22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

پی ڈی ایم میں اختلاف کے بعد این اے 249 کا معرکہ کیا ہوگا؟

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے این اے 249 کراچی کے ضمنی انتخاب کے شیڈول کے مطابق کراچی میں پولنگ 29 اپریل کو ہوگی، این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست 6 اپریل کو جاری کردی گئی، این اے 249 کی نشست پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کے استعفے کے باعث خالی ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق این اے 249 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 339405 اور 277 پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ برسر اقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے این اے 249 کے لیے امجد اقبال آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے مفتاح اسماعیل این اے 249 سے انتخاب لڑیں گے۔ 

صوبے میں برسر اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے این اے 249 کراچی ویسٹ پر ضمنی انتخابات کے لیے قادر خان مندوخیل کو نامزد کیا ہے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی رہنما وقار مہدی کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ویسٹ پارٹی کا مضبوط قلعہ ہے، ڈسٹرکٹ میں تعمیر و ترقی کا سہرا صرف اور صرف پیپلز پارٹی کے سر جاتا ہے۔ 

این اے 249 ضمنی انتخاب سے متعلق پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) نے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ مصطفیٰ کمال پی ایس پی کے انتخابی نشان ڈولفن پر این اے 249 کے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی نے الیکشن کمیشن میں سید مصطفیٰ کمال کی جانب سے پارٹی ٹکٹ جمع کروایا تھا۔

اس حوالے سے لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا اپنے ایک گزشتہ بیان میں کہنا تھا کہ این اے 249 کے انتخاب کے بارے میں پی ڈی ایم میں پہلے یہی طے ہوا تھا کہ جو رنر آپ یعنی دوسرے نمبر والا ہوگا وہی الیکشن لڑے گا، پیپلز پارٹی سے سپورٹ مانگی تھی جو ہمارا حق تھا۔ دوسری طرف آج مفتاح اسماعیل نے اپنے بیان میں بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے حمایت مانگی تھی لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ 2018 کے این اے 249 انتخاب میں پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا نے 35،344 جبکہ ن لیگ کے امیدوار شہباز شریف نے 34،626 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس سے قبل لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ قیادت نے انہیں این اے 249 سے بطور پاکستان مسلم لیگ ن امیدوار کھڑا کیا ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حمایت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ مفتاح اسماعیل نے اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ 2018 کے جنرل انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار فیصل واوڈا نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کو کچھ ووٹوں سے ہرایا تھا۔ فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ ن پرامید ہے کہ وہ پی ڈی ایم کی حمایت کے ساتھ اس حلقے میں بآسانی فتح حاصل کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی اس میں اہم کردار ادا کریں گی۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے