27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

بھارت سے ڈیل کی افواہیں بے بنیاد ہیں، معاون خصوصی قومی سلامتی

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

وزیراعظم کے معاون خصوصی قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے جب تک بھارت پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام پر نظر ثانی نہیں کرتا، بھارت کے ساتھ تجارت سمیت کسی مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی، بھارت سے ڈیل کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ جب وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے درآمدات کی منظوری دی اس وقت وہ وزیر تجارت تھے۔مشیر سلامتی نے کہا کہ دوسری طرف جب انہوں نے بطور وزیراعظم کابینہ کی صدارت کی تو اس وقت وہ الگ عہدے پر تھے۔

معید یوسف نے کہا کہ جب تک بھارت پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام پر نظر ثانی نہیں کرتا بھارت کے ساتھ تجارت سمیت کسی مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی۔ وزارت خزانہ اپنے طور پر فیصلہ نہیں کرسکتی، سیاسی حکومت کے لیے قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، وزارت تجارت کو پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرلینی چاہیئے تھی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کام اقتصادی مفادات دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ ان کے پاس تجویز آئی کہ بھارت میں کاٹن اور چینی کی قیمتیں کم ہیں، اس لیے اس سے درآمد کیا جائے۔ ای سی سی نے یہ تجویز کابینہ میں پیش کی، وزیراعظم نے اسے مؤخر کردیا۔ سیاسی منظر نامے کو دیکھ کر فیصلے کرنا ای سی سی ای کا نہیں کابینہ کا کام ہے۔

معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بار بار کہا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، بنیادی مسئلے کو حل کیے بغیر بھارت سے بات نہیں کریں گے۔ سب بھول کر آگے بڑھنا یہ ممکن ہی نہیں، بھارت سے ڈیل کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ ایل او سی پر معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے جس پر 2003 سے بات ہورہی تھی۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے