25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

بھارت سے ڈیل کی افواہیں بے بنیاد ہیں، معاون خصوصی قومی سلامتی

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

وزیراعظم کے معاون خصوصی قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے جب تک بھارت پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام پر نظر ثانی نہیں کرتا، بھارت کے ساتھ تجارت سمیت کسی مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی، بھارت سے ڈیل کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ جب وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے درآمدات کی منظوری دی اس وقت وہ وزیر تجارت تھے۔مشیر سلامتی نے کہا کہ دوسری طرف جب انہوں نے بطور وزیراعظم کابینہ کی صدارت کی تو اس وقت وہ الگ عہدے پر تھے۔

معید یوسف نے کہا کہ جب تک بھارت پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام پر نظر ثانی نہیں کرتا بھارت کے ساتھ تجارت سمیت کسی مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی۔ وزارت خزانہ اپنے طور پر فیصلہ نہیں کرسکتی، سیاسی حکومت کے لیے قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، وزارت تجارت کو پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرلینی چاہیئے تھی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کام اقتصادی مفادات دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ ان کے پاس تجویز آئی کہ بھارت میں کاٹن اور چینی کی قیمتیں کم ہیں، اس لیے اس سے درآمد کیا جائے۔ ای سی سی نے یہ تجویز کابینہ میں پیش کی، وزیراعظم نے اسے مؤخر کردیا۔ سیاسی منظر نامے کو دیکھ کر فیصلے کرنا ای سی سی ای کا نہیں کابینہ کا کام ہے۔

معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بار بار کہا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، بنیادی مسئلے کو حل کیے بغیر بھارت سے بات نہیں کریں گے۔ سب بھول کر آگے بڑھنا یہ ممکن ہی نہیں، بھارت سے ڈیل کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ ایل او سی پر معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے جس پر 2003 سے بات ہورہی تھی۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے