9.4 C
Islamabad
منگل, جنوری 25, 2022

پاکستان "جامع انٹرنیٹ اشاریے” میں 120 ممالک میں 90 ویں نمبر پر

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

پاکستان اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کی جاری کردہ سال 2021ء کی عالمی رپورٹ کے مطابق "جامع انٹرنیٹ اشاریے” (Inclusive Internet Index) میں مزید نیچے گرتے ہوئے 90 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

اس اشاریے کا آغاز فیس بک نے کیا تھا اور اسے اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ بناتا ہے جو پیمائش کرتا ہے کہ انٹرنیٹ کس حد تک قابلِ رسائی اور قابلِ مقدور یعنی سستا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سب کے لیے موزوں بھی ہو اور انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر مثبت سماجی و معاشی نتائج حاصل کرنا ممکن بناتا ہو۔

اس اشاریے میں پچھلے تین سالوں سے سوئیڈن اور امریکا کے مابین ٹاپ پوزیشن کے لیے جدوجہد چل رہی ہے۔ 2020ء میں دوسرے نمبر پر آنے کے بعد اب تازہ رپورٹ میں سوئیڈن نے ایک مرتبہ پھر اپنا کھویا ہوا پہلا مقام حاصل کر لیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ممالک میں بھارت 49 ویں نمبر پر ہے جبکہ 2020ء میں اس کی پوزیشن 52 ویں تھی۔ 2021ء کی رپورٹ میں سری لنکا 77 ویں، بنگلہ دیش 82 ویں اور نیپال 83 ویں نمبر پر ہے اور پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا میں سب سے نیچے ہے بلکہ ایران جیسی دیگر علاقائی ریاستوں سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ ایران 120 ممالک کی درجہ بندی میں 57 ویں نمبر پر موجود ہے۔

اس اشاریے میں انٹرنیٹ کی دستیابی، اس کے کم قیمت ہونے، مقامی آبادی کے لحاظ سے موزوں مواد کی موجودگی اور تیاری جیسے پہلوؤں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان اب 90 ویں نمبر پر موجود ہے، جبکہ 2020ء میں یہ 89 ویں اور 2019ء میں 100 ممالک میں 77 ویں نمبر پر تھا۔ یعنی پاکستان اس فہرست میں موجود بدترین چوتھائی میں شمار ہوتا ہے اور بر اعظم ایشیا میں دوسرا بدترین ملک ہے۔

پاکستان میں "انٹرنیٹ تک رسائی میں صنفی مساوات” یعنی مرد اور خواتین میں تفریق، 65 فیصد رہی اور مرد اور خواتین کی موبائل فون تک رسائی میں تفریق 51 فیصد۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سستا ہونے کے لحاظ سے پاکستان نمایاں طور پر کافی آگے ہے۔ جس کی وجہ ملک میں انٹرنیٹ کمپنیوں میں مسابقت کا ماحول اور موبائل فون کی لاگت میں آنے والی کمی کی وجہ سے سستی ڈیوائسز کی دستیابی ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے 67 ویں نمبر پر ہے۔

البتہ انٹرنیٹ کی مہارت کی موجودگی، ثقافتی طور پر قبولیت اور معاون پالیسیوں کے حوالے سے 79 ویں نمبر پر ہے۔ مقامی زبان میں مواد کی موجودگی اور ساتھ ہی متعلقہ مواد کی دستیابی اور پھیلاؤ کے حوالے سے ملک 91 ویں نمبر پر کھڑا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کے معیار اور اس کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ رسائی کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 97 واں ہے۔ ملک میں انٹرنیٹ سروسز بھی بہت غیر معیاری ہیں اور اس حوالے سے ملک دنیا بھر میں 91 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان انٹرنیٹ رکھنے والے گھرانوں کی تعداد صرف 34 فیصد ہے۔

اس اشاریے میں سوئیڈن اور امریکا کے بعد اسپین، آسٹریلیا اور ہانگ کانگ کے نام ہیں جبکہ بدترین ممالک میں سیرالیون، نائیجر، عوامی جمہوریہ کانگو، لائبیریا اور برونڈی شامل ہیں۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے