22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

ٹوئٹر پر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے اکاؤنٹس بند ہونے لگے

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

برطانیہ میں موجود کشمیری گروپوں نے سوشل میڈیا کے ادارے ‘ٹوئٹر’ پر الزام لگایا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے لانے اور بھارت پر تنقید کرنے والے اکاؤنٹس کو بند کر رہا ہے۔

تحریکِ کشمیر برطانیہ کے فہیم کیانی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا ہی ایسی جگہ ہے کہ جہاں کشمیری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت حال سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اب یہاں بھی ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

فہیم کیانی کہتے ہیں کہ معروف ٹوئٹر اکاؤنٹس مثلاً Stand with Kashmir اور Kashmir Civitas کو معطل کیا گیا تھا اور اب تحریکِ کشمیر کی برطانیہ کی انفارمیشن سیکریٹری ریحانہ علی کے اکاؤنٹ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ "ٹوئٹر کشمیریوں کے حوالے سے امتیازی سلوک بند کرے، جو غالباً اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا زیادہ تر عملہ بھارت سے تعلق رکھتا ہے اور ان کا دفتر بھی بھارت میں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "کئی اکاؤنٹس بغیر کوئی وجہ بتائے یا بنا اطلاع کے معطل کیے گئے ہیں اور یہ تک نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے ٹوئٹر قواعد کی کون سی خلاف ورزی کی ہے۔ جس کشمیری سے بات کریں، وہ آپ کو بتائے گا کہ اس کے ایک یا دو اکاؤنٹس ضرور کبھی نہ کبھی بند ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھارت سے چلنے والے اکاؤنٹس اور گروپ انتہائی منظم انداز میں اور بوٹس کا استعمال کر کے کھلے عام کشمیریوں کو دھمکا رہے ہیں اور انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔”

فہیم کیانی نے مطالبہ کیا کہ ٹوئٹر کشمیری اور پاکستانی اکاؤنٹس کے مقابلے میں بھارتی اکاؤنٹس کی پشت پناہی بند کرے۔

تحریکِ کشمیر برطانیہ کے کشمیر انفارمیشن سیل کے ڈائریکٹر یحییٰ اختر کا کہنا ہے کہ ریحانہ علی کا اکاؤنٹ یومِ پاکستان پر بند کیا گیا۔ "ریحانہ پر غلط الزامات لگا کر ان کا اکاؤنٹ معطل کیا گیا، اس لیے کیونکہ وہ تحریکِ کشمیر کی رکن ہیں اور لیکچرر، وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن بھی ہیں۔ وہ ‘وائس 4 کشمیر’ کے نام سے بھی ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ چلاتی ہیں اور اسے بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ طرزِ عمل آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت پر سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔ ریحانہ کا کشمیر کے لیے کام غیر معمولی ہے۔ وہ نہ صرف مظالم بلکہ ظالمانہ قوانین کو بھی سامنے لاتی ہیں، مثلاً بھارتی فوج کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990ء کے تحت ملنے والی کھلی چھوٹ۔”

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے