22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

پاک-بھارت سرحد پر دنیا کا سب سے بڑا سولر-وِنڈ پاور پروجیکٹ

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

بھارت رن کَچھ کے ویرانوں میں 726 مربع کلومیٹرز کا وسیع علاقہ دنیا کے سب سے بڑے سولر-وِنڈ ہائبرڈ پارک کے لیے مختص کر دیا ہے۔

یہ دُور دراز صحرائی علاقہ، جہاں کوئی انسان نہیں رہتا، دھوپ انتہائی شدید ہوتی ہے اور دن میں درجہ حرارت عموماً 35 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے۔ سمندر سے قربت کی وجہ سے ہوا بھی خوب چلتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کو شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کے لیے بہترین سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت نے دسمبر 2020ء میں اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا جو تکمیل پر 30 گیگا واٹ یعنی 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔

بھوج شہر سے شمال میں پاکستان کی سرحد کی جانب بڑھیں تو "انڈیا بِرج” کے بعد صرف ویرانہ ہے، یہی وہ علاقہ ہے جہاں یہ عظیم ہائبرڈ پارک بنایا جائے گا۔ پُل سے آگے روڈ کی تعمیر رواں سال دسمبر میں مکمل ہوگی جس کے بعد اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو 2024ء تک 15 گیگا واٹ بجلی یہاں سے پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔

اس پارک کی تعمیر کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے گجرات پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف پروجیکٹ آفیسر راجندر مستری کہتے ہیں کہ یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی گجرات اور اس سے باہر دوسری ریاستوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔

اس پارک کی بدولت بھارت کوئلے جیسے ماحول دشمن ذرائع کے بجائے ایسے جدید طریقوں سے بجلی کی پیداوار کی جانب منتقل ہو جائے گا، جو اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات گھٹانے کے لیے ضروری ہیں۔

نومبر 2020ء تک بھارت کی قابلِ تجدید توانائی کی گنجائش 90.39 گیگا واٹ تھی، جبکہ 2022ء تک اسے 175 گیگا واٹ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔

بھارت نے 2014ء میں سولر پارکس اور الٹرا میگا سولر پاور پروجیکٹس کی تیاری کے منصوبے کا آغاز کیا تھا، جس کا ہدف 50 ایسے منصوبے شروع کرنا تھا جن میں سے ہر ایک کی گنجائش کم از کم 500 میگا واٹ ہو۔ 2017ء میں منصوبے کے تحت بجلی کی کُل پیداوار کا ہدف 25 ہزار میگا واٹ سے بڑھا کر 40 ہزار میگا واٹ کر دیا گیا۔

کَچھ سولر پاور پروجیکٹ کرناٹک میں موجود 2 ہزار میگا واٹ کے سولر پاور منصوبے کی جگہ دنیا کا سب سے بڑا شمسی منصوبہ بنے گا۔ 2018ء میں بننے والا کرناٹک کا پاوگڑ پلانٹ اس وقت ملک کی 19 فیصد شمسی توانائی پیدا کر رہا ہے۔

راجندر مستری کہتے ہیں کہ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم از کم 3 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر 3.5 سے 4 روپے فی یونٹ لاگت آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک میگا واٹ میں 4 سے 5 ہزار یونٹس شامل ہوتے ہیں جبکہ بھارت میں ایک گھرانہ اوسطاً روزانہ 5 یونٹس بجلی استعمال کرتا ہے۔ تکمیل پر یہ پلانٹ 30 ہزار میگاواٹ بجلی دے گا۔

ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے دو ہیکٹرز کا رقبہ درکار ہوگا۔ ریاستی حکومت نے اس منصوبے کے لیے چھ اداروں کو زمین فراہم کی ہے جن میں سرکاری ادارہ گجرات انڈسٹریز پاور کمپنی بھی شامل ہے۔

اس منصوبے کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے وہ ‘انڈیا بِرج’ اور پاک-بھارت سرحد کے درمیان میں ہے۔ یہ پُل اب بھی فوج کے پاس ہے اور اسی نے 2020ء میں یہ پارک بنانے کی اجازت دی تھی۔ آج بھی تعمیراتی کام کے لیے بارڈر سکیورٹیز فورسز کی خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے جو اس منصوبے سے زیادہ خوش نہیں دکھائی دیتی۔ بھارتی میڈیا ادارے ‘دی پرنٹ’ کے مطابق فورسز میں موجود ذرائع کہتے ہیں کہ اس منصوبے سے ان کی ذمہ داری کہیں بڑھ جائے گی۔ فی الوقت وہ صرف ایک پُل کی حفاظت کر رہے ہیں، بعد میں یہ تعداد تین ہو جائے گی۔

یہی نہیں مقامی آبادیوں میں بھی اس منصوبے کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ یہ ملک کے پہلے سولر پارک سے 290 کلومیٹرز دُور ہے، جو گجرات کے گاؤں چرنکا کے قریب بنایا گیا تھا۔ 215 میگا واٹ کے ساتھ شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب 600 میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ 2012ء میں جب اس کا افتتاح کیا گیا تھا تو نریندر مودی وزیر اعلیٰ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے علاقے میں "انقلاب” آئے گا اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ لیکن آج اس منصوبے اردگرد واقع دیہات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا، اس علاقے میں تو مقامی سڑکیں تک نہیں بنی ہوئیں۔

‏’دی پرنٹ’ کے مطابق چرنکا سولر پارک کے قریب رہنے والے بپت سنگھ کہتے ہیں کہ صرف چند ہی لوگ ہیں جنہیں سولر پارک میں نوکریاں ملی ہیں، وہ بھی سکیورٹی گارڈز کی۔ مفت بجلی اور ترقی کے وعدے بس وعدے ہی رہے۔ آج بھی ہمارے علاقے میں نہ ہسپتال ہے، نہ اچھے معیار کا اسکول جبکہ پارک بنے ہوئے تقریباً 10 سال ہو چکے ہیں۔

مقامی کاشت کاروں کے مطابق وہ پارک کے لیے بیچی گئی اپنی زمین پر پہلے زیرہ کاشت کرتے تھے لیکن جب سے زمین بیچی ہے، نوبت دوسروں کی زمینوں پر کام کرنے تک آ گئی ہے۔

کَچھ کے جس علاقے میں یہ جدید پارک بنایا جا رہا ہے، وہاں پانی نایاب ہے۔ قریبی ترین آبادی بھی اس جگہ سے 35 کلومیٹرز دُور ہے۔ حکومت ماضی میں اس علاقے کے لیے سمندر سے میٹھا پانی بنانے کا پلانٹ لگانے کا اعلان کر چکی ہے، جو یہاں مقیم 8 لاکھ افراد کو "10 کروڑ لیٹر صاف پانی” فراہم کرے گا۔ مقامی لوگ کہتے ہیں ایک مہینے کے وقفے کے بعد گزشتہ ہفتے ہمیں کچھ پانی ملا ہے اور وہ عموماً نجی سپلائرز سے پانی خریدتے ہیں اور 4 ہزار لیٹر پانی کے لیے 700 روپے ادا کرتے ہیں۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ایسے میگا پروجیکٹس سے مقامی آبادیوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تعمیر کے دوران ہو سکتا ہے انہیں مزدوری کے مواقع کی صورت میں کچھ مل جائے، لیکن کوئلے کے منصوبے کے مقابلے میں سولر پروجیکٹس میں مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے