23.3 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

پاکستان گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کے لیے تیار

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

پاکستان گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دینے کے لیے تیار ہے اور یوں خطے کے عوام کا دہائیوں پرانا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام عرصے سے خطے کو آئینی طور پر پاکستان کے ساتھ منسلک کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے ملک کے اہم تزویراتی اثاثوں کا تحفظ ہوگا کہ جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی صورت میں موجود ہیں اور ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ ملے گا اور بونجی اور دیامر بھاشا ڈیم کی صورت میں آبی وسائل بہتر ہوں گے۔

گو کہ اس حوالے سے چند حلقوں کے اعتراضات دُور کرنے کی ضرورت ہے البتہ اہم سیاسی جماعتوں سمیت تمام متعلقہ فریقین گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کی تجویز کے حامی ہیں۔

اس فیصلے نے عوام کے دیرینہ مطالبات بھی پورے ہوں گے اور مقامی سطح پر پائے جانے والے خدشات اور نمائندگی کے مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔ حکومتِ پاکستان نے ستمبر 2020ء میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جس کی پارلیمان میں نمائندگی بھی ہوگی۔ پھر یکم نومبر 2020ء کو وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ خطے کو صوبائی درجہ دیں گے۔

البتہ حکومت نے گزشتہ سال 4 اگست 2020ء کو ملک کا جو نیا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا، اس میں پورے جموں و کشمیر، بشمول گلگت بلتستان کو متنازع خطہ ظاہر کیا گیا تھا، جس کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

لیکن 9 مارچ 2021ء کو گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے ایک قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اس خطے کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنایا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ آئینِ پاکستان میں ترمیم کے لیے ایک بل پیش کیا جائے تاکہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت ملے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی اصولی طور پر حمایت کی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام خطے کو پاکستان میں ضم کرنا اور اس میں صوبائی حیثیت چاہتے ہیں۔ یہ قدم مسئلہ کشمیر پر منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا کیونکہ پاکستان مسئلے کے حتمی تصفیے کے لیے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے اس کا وہی مؤقف ہے۔ ۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔

اس حوالے سے کشمیری قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے، جو سمجھتی ہے کہ بھارت اس حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے علاقے کی آزادی کے لیے جنگ لڑی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں عبوری صوبے کی حیثیت دی جائے۔ اس حوالے سے مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت استصوابِ رائے کی شرط بھی شامل ہوں گی۔

پاکستان اور چین مل کر گلگت بلتستان سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا راستہ بنا رہے ہیں، اس لیے اسے صوبائی حیثیت ملنا ایک اہم قدم ہوگا اور خطے پر ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

توقع ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اس حوالے سے جلد ہی ایک اہم اعلان کریں گے۔ وفاقی حکومت گلگت بلتستان ترقیاتی پیکیج پہلے ہی تیار کر چکی ہے۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے