23.3 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

آئی ایم ایف نے پاکستان کے بجٹ میں 7.1 فیصد خسارے کی پیش گوئی کر دی

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے موجودہ مالی سال میں پاکستان کے مالی حالات بدستور دباؤ میں رہنے کی پیش گوئی کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں بجٹ خسارہ کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) کا 7.1 فیصد اور بنیادی خسارہ 1 فیصد جبکہ قرض کی سطح 87.7 فیصد رہے گی۔

البتہ اپنی اہم رپورٹ ‘Fiscal Monitor’ میں آئی ایم ایف نے اگلے چند سالوں میں پاکستان کے مالی حالات بہتر ہونے کا امکان ضرور ظاہر کیا ہے۔ جس کے مطابق مالی سال 2022ء میں پاکستان کا مالی خسارہ 5.5 فیصد اور اس سے اگلے سال 2023ء میں مزید کم ہو کر 3.9 فیصد ہو جائے گا۔ سال 2026ء تک پاکستان کا مالی خسارہ گھٹ کر جی ڈی پی کا 2.9 فیصد ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف پیش گوئی کرتا ہے کہ پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کا 87.7 فیصد ہوگا جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگا۔ موجودہ مالی سال کے اختتام پر اور اس کے بعد یہ کم ہو کر 83.3 فیصد اور 2026ء تک 65.5 فیصد ہو جائے گا۔

مالی سال 2021ء میں خالص قرض اور جی ڈی پی کا تناسب بھی – ادائیگی وغیرہ کے بعد –ریکارڈ 80.7 فیصد رہے گا۔ البتہ مالی سال 2022ء میں یکدم کم ہو کر 77.3 فیصد اور 2023ء میں 72.4 فیصد ہو جائے گا۔ خالص قرض اور جی ڈی پی کا تناسب 2026ء تک جی ڈی پی کا 61.6 فیصد تک گرنے کی توقع کی گئی ہے۔

اسی طرح پیش گوئی کی گئی ہے کہ بنیادی خسارہ مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے ساتھ مثبت میں آ جائے گا اور پھر بنیادی سرپلس 2023ء میں جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہوگا اور پھر 2026ء تک اسی سطح پر رہے گا۔

مالی نگران ادارے نے یہ بھی توقع کی ہے کہ پاکستان کا ریونیو اور جی ڈی پی کا تناسب اس سال بہتر ہو کر جی ڈی پی کے 15.8 فیصد تک پہنچے گا اور اگلے سال 17 فیصد اور پھر اگلے چار سالوں میں جی ڈی پی کے 17.6 فیصد تک رہے گا۔

اخراجات اور جی ڈی پی کا تناسب بھی موجودہ سال میں 22.9 فیصد سے گھٹ کر اگلے سال 22.5 فیصد تک آئے گا اور پھر ہر سال 0.4 فیصد کم ہوتا ہوا 2026ءمیں 20.5 فیصد تک آ جائے گا۔

آئی ایم ایف نے مشورہ دیا ہے کہ دنیا بھر میں وبا پر قابو پانے تک مالی پالیسی کو لچکدار رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ویکسین لگانے کا عمل بھی بے روزگاری کی شرح گھٹانے اور معاشی سرگرمیاں بڑھانے میں مددگار ہوگا اور یوں طویل میعاد میں ٹیکس آمدنی بڑھے گی۔

مالی سال 2020ء میں بڑی معیشتوں کا مجموعی خسارہ جی ڈی پی کا 11.7 فیصد رہا جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ شرح 9.8 فیصد اور کم آمدنی والے ممالک میں 5.5 فیصد رہی۔ البتہ مالی سال 2021ء میں یہ کم ہوگا۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے