22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

جہانگیر ترین سے رابطہ نہیں ہوا، ہوگا تو پارٹی مشاورت سے ہوگا، رانا ثناء اللہ

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ شریف فیملی نے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا، حکومت بنانے کے لیے جہاز اڑائے گئے، اس بار جہاز کی بھی ضرورت نہیں، جہانگیر ترین سے رابطہ نہیں ہوا، ہوگا تو پارٹی مشاورت سے ہوگا، پیپلز پارٹی فی الوقت استعفے دینے پر راضی نہیں ہوگی۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شریف فیملی کے کاروبار کو جرم بنا کر پیش کیا گیا حالانکہ شریف فیملی نے لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا۔ آج پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کہہ رہے کہ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ میرے کاروبار کو جرم بنا کر مقدمہ درج ہورہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت ان کے دائیں اور وفاقی حکومت بائیں جیب میں ہے، کل جہانگیر ترین کے ساتھ جو اراکین تھے وہ اس بات کا ثبوت ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جہانگیر ترین نے 90 کی دہائی میں کاروبار شروع کیا تھا جبکہ شریف فیملی نے 80 سال پہلے کاروبار شروع کیا تھا۔ جہانگیر ترین پر منی لانڈرنگ کا الزام لگتا ہے تو ظلم یاد آتا ہے لیکن جب شریف فیملی پر مقدمہ ہوا تو جہانگیر ترین مذمت نہیں کرسکتے تھے؟ مسلم لیگ ن کے قائدین کو اب انصاف ملے گا۔

ایک سوال کے جواب میں لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کیا اے این پی یا پیپلز پارٹی نے یہ کہا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں یا انہوں نے مانا ہے کہ 2018 کے انتخابات شفاف تھے؟ پی ڈی ایم سے منسلک تمام جماعتوں کا ایجنڈا اب بھی وہی ہے، پی ڈی ایم کے بنیادی مقاصد پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، کوئی جماعت اپنی جدوجہد الگ سے کرنا چاہتی ہے تو اعتراض نہیں۔

اس سے قبل اپنے ایک بیان میں رانا ثناء اللہ نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ٹولہ اگر مزید برسر اقتدار رہا تو ملک کو مزید تباہی سے دوچار کرے گا۔ اب تو سوائے چند چھوکروں کے کوئی سنجیدہ بندہ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے کو تیار نہیں۔ آنے والا وقت آپ دیکھیں گے کہ ان کی چیخیں پورا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا سنے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے اوپر جو بھی الزامات تھے وہ اس وقت تک الزامات نہیں تھے جب تک اس کا جہاز اس کا پیسہ وزیراعظم عمران خان کے استعمال میں تھا۔ جب اس کے پیسے سے وزیر اعظم عمران خان کے لیے اقتدار حاصل کیا جاتا تھا، جب اس کو نااہل قرار دلوا کر میاں صاحب کے فیصلے سے بیلنس کیا گیا تھا، اس وقت وہ بالکل ایماندار تھا۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے