22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

پاکستان، اِس رفتار سے کرونا ویکسینیشن کا عمل 10 سال میں بھی مکمل نہیں ہوگا

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

دنیا میں اس وقت تاریخ کی سب سے ویکسینیشن مہم چل رہی جس کا مقصد جدید کرونا وائرس کے اثرات کا خاتمہ کرنا ہے۔ اب تک 155 ممالک میں ویکسین کے 673 ملین ڈوز لگائے جا چکے ہیں اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 16.2 ملین ڈوز لگائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ تین چوتھائی، یعنی 75 فیصد، آبادی کو ویکسین لگائی جائے لیکن پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل جس سُست روی سے جاری ہے، اس کو دیکھیں تو اگلے 10 سال میں بھی ملک کی 75 فیصد آبادی کو ویکسین نہیں لگائی جا سکتی۔

یہ انکشاف ‘بلوم برگ’ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں دنیا بھر میں جاری ویکسینیشن کے عمل پر گہری نظر ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں اِس وقت ویکسین کا کم از کم ایک ڈوز لگانے کا تناسب ٹیسٹ مثبت ہونے کی شرح سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ملک میں اب تک 167 ملین ڈوز لگائے جا چکے ہیں اور گزشتہ مہینے اوسطاً 3.05 ملین ڈوز روزانہ لگائے گئے تھے۔

اس وقت موجود بہترین کووِڈ ویکسین بھی 95 فیصد تک مؤثر ہے، اس لیے وبا کو روکنے کے لیے مل جل کر مہم چلانی پڑے گی۔ ماہرین کے مطابق 70 سے 85 فیصد آبادی کو اگر ویکسین لگ جائے تو حالات معمول پر لائے جا سکتے ہیں۔

اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو اب تک ویکسین لگانے کی شرح خوفناک حد تک کم ہے۔ اس وقت صرف 16.2 ملین لوگوں کو روزانہ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ویکسین کے ذریعے وبا کو قابو کرنے کی کوششیں اسی رفتار سے جاری رہیں تو اس عمل میں کئی سال لگ جائیں گے۔ البتہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ویکسین لگانے کی شرح آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور نئی ویکسینز بھی مارکیٹ میں آ رہی ہیں۔

اگر امریکا کو دیکھا جائے تو وہاں ویکسینیشن کی موجودہ رفتار 30 لاکھ روزانہ سے بھی زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے وہ 3 مہینے میں اپنی 75 فیصد آبادی کی ویکسینشن مکمل کر سکتا ہے جبکہ پاکستان میں اس وقت صرف 33 ہزار افراد کو روزانہ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ اگر 22 کروڑ کی آبادی کے ساتھ پاکستانی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو 75 فیصد آبادی کو ویکسین لگانے میں 10 سال سے زیادہ کا عرصہ لگ جائے گا۔

اسرائیل کی ویکسینیشن مہم اس وقت مثالی ہے کہ جو فروری میں ہی اپنی 70 سال یا اس سے زیادہ کی عمر رکھنے والی 84 فیصد افراد کو ویکسین کے دونوں ڈوز لگا چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سخت علامات رکھنے والے کیسز اور اموات میں تیزی سے کمی آئی۔

موجودہ صورت حال میں ویکسین اور وائرس کے درمیان زندگی و موت کا مقابلہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب وائرس کی نئی اقسام پھوٹ رہی ہے، کئی ممالک ایسے ہیں جن کی ویکسین تک رسائی نہیں۔ ایک طرف ترقی یافتہ ممالک میں ویکسینیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے تو اس وقت کئی ملک ایسے ہیں جنہیں بہت معمولی مقدار میں ویکسین مل پائی ہے۔ کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بلاشبہ دنیا بھر میں اربوں ویکسین ڈوزز کی ضرورت ہوگی، جو لاجسٹکس کے لحاظ سے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

اس وقت جبرالٹر کے پاس آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ویکسین موجود ہے جو 89.6 فیصد آبادی کے لیے کافی ہے جبکہ پاکستان کے پاس 1 فیصد آبادی کے لیے بھی ویکسین نہیں بلکہ یہ شرح 0.2 فیصد ہے۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے