25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

شاہد خاقان عباسی نے اسد قیصر کو جوتا مارنے کا اشارہ دے دیا

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ناموس رسالت ﷺ والے مسئلے پر بات نہیں کی تو پھر وہی ہوگا جس کی نشاندہی میں نے منگل کو قومی اسمبلی میں کی تھی، پھر کوئی افسوس کا اظہار مت کرے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج آپ کے سامنے حکومتی منافقت کی بدترین مثال آئی ہے، اس کی کوئی نظیر پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں نہیں ہے۔ آج ہمیں توقع تھی کہ ناموس رسالتﷺ کے معاملے پر بحث کا آغاز ہوگا لیکن اسے ایجنڈے پر نہیں رکھا گیا۔ آج حکومتی ایم این اے بھی موجود تھے جو کہہ رہے تھے کہ ناموس رسالتﷺ کے معاملے پر بحث کی جائے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کس بات سے ڈر رہی ہے؟ ہمارا مطالبہ ہے کل چھٹی کا دن ضرور ہوگا لیکن یہ معاملہ اس سے بڑا ہے کل سے اس معاملے پر بحث کا آغاز کیا جائے۔ ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اگر ناموس رسالتﷺ پر بات نہ ہوسکے تو پھر میں معذرت سے کہوں گا، پھر وہی ہوگا جس کی نشاندہی میں نے منگل کو کی تھی، پھر کوئی افسوس کا اظہار مت کرے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر تشریف ہی نہیں لائے اور آج اس شخص کو کرسی پر صدارت کے لیے بٹھایا گیا جس کے انتخاب کو خود الیکشن کمیشن کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ایسا شخص سپریم کورٹ کے آرڈر پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ جب کوئی اہم ترین مسئلہ درپیش ہو تو پورا ایوان خود کی کمیٹی تشکیل کرسکتا ہے لیکن حکومت نے ہمیں اس پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے حکومت سے استفسار کیا تھا کہ حکومت معلومات دے کہ اس کی پالیسی کیا ہے کیونکہ وہ قرارداد تو پرائیویٹ ممبر نے پیش کی تھی۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پچھلے کئی عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت کی ترجیح دہشتگردی ختم کرنا نہیں بلکہ حزب اختلاف کے خلاف جھوٹے مقدمے اور انتقامی کاروائیاں ہیں۔ اس حکومت کے آنے کے بعد یہ عمل کئی عرصے سے چل رہا ہے کہ آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جائے۔ میڈیا کو سنسرشپ کے ذریعے میڈیا کو بند کیا جائے اور اگر کوئی صحافی دباؤ قبول نہ کرے تو اسے اغوا کرلیا جائے اور اس پہ قاتلانہ حملہ کیا جائے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے