23.3 C
Islamabad
منگل, اپریل 13, 2021

کووِڈ-19، عالمی مالیاتی اداروں سے فائدہ اٹھانے والوں ملکوں میں پاکستان نمایاں

تازہ ترین

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...
- Advertisement -

پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ یہ منصوبہ ابھرتی ہوئی معیشتوں او کووِڈ-19 بحران سے نکلنے میں مدد کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

دونوں مالیاتی اداروں کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کی فوری کریڈٹ سہولت (RCF) سے 1,386 ملین ڈالرز حاصل کر رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی مدد کے لیے کی گئی درخواست گزشتہ سال 16 اپریل کو قبول کی گئی تھی اور اسلام آباد کو منظوری کے بعد فوراً ہی امداد ملنا شروع ہو گئی۔

پاکستان کو عالمی بینک کے قرضے کو معطل کرنے کے منصوبے (DSSI) سے بھی مدد مل رہی ہے۔ مئی اور دسمبر 2020ء کے دوران پاکستان نے 3645.4 ملین ڈالرز اس پروگرام کی مدد سے بچائے، جو جی ڈی پی کا 1.3 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوری سے جون 2021ء کے دوران پاکستان 2487.8 ملین ڈالرز بھی بچائے گا جو اس کے جی ڈی پی کے 0.9 فیصد ہوگا۔

‏Aviva انوسٹرز میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی تجزیہ کار کارمن آلتن کرچ کہتے ہیں کہ پاکستان، زمبیا، انگولا، ارجنٹینا اور بحرین ان پروگراموں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک ہیں۔ پاکستان اور انگولا DSSI توسیع سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔

پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ کووِڈ-19 کے بوجھ تلے ملک کی معاشی سرگرمی بُری طرح متاثر ہوئی اور مالی سال 2020ء کے لیے ابتدائی اندازے منفی 0.4 فیصد تھے۔ البتہ مالی سال 2021ء میں مرحلہ وار بحالی متوقع ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی ‘کوویکس’ سہولت کے لیے بھی درخواست دے رکھی ہے تاکہ اپنی 20 فیصد بالغ آبادی کو ویکسین دے سکے، جس کے لیے 102 ملین ٹیکے شامل ہوں گے جن کی مالیت 340 ملین ڈالرز ہے۔ اس میں سے 15 ملین ویکسین ٹیکس صفِ اول کے کارکنوں کو لگائے جائیں گے جبکہ 22 ملین 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے مختص ہوں گے۔

جنوری کے اختتام پر کوویکس نے پاکستان کے لیے ایسٹرازینیکا ویکسین کے 17.2 ملین ڈوز مختص کرنے کی تصدیق کی تھی۔ ان میں سے 6 ملین وسط مارچ میں ملنے تھے اور باقی ماندہ جون 2021ء تک۔ لیکن بھارت کی جانب سے ویکسین برآمدات میں تاخیر کی وجہ سے اب تک پاکستان کو ان یہ موصول نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ ویکسینز بھارت میں بنتی ہیں۔ البتہ پاکستان کو اب تک چین کی سینوفارم ویکسین کے 10 لاکھ ڈوز بطور عطیہ مل چکے ہیں۔

مزید تحاریر

ڈسکہ انتخاب کے بعد عوام بھی کہہ رہی ہے کہ گھر جاؤ، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر میاں حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا اب...

سندھ حکومت نے سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کرلیا

سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی سے محکمہ تعلیم کا قلمدان لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، ساتھ ہی کابینہ...

ن لیگ کو چاہیے کہ پیپلز پارٹی جیسی سیاست کرے، فواد چودھری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن احتجاجی سیاست سے باہر آکر پیپلز پارٹی جیسی سیاست...

پیپلز پارٹی کو نوٹس مسلم لیگ ن نے نہیں، پی ڈی ایم نے بھیجا تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ سیاست ختم ہوگئی اس...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے