22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

امریکی قانون سازوں کا ‘یوٹیوب کِڈز’ پر سخت اعتراض

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

امریکی ایوان کی ایک ذیلی کمیٹی بچوں کے لیے خصوصی طور پر بنائی گئی ایپ ‘یوٹیوب کڈز’ پر تحقیق کر رہی ہے، جس کا کہنا ہے کہ گوگل کی ملکیت یہ وڈیو سروس بچوں کو نامناسب مواد دکھا رہی ہے۔

یہ تحقیق ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب 2019ء میں ہونے والے ایک تصفیے کے نتیجے میں گوگل بچوں کے والدین کی اجازت کے بغیر ان کا ذاتی ڈیٹا جمع کرنے پر 170 ملین ڈالرز ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی ایوان کی معیشت و صارفی پالیسی کے حوالے سے ذیلی کمیٹی برائے جائزہ و اصلاحات نے یوٹیوب کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سوسن ووکیکی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یوٹیوب بچوں کو نامناسب مواد سے بچانے کے لیے کافی اقدامات نہیں اٹھا رہا۔ اس کے بجائے اس کا تمام تر انحصار مصنوعی ذہانت اور صارفین پر ہے کہ وہ خود اقدامات اٹھائیں کہ کون سی وڈیو پلیٹ فارم پر ہونی چاہیے۔

‏2019ء کے تصفیے کے باوجود یوٹیوب کڈز اب بھی بچوں کو اشتہارات دکھا رہا ہے، لیکن اب یہ اشتہارات آن لائن سرگرمی کے بجائے دیکھی جانے والی وڈیوز کی بنیاد پر دکھائے جا رہے ہیں۔

یوٹیوب نے اس خط کا فوری جواب نہیں دیا ہے۔

کانگریس کی یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ سال وبا کی آمد سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اسکول معمول کے مطابق نہیں کھل سکے بلکہ گھروں سے کام کرنے والے والدین بھی مجبور ہو گئے ہیں کہ بچوں کو یوٹیوب جیسی سروسز پر مصروف کر دیں، جس کی وجہ سے بچوں کا "اسکرین ٹائم” بہت بڑھ گیا ہے اور اب کئی ماہرین اس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

اس خط میں قانون سازوں نے کہا ہے کہ یوٹیوب کڈز پر معیار نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ یوٹیوب کڈز مواد کو پیش کرنے سے پہلے اس کے مناسب ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے خود سے کوئی کوشش نہیں کر رہا۔

‏1998ء کے ایک قانون کے تحت امریکا میں 13 سال سے کم عمر کے بچوں کی معلومات جمع کرنے اور شیئر کرنے سے پہلے کمپنی کو اس کے والدین سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

‏2019ء میں ہونے والے تصفیے کے تحت گوگل نے وڈیو بنانے والوں کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے بنائے گئے مواد کو نشان زد کرنے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ان وڈیوز کو دیکھنے والوں کی ڈیٹا کلیکشن کو بھی محدود کرے گا۔ لیکن قانون ساز کہتے ہیں کہ اس کے باوجود یوٹیوب کڈز اب بھی سقم کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور بچوں کو اشتہارات دکھا رہا ہے۔ گو کہ اب یہ اشتہارات صارفین کی دلچسپی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی یوٹیوب سرگرمی کی بنیاد پر دکھائی جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ڈیوائس سے ذاتی معلومات بھی اکٹھی کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ بچوں تک دیگر طریقوں سے بھی اشتہارات پہنچ رہے ہیں جیسا کہ خفیہ مارکیٹنگ اور وڈیوز میں "انفلوئنسرز” کی جانب سے مصنوعات کو خاص جگہ پر رکھنا۔ خط کہتا ہے کہ "یوٹیوب مارکیٹنگ کے گھٹیا طریقوں سے بچنے کی کوشش کرتا بھی نہیں دکھائی دے رہا۔ اس کے علاوہ جو وڈیوز تحقیقاتی کمیٹی نے دیکھی ہیں ان میں سے صرف 4 فیصد ایسی تھیں کہ جنہیں مناسب اور "تعلیمی اہمیت” کا حامل مواد سمجھا جا سکتا ہے۔

بچوں کی ایپ نے یوٹیوب کو اشتہارات کی فروخت کے لیے انتہائی پُر کشش بنا دیا ہے کہ جو گوگل کو سب سے زیادہ منافع دے رہے ہیں۔ یوٹیوب نے گزشتہ سال تقریباً 20 ارب ڈالرز کی آمدنی اشتہارات سے حاصل کی تھی، جو صرف تین سال پہلے کے مقابلے میں دو گنی ہے۔ گوگل کی کُل اشتہارات فروخت میں وڈیو سائٹ کا حصہ تقریباً 13 فیصد ہے، جو 2017ء میں 8 فیصد تھا۔

ذیلی کمیٹی یوٹیوب کو تجویز کرتی ہے کہ وہ سات اور اس سے کم عمر کے بچوں کے لیے اشتہارات کو مکمل طور پر بند کرے اور والدین کو آٹو پلے فیچر بند کرنے کی سہولت بھی دے جو اس وقت ممکن نہیں ہے۔

قانون سازوں نے یوٹیوب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘یوٹیوب کڈز’ کی ٹاپ وڈیوز، ٹاپ چینلز، ریونیو کی معلومات اور ساتھ ساتھ اس پر صارفین کے استعمال کے اوسط وقت اور فی صارف وڈیوز کی تعداد سمیت دیگر معلومات فراہم کرے۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے