27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

پاکستان کا تھنڈر، جے ایف-17 وطنِ عزیز سے بین الاقوامی فضاؤں میں

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

پیرس ایئر شو 2019ء میں پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیارے نے جیسے ہی اڑان بھری، دنیا کو اس پاک-چین شاہکار کا پہلی بار اندازہ ہو گیا۔ 7 ٹن وزنی اس لڑاکا طیارے نے اس ایئر شو میں کئی ایسے کرتب دکھائے، جنہوں نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ لیکن معاملہ محض کرتبوں تک محدود نہیں تھا۔ صرف چند مہینے بعد پاکستان کے جے ایف-17 طیارے اس اہم آپریشن کا حصہ تھے جس نے بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکا اور یوں "آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ” کے ذریعے اپنا نام تاریخ میں رقم کروا لیا۔

آج پاکستان کے پاس 138 جے ایف-17 لڑاکا طیارے ہیں اور مزید بھی آنے والے ہیں۔ کراچی سے لے کر پشاور اور کوئٹہ سے کامرہ تک کئی فضائی اڈوں پر جے ایف-17 خدمات انجام دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کُن آپریشن میں بھی ان طیاروں کا کلیدی کردار تھا۔

2018ء میں پاکستان نے نائیجیریا کے ساتھ 184 ملین ڈالرز کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت نائیجیرین فضائیہ کو تین عدد جے ایف-17 طیارے فروخت کیے جانے ہیں۔ ان طیاروں کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے بلکہ کم از کم ایک جہاز تو نائیجیریا پہنچ بھی چکا ہے۔ دوسری جانب برما نے بھی 18 جے ایف-17 طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے اور کم از کم 6 جہاز اسے موصول ہو چکے ہیں۔

پاکستان، برما اور نائیجیریا کے بعد اب کئی ممالک کی نظریں جے ایف-17 پر ہیں، جو اپنی سرحدوں اور فضاؤں کی حفاظت کے لیے ایک ایسے طیارے کی تلاش میں ہے جو جدید اور تمام تر صلاحیتوں سے لیس ہو اور ساتھ ہی کم قیمت بھی ہو۔اس وقت ملائیشیا، ارجنٹینا اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک جے ایف-17 خریدنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان جے ایف-17 کا اگلا ورژن بلاک III بنا رہا ہے، جو 2024ء سے میدانِ عمل میں ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان دو نشستوں والے 26 جے ایف-17 براوو بھی فضائیہ میں شامل کر چکا ہے جو تربیت کے علاوہ میدانِ جنگ میں عملاً بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہ سب ممکن ہوا پاک-چین شراکت داری سے۔

پاکستان اور چین 1950ء کی دہائی سے قریبی اتحادی ہیں، لیکن امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نشیب و فراز پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1980ء کی دہائی میں امریکی ساختہ ایف-16 طیارے حاصل کرنے اور پھر ان آزمودہ طیاروں کی بنیاد پر اپنے دفاع کو مضبوط تر بنانے کی پاکستان کی کوششوں کو کئی مرتبہ ٹھیس پہنچی ہے اور اسی کی وجہ سے پاکستان نے 90ء کی دہائی میں ہی ایف-16 کے متبادل پر غور شروع کر دیا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب چین امریکی ادارے گرومین کے ساتھ مل کر جے-7 طیارے کو بہتر بنانے پر کام کر رہا تھا۔ یہ سوویت مگ-21 کا چینی ورژن تھا اور ایف-7 کے نام سے آج بھی پاک فضائیہ کا حصہ ہے۔ بہرحال، اس منصوبے کو ‘سپر-7’ یا ‘سیبرII’ کا نام دیا گیا ۔ بعد ازاں، امریکا-چین تعلقات بگڑنے سے یہ ادارہ تو چلا گیا لیکن چینی ادارہ چینگ ڈُو ایئر کرافٹ کارپوریشن سپر-7 پروجیکٹ پر کام کرتا رہا اور بالآخر پاکستان پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، نتیجہ تھا جے ایف-17، یعنی جوائنٹ فائٹر ، جو آج دنیا کے سامنے ہے۔

جے ایف-17 تھنڈر طیارے نے پہلی پرواز 2003ء میں کی تھی۔ اس میں روسی ساختہ آر ڈی-93 انجن کا استعمال کیا گیا تھا جو مگ-29 جیسے شہرۂ آفاق طیارے میں استعمال ہونے والے آر ڈی-33 کی ایک جدید قسم ہے۔ طیارے کی زیادہ سے زیادہ رفتار ماک 1.6 سے 1.8 ہے، یعنی آواز کی رفتار سے 1.8 گُنا زیادہ تیزی سے اڑ سکتا ہے۔ یہ جے-7 سے کہیں زیادہ پھرتیلا بھی ہے اور 750 میل کے ساتھ کہیں بہتر رینج بھی رکھتا ہے جبکہ اس کا ریڈار زیادہ طاقتور ہے۔

جے ایف-17 میں 7 ہارڈ پوائنٹس ہیں، جن پر کئی چینی ساختہ ہتھیار لگتے ہیں جن میں مختصر فاصلے پر فضا سے فضا میں مار کرنے والا پی ایل-5 میزائل، جی پی ایس گائیڈڈ گلائیڈ بم ایل ایس-6 اور وائی جے-12 سپر سونک اور وائی جے-83 سب سونک اینٹی شپ میزائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ انسانی نظر سے آگے (BVR) تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے PL-12 ریڈار گائیڈڈ میزائلوں سے بھی لیس ہے۔ یہ الیکٹرو-آپٹیکل/انفراریڈ سینسرزاور سیلف ڈیفنس جامرز بھی اٹھا سکتا ہے۔

ابتدائی جے ایف-17 طیاروں (بلاک I) کی قیمت 15 ملین ڈالرز سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ 28 ملین ڈالرز تک جاتی تھی، وہ بھی ایسے وقت میں جب چوتھی اور پانچویں جنریشن کے جدید لڑاکا طیاروں کی قیمت 70 سے 110 ملین ڈالرز ہے۔ گو کہ بلاک I میں ہوا میں ری فیول کرنے کی صلاحیت نہیں تھی لیکن بلاک II میں یہ سہولت بھی آ گئی اور اب نیا بلاک III تو کئی جدید خصوصیات کا حامل ہے۔

تقریباً 32 ملین ڈالرز کے بلاک III طیارے میں ہیلمٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے کا بھی ہوگا، جس کی مدد سے ڈوگ فائٹ میں شارٹ رینج میزائل باآسانی فائر کیا جا سکتا ہے۔ پھر ہو سکتا ہے کہ اس میں روسی ساختہ آر ڈی-93 انجن کی جگہ چین کا ڈبلیو ایس-13 ٹربو فین انجن لگایا جائے ۔ تیاری میں کمپوزٹ مٹیریلز کے استعمال سے ہلکے وزن کی بدولت اس کی رفتار اور رینج میں بھی اضافہ ہوگا۔

لیکن بلاک III کا سب سے نمایاں اضافہ اس کا جدید AESA ریڈار ہے۔ یہ بہتر ریزولیوشن اور جام ہونے محفوظ رہنے کی زیادہ صلاحیت رکھنے والا ریڈار ہے۔ پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس بلاک III کے لیے KLJ-7A ریڈار کا جائزہ لے رہا ہے جو 124 میل تک کسی بھی دشمن کے طیارے کا پتہ چلا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاک III میں انٹرنل انفراریڈ سینسر اور جدید فلائٹ کنٹرول سسٹمز ہوں گے اور پائلٹ کے لیے سنگل پینل ملٹی فنکشنل ڈسپلے بھی۔

اپنی قیمت اور ٹارگیٹ مارکیٹ کے لحاظ سے جے ایف-17 بلاک III کسی بھی چوتھی اور 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیارے کی جگہ منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر AESA ریڈار اور جدید BVR میزائل کی تنصیب کے بعد تو یہ دشمن کے لیے ڈراؤنا خواب بن جائے گا۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے