29.9 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

سرخ گوشت دل کی بیماریوں کا سبب

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

برطانوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سرخ گوشت، مثلاً گائے اور بھیڑ کا گوشت، دل کے کام کرنے کی شرح میں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔

محققین نے 20 ہزار افراد پر کی گئی تحقیق میں پایا کہ سرخ اور پروسیسڈ گوشت کا استعمال تین لحاظ کا سبب بنتا ہے۔ ان میں خاص طور پر پروسیسڈ گوشت زیادہ خطرناک ہے کہ جسے کیمیائی مادّوں سے محفوظ کیا جاتا ہے اور عموماً اسے فاسٹ فوڈ بنانے والے ادارے استعمال کرتے ہیں۔ یہ دل کے علاوہ پیٹ کے مسائل کا بھی سبب بنتا ہے۔ اس لیے برگر پیزا پسند کرنے والوں کو خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔

دل کے امراض دنیا میں انسانوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ گزشتہ ماہ کینیڈا کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے بھی ایک تحقیق میں پایا تھا کہ دل کے دورے اور فالج کا پروسیسڈ گوشت سے براہ راست تعلق ہے۔ 2018ء میں بھی پایا گیا تھا کہ اس گوشت کا مستقل استعمال ان کیمیائی مادّوں کی شرح کو 10 گُنا بڑھا سکتا ہے کہ جو دل کے امراض کا سبب بنتے ہیں۔

جدید تحقیق میں جو تین پیمانے استعمال کیے گئے ان میں سے ایک خون کی شریانوں کی لچک تھی کہ جسے اچھی صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پھر عمر، جنس، تعلیم، تمباکو نوشی اور شراب نوشی کی عادت، ورزش، بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)، کولیسٹرو کیل کی زیادتی، ذیابیطس اور موٹاپے کی شرح کے لحاظ سے بھی تحقیق کے شرکا کو جانچا گیا۔

ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو تحقیق کی گئی اس میں پایا گیا کہ زیادہ گوشت کھانے والے افراد کے دل کے خانے چھوٹے ہوتے ہیں، ان کا دل بخوبی کام نہیں کرتا اور ان کی شریانیں سخت ہوتی ہیں، جو سب دل کے امراض کی بڑی علامات ہیں۔

اس کے مقابلے میں محققین نے دل اور روغنی مچھلی کے استعمال میں تعلق کا بھی پتہ چلایا کہ جسے عموماً صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے پایا کہ روغنی مچھلی کا استعمال جتنا بڑھتا ہے، دل کی کارکردگی اتنی بہتر ہوتی ہے اور شریانیں بھی لچکدار ہوتی ہیں۔

سرخ گوشت لحمیات، حیاتین اور معدنیات کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے۔ لیکن ماہرین دن میں 70 گرام سے زیادہ سرخ اور پروسیسڈ گوشت استعمال کرنے کی تجویز نہیں دیتے۔ اس کی بڑی وجہ ہے کہ سرخ گوشت اور پیٹ کے سرطان میں تعلق پایا گیا ہے۔ دراصل پروسس شدہ گوشت میں نائٹروجن پر مبنی preservatives ہوتے ہیں تاکہ وہ ترسیل اور محفوظ رکھنے کے دوران خراب نہ ہوں۔ یہ اجزا پیٹ اور معدے کے سرطان کا سبب بنتے ہیں۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے