22.2 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

شدت پسند ہندو گروپوں کو امریکی کووِڈ فنڈ ملنے کی تحقیقات کا مطالبہ

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

امریکا میں انسانی حقوق کے فروغ سے وابستہ کارکنوں اور شہری حقوق کے اداروں نے امریکن اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کووِڈ-19 ریلیف فنڈ کی مد میں دائیں بازو کے شدت پسند ہندو گروپوں کو دی جانے والی لاکھوں ڈالرز کی فنڈنگ کی تحقیقات کرے۔

چند روز قبل ‘الجزيرہ’ کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکا میں وفاقی کووِڈ فنڈ سے ایک خطیر رقم ایسے گروپوں کو دی گئی ہے جن کے تعلق ہندو قوم پرست و نسل پرست گروہوں سے ہیں۔

‏Coalition to Stop Genocide in India یا مختصراً CSGI نامی گروپ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فنڈز پانے والے دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کے ساتھ واضح روابط ہیں، جو ہندو نسل پرست نظریات کا سرچشمہ اور بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی "نظریاتی ماں” ہے۔

‏’الجزیرہ’ نے بتایا تھا کہ اسمارٹ بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے پانچ ہندو گروپ کس طرح 8,33,000 ڈالرز سے زیادہ کی رقم براہ راست یا قرضوں کی صورت میں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ امریکی وفاقی ادارہ چھوٹے کاروباری اداروں کے مالکان اور کاروباری منتظمین کی مدد کرتا ہے۔ جس نے یہ فنڈز اپنے کرونا وائرس ایڈ، ریلیف اینڈ اکنامک سکیورٹی (CARES) ایکٹ کے تحت مختلف مد میں دیے تھے، جن کا مقصد دباؤ کے شکار کاروباری اداروں کو معاشی طور پر مطمئن رکھنا اور کووِڈ-19 بحران کے دوران ان کے ملازمین کا روزگار بچانا تھا۔

‏ CSGIکا بیان کہتا ہے کہ ان پانچ گروپوں میں وشوَ ہندو پریشد آف امریکا (VHPA)، اکال ودالیا فاؤنڈیش، انفینٹی فاؤنڈیشن، سیوا انٹرنیشنل اور ہندو امریکن فاؤنڈیشن ((HAF  شامل ہیں، امریکا میں قائم ہندوتوا کی صف اول کی انجمنیں ہیں، یعنی اس نسل پرست نظریے کی جو بھارت میں مسیحی، مسلم، دلت اور دیگر اقلیتوں کے استحصال کرنے میں پیش پیش ہے۔

انڈین امریکن مسلمز کونسل (IAMC) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رشید احمد نے کہا ہے کہ "امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان نفرت انگیزوں کو دینا قابلِ قبول نہیں اور اس سے ان لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے جو شفافیت، انصاف اور احتساب پر یقین رکھتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "امریکا میں ایسے کئی خاندان ہیں جو کووِڈ-19 کی وجہ سے انسانی و معاشی مشکلات سے دوچار ہیں لیکن ان کے بجائے یہ پُر تشدد اور نسل پرست نظریات رکھنے والی جماعتوں کی فرنٹ آرگنائزیشنز وفاقی کووِڈ فنڈنگ سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔”

‏CSGI کا کہنا ہے کہ RSS "مسلمانوں اور مسیحیوں پر منظّم حملوں میں یا تو براہِ راست ملوث ہے یا ان کی پشت پناہی کرتی ہے اور ان طبقات میں دہشت پھیلانے کے لیے حملوں پر اُکساتی ہے تاکہ بھارت کی سیکیولر بنیادوں کی بیخ کنی کرے اور اسے ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرے کہ جہاں اقلیتوں کی حیثیت دوسرے درجے کے شہری کی ہو۔”

بیان میں مزید کہا گيا ہے کہ RSS کے اراکین اور اس سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں کے قتلِ عام، نسل کشی، دہشت گردی، جبری تبدیلی مذہب اور دیگر کئی اقسام کی پُر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

راجا راج گوپال ہندو فار ہیومن رائٹس کے رکن ہیں، جو خود کو ایسی ہندو تنظیم کہتی ہے جو ہندو مت اور ہندوتوا میں فرق رکھتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "HAF اور بھارت میں ہندو نسل پرست کی پشت پناہی کرنے والی اور ہندوتوا سے جڑی دوسری تنظیمیں یہاں امریکا میں اعتدال پسند ہندوؤں کی آواز دبانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

ان تمام تنظیموں نے آفس آف دی انسپکٹر جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ سے سامنے آنے والے معاملے کی تحقیقات کرے اور اس کے نتائج سامنے لائے۔

فیڈریشن آف انڈین امریکن کرسچن آرگنائزیشنز (FIACONA) کے چیئرمین جان پرابھودوس نے بھی کہا کہ "سرکاری اداروں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی امریکا میں ہندو نسل پرست گروہوں کو کووِڈ فنڈ ملنے کی سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی بھارت میں نفرت، ظلم و جبر اور اقلیتوں و پسماندہ طبقات کی نسل کشی پر صَرف نہ ہو، جامع تحقیق اور مناسب اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔”

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے