27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

فرانس نے دو نیوکلیئر آبدوزوں کو جوڑ کر نئی آبدوز بنا لی

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

گزشتہ سال آتش زدگی کے ایک واقعے میں فرانس کی نیوکلیئر آبدوز Perle بُری طرح تباہ ہو گئی تھی، لیکن حیران کُن طور پر اسے کباڑ جانے سے بچا لیا گیا ہے۔ لیکن کیسے؟ دو حصوں میں تقسیم کر کے اور کم متاثرہ حصے کو ایک ریٹائرڈ آبدوز کے ساتھ جوڑ کر۔

فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا جب جنوبی فرانس کے شہر تولون کے شپ یارڈ میں اس آبدوز میں آگ لگ گئی تھی اور اس کا اگلا حصہ ناقابلِ استعمال ہو گیا تھا۔ اس کے فولادی ڈھانچے کو اتنا نقصان پہنچا تھا کہ وہ مرمّت کے قابل نہیں رہا تھا۔ لیکن آبدوز کا 241 فٹ طویل پچھلا حصہ، جس کا وزن 2,600 ٹن ہے، اتنا متاثر نہیں ہوا۔

خوش قسمت سے Perle کی ایک ساتھی آبدوز Saphir بھی ہے، جو سال 2019ء میں ریٹائر ہو گئی تھی اور اسے شیربورگ میں پرزے پرزے کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ لیکن اِس آبدوز کا اگلا حصہ کافی بہترین حالت میں تھا۔ تب فرانسیسی حکام کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ دونوں آبدوزوں کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

وہ دسمبر میں حادثے کی شکار Perle کو تولون سے شیربورگ لائے اور تمام تر جائزوں کے بعد فروری میں Perle کو اور مارچ میں Saphir کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

رواں ماہ Perle کے پچھلے اور Saphir کے اگلے حصے کو جوڑنے کا کام شروع ہوا اور حکام کے مطابق آئندہ چند مہینوں میں یہ مکمل ہو جائے گا۔ حتمی آبدوز کو Perle ہی کہا جائے گا جو اپنے اصل حجم سے ساڑھے 4 فٹ بڑی ہوگی۔

تیار ہونے کے بعد اسے تھری ڈی ڈجیٹل ماڈل استعمال کر کے آزمایا جائے گا اور اس کے بعد ہی اس آبدوز میں کوئی سوار ہوگا۔

اس پورے عمل میں انجینئرنگ تحقیق کے 1 لاکھ گھنٹے اور 300 لوگوں کے ڈھائی لاکھ صنعتی کام کے گھنٹے صرف ہوئے ہیں۔

‏Perle کو 1993ء میں فرانسیسی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا اور فرانسیسی بیڑے میں شامل ہونے والی چھ نیوکلیئر آبدوزوں میں سب سے جدید تھی۔ Saphir سال 1984ء سے بحریہ کا حصہ تھی اور 35 سال خدمات انجام کے بعد 2019ء میں ریٹائر ہوئی۔

فرانس کی تمام روبس-کلاس آبدوزیں آئندہ سالوں میں نئی بیراکوڈا نیوکلیئر آبدوزوں کے مقابلے میں ریٹائر ہونی ہیں۔ ان میں سے پہلی Suffren نومبر میں فرانسیسی بحریہ کے حوالے کی گئی تھی لیکن چھٹی بیراکوڈا کلاس آبدوز 2030ء تک ملنے کا امکان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس کے کم از کم چھ لڑاکا نیوکلیئر آبدوزیں رکھنے کا ہدف Perle پورا کرے گی۔

حکام کے مطابق Perle مزید تکنیکی کام اور اپگریڈز کے لیے رواں سال ایک مرتبہ پھر تولون لائی جائے گی اور 2023ء کے اوائل میں فرانسیسی بیڑے کا حصہ بن جائے گی۔

‏Perle کا نیا جنم اس کی خوش قسمتی ہے، ورنہ بحری جہازوں کو اس کا موقع نہیں ملتا لیکن یہ انوکھا کارنامہ پہلی بار نہیں ہوا۔ 2005ء میں امریکی بحریہ کی نیوکلیئر آبدوز ‘سان فرانسسکو’ ایک سمندری چٹان سے ٹکرا گئی تھی۔ بعد ازاں اسے ریٹائر ہونے کے قریب ‘ہونولولو’ نامی آبدوز سے جوڑ کر بچا لیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاشبہ یہ بہت بڑا اور مشکل کام ہوتا ہے، لیکن پھر بھی پوری نئی آبدوز بنانے سے کم ہی محنت صرف ہوتی ہے۔

ویسے ایک دلچسپ واقعہ 2012ء میں پیش آیا تھا جب امریکا کے شہر پورٹسمتھ میں ایک ناراض شپ یارڈ ملازم نے امریکی بحریہ کی آبدوز ‘میامی’ کو آگ لگا دی تھی۔ اس آبدوز کی مرمت پر اتنی لاگت آ رہی تھی کہ بحریہ نے اسے ریٹائر کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس شخص کو 17 سال قید کی سزا ملی اور 400 ملین ڈالرز کا جرمانہ بھی لگایا گیا۔ سزا تو بے چارا کاٹ لے گا لیکن اتنا بڑا جرمانہ کہاں سے بھرے گا؟

 

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے