22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

معروف سعودی کاروباری شخصیت کا عمران خان کو خط، تابش گوہر کی شکایت

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

سعودی عرب کی معروف کاروباری شخصیت اور کے-الیکٹرک کے اہم سرمایہ کار عبد العزیز حمد الجمیع نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ایک خط لکھا ہے جس میں اُن کے خصوصی مشیر برائے بجلی تابش گوہر کی شکایت کی گئی ہے کہ وہ شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے 2016ء میں کے-الیکٹرک کے 66.4 فیصد حصص حاصل کرنے کے لیے لگائی گئی بولی کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔

دبئی میں قائم سابق نجی ادارہ ابراج گروپ اور کویت کا الجمیح/نیشنل انڈسٹریز گروپ کے-الیکٹرک، سابقہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC) میں 66.4 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ حکومت پاکستان کے اس میں 24.36 فیصد حصص ہیں۔

عبد العزیز الجمیح کے-الیکٹرک کے سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 2005ء میں ایک کنسورشیم کے ذریعے KESC خریدا تھا۔ انہوں نے کے-الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پہلے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی تھیں اور اب کے-الیکٹرک کی کنٹرولنگ اور شیئر ہولڈنگ کمپنی KES پاور کے بورڈ میں موجود ہیں۔

کے-الیکٹرک کے سابق چیئرمین تابش گوہر کو وزیر اعظم پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں اپنا خصوصی مشیر برائے بجلی مقرر کیا تھا اور پھر گزشتہ ماہ مارچ میں مشیر پٹرولیم کا اضافی عہدہ بھی دیا۔

اسی مہینے عبد العزیز الجمیح نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم، صدر اور دیگر اہم عہدیداروں سے ملاقاتیں کی تاکہ شنگھائی الیکٹرک پاور کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے باقی ماندہ ادائیگی کے معاملات حل کیے جا سکیں۔ لیکن ان کے دورے کے فوراً بعد تابش گوہر نے نجکاری کمیشن کو ایک خط لکھا کہ جس میں اس کے طریق کار پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

‘عرب نیوز’ کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کو لکھے گئے خط میں عبد العزیز کا کہنا ہے کہ "جب میں آپ سے ملا تھا تو آپ نے اور دیگر تمام عہدیداروں نے بھی مجھے یقین دلایا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے دستاویزات پر بات چیت آخری مرحلے میں ہے اور آپ کا دفتر اسے جلد منظور کر دے گا۔ لیکن یہ معاملہ اب بھی حل نہیں ہوا اور جس دستاویز پر اتفاق کیا گیا اس پر آخری وقت میں آپ کے خصوصی مشیر کے منفی تبصرے کی وجہ سے اب اس پر خطرے کی تلوار تک لٹک رہی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جس دستاویز پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے "طویل محنت طلب عمل” کے بعد اتفاق کیا تھا اور اسے وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا تھا۔ "میرا فرض آپ کو مطلع کرنا تھا کہ کے-الیکٹرک کے معاملات میں آپ کے خصوصی مشیر تابش گوہر کی مداخلت مفادات کا براہِ راست تصادم ہے۔”

عبد العزیز الجمیح کا کہنا ہے کہ تابش گوہر مارچ میں ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں تھے کیونکہ سابق چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین کے-الیکٹرک رہ چکے ہیں اور ان کی موجودگی سے مفادات کا تصادم ہوتا، اس لیے وہ وفاقی حکومت کے مفادات پر بات کرنے کے لےی مناسب شخصیت نہیں اور ان سے یہ عمل خراب ہونے کے سوا کوئی توقع نہیں۔

دوسری جانب تابش گوہر کا کہنا ہے کہ ان کے کے-الیکٹرک میں کوئی براہ راست یا بالواسطہ اسٹیک نہیں ہے، وہ 2009ء سے 2015ء کے دوران کمپنی کے سی ای او اور چیئرمین رہے تھے اور وہ اس معاملے کو مفادات کا تصادم نہیں سمجھتے۔ "میں صرف حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کام کر رہا ہوں۔ کے-الیکٹرک کے حوالے سے میری رائے ذاتی نوعیت کی نہیں بلکہ پاور ڈویژن اور وزارت توانائی کے ادارے کی حیثیت سے خیالات ہیں۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ کے-الیکٹرک کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے حکومت کی تشکیل دی گئی بین الوزارتی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے عوامی مفادات کا تحفظ کروں۔ جو پہلے ہی کے الیکٹرک اور دیگر اداروں میں ادائیگی اور واجب الادا رقوم کے حوالے سے معاملات میں تاخیر کا شکار ہیں۔”

لیکن وزیر اعظم کے نام اپنے خط میں عبد العزیز الجمیح کہتے ہیں کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ خط لکھنے سے کہیں پہلے انہوں نے 10 مارچ 2021ء کو کے-الیکٹرک کی ایک سرمایہ کاری بریفنگ میں شرکت کا مطالبہ کیا تھا جس میں کے-الیکٹرک کے بین الاقوامی سرمایہ کار شریک ہوئے تھے۔”

البتہ تابش گوہر انکاری ہیں کہ انہوں نے اس بریفنگ میں شرکت کی کوئی درخواست کی تھی، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس میں مدعو کیا گیا تھا۔

سعودی کاروباری شخصیت نے تابش گوہر پر الزام لگایا کہ وہ ٹیلی وژن پر مختلف پروگراموں میں آ کر کے-الیکٹرک کے خلاف ایک باضابطہ مہم چلا رہے ہیں۔ لیکن تابش گوہر کہتے ہیں کہ اگر ٹاک شو کے دوران ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس کا جواب دینے کے ذمہ دار ہیں۔

عبد العزیز الجمیح نے یہ بھی کہا ہے کہ تابش گوہر کا طرز عمل کے-الیکٹرک اور پاکستان دونوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے سرکاری اداروں کی جانب سے ایسا پیغام جانا نیک شگون نہیں ہے، اس سے پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک اچھے مقام کی حیثیت سے پیش کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن تابش گوہر کہتے ہیں کہ یہ معاملہ اکتوبر 2016ء سے جمود کا شکار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شرائط و ضوابط میں کوئی مسئلہ ہے، ورنہ مسلسل دو حکومتیں اور کئی بیوروکریسیز بھی اسے منظور کرنے میں مشکلات سے دوچار نہ ہوتیں۔ "میں کے-الیکٹرک کے معاملات میں آنے والی اس تبدیلی کے حق میں ہوں اور پہلے ہی تجویز کر چکا ہوں کہ شنگھائی الیکٹرک آئے اور سی پیک کے تحت اس سودے کو مکمل کرے۔ ہم سب اس سودے کو مکمل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کس قیمت پر؟ اگر اربوں روپے کے واجبات اور جرمانے منسوخ کرنے پڑیں، وفاقی کابینہ کے فیصلے کے برعکس ایک نان-کمرشل بنیاد پر بجلی کی خریداری کا معاہدہ کرنا پڑے، سرچارج اور ٹیرف میں اضافے پر رضامند ہونا پڑے تو یہ زیادہ اہم ہے کہ سب کو اس فیصلے کے نتائج کا اندازہ ہو جائے۔”

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے