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے باوجود آپ کشمیریوں کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال کرنے نکل پڑیں تو درست، لیکن کوئی جمہوری حکمران برابری کی بنیاد پر بات چیت آگے بڑھانے کا خواہاں ہو تو وہ غدار؟
ایسا نہیں چلے گا حضور!

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے