29.9 C
Islamabad
منگل, مئی 18, 2021

امریکا سے ملنے والے چاندی کے سکے "تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی” کا حصہ؟

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

ہو سکتا ہے امریکا میں دریافت ہونے والے چاندی کے عربی سکے دراصل تاریخ کی بدنامِ زمانہ ترین بحری قزاقی کی باقیات ہوں اور ممکن ہے کہ تاریخ کا مشہور ترین قزاق اسی علاقے میں رہتا ہو۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 1690ء کی دہائی میں امریکی نو آبادیات میں یہ خاص سکے عام طور پر مفرور بحری قزاق ہنری ایوری، جسے جان ایوری بھی کہا جاتا ہے، کے ساتھی استعمال کرتے تھے۔ وہ حج سے واپس آنے والے مسافروں کو واپس ہندوستان لے جانے والے مغل بحری جہاز کو لوٹنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ گو کہ محققین کو یقین نہیں کہ یہ سکے اس بحری جہاز "گنج سواہی”ہی سے لوٹے گئے تھے لیکن ان سکوں کی تاریخ اور اتنے دور دراز علاقے میں دریافت بتاتی ہے کہ بحری قزاقوں نے لوٹ مار کے بعد اس خزانے کو امریکا میں خرچ کیا تھا۔

ہو سکتا ہے یہ سکے ایوری خود استعمال کرتا ہو، جو اس واقعے کے چند سال بعد غائب ہو گیا تھا لیکن آج بھی اسے "بحری قزاقی کے سنہری” دور کی اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

اس دریافت سے ایوری کی موجودگی پر بھی نئی روشنی پڑ رہی ہے کہ جو اس بڑے خزانے کو لوٹنے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں میٹل ڈٹیکٹرسٹ جم بیلی کہتے ہیں کہ "ہم بلا شک و شبہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ایور امریکی نو آبادیات ہی میں مقیم تھا۔”

بیلی نے چاندی کے چار عرب سکوں میں سے پہلا 2014ء میں ایکوئیڈنیک جزیرے کی ایک نو آبادی سے دریافت کیا تھا، جو پروویڈنس شہر سے تقریباً 32 کلومیٹرز کے فاصلے پر واقع ہے۔

اب تک رہوڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس، کنیکٹیکٹ اور شمالی کیرولائنا کی ریاستوں سے ایسے درجن سے زیادہ چاندی کے سکے دریافت ہو چکے ہیں جو گنجِ سواہی سے لوٹے گئے تھے، جو تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کے آخری ثبوت ہو سکتے ہیں۔

یہ 1695ء تھا جب اس کے بحری جہاز ‘فینسی’ نے مکہ مکرمہ سے ہندوستان جانے والے ایک بحری قافلے پر حملہ کیا تھا۔ ایوری کے بحری جہاز نے اس قافلے میں موجود گنجِ سواہی کا تعاقب کر کے اسے پکڑ لیا، جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی ملکیت تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملے میں بحری قزاقوں نے اس جہاز کے عملے اور 600 مسافروں کو بدترین تشدد کے بعد قتل کر دیا، اور اس پر موجود سونے اور چاندی کے سکے لوٹ لیے، جن کی مالیت 2 سے 6 لاکھ برطانوی پاؤنڈز بتائی جاتی ہے۔ یہ آج کے لحاظ سے 40 سے 130 ملین ڈالرز کے بنتے ہیں۔

اس واقعے پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے بہت ہنگامہ مچایا کیونکہ ہندوستان میں اس کی لوٹ مار کو اب ایک براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ تب برطانیہ کے شاہ ولیم ثانی نے ایوری اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے کا حکم دیا جو غالباً دنیا میں کسی ملزم کی پہلی بین الاقوامی تلاش ہوگی۔ اس کے سر کی قیمت 1,000 پاؤنڈز لگائی گئی، جو اس زمانے کے لحاظ سے بڑی رقم تھی۔ لیکن ایوری کبھی کسی کے ہاتھ نہیں لگا۔

لیکن تب تک ایوری اور اس کا عملہ بھاگ کر "نئی دنیا” یعنی امریکا پہنچ گیا۔ انہوں نے کئی مہینے بہاماس میں گزارے، اور 1696ء میں جب برطانوی بحریہ قریب آنے لگی تو وہاں سے بھی بھاگ نکلے۔ ایوری کے عملے کے چند اراکین اہم نو آبادیات میں رہنے لگے، جہاں وہ بالآخر پکڑے گئے اور رشوت دے کر چھوٹ بھی گئی۔ لیکن ایوری کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھاگ کر آئرلینڈ چلا گیا تھا اور وہیں پر چند سالوں بعد انتہائی کسمپرسی میں مرا۔ کیونکہ گنجِ سواہی کا خزانہ کبھی برآمد نہیں ہوا اس لیے آج بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ اسے کسی خفیہ مقام پر دفنا دیا گیا ہوگا۔

بیلی ایک شوقیہ ماہرِ آثارِ قدیمہ ہیں جو 1984ء میں کیپ کوڈ کے پاس دریافت ہونے والے قزاقوں کے بحری جہاز "Whydah” کے ملبے کی بحالی پر کام کر چکے ہیں۔ 2014ء میں ان کے میٹل ڈٹیکٹر نے ایکوئیڈنیک کی ایک چراگاہ میں کچھ پراسرار سکوں کا پتہ چلایا۔ یہ علاقہ ایک زمانے میں نو آبادیاتی قصہ تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ "میں نے پانی سے ان سکوں کو صاف کیا تو نیچے نے عربی تحریر نکل آئی، میں حیران رہ گیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ یہ سکے اصل میں آئے کہاں سے ہیں۔ 17 ویں صدی کے اوائل میں ان امریکی نو آبادیات میں بحری قزاقوں کے اڈے تھے۔”

سکے پر لکھی گئی عربی میں ایک طرف درج ہے کہ یہ سکہ 1693ء میں جنوبی عرب میں یمن میں ڈھالا گیا تھا، یعنی گنجِ سواہی پر حملے سے محض چند سال پہلے۔ اس طرح کے مزید 13 سکے بھی دریافت ہوئے ہیں لیکن 2018ء میں کنیکٹیکٹ میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دو عثمانی ترک چاندی کے سکوں کا پتہ چلایا۔ انہوں نے اب تک جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ان میں سے کوئی بھی 1695ء کے بعد کا نہیں ہے، یعنی اس سال کا کہ جب گنجِ سواہی کو لوٹا گیا۔

گو کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایوری بہاماس میں کچھ وقت گزارنے کے بعد براہ راست آئرلینڈ چلا گیا تھا لیکن بیلی کی تحقیق بتاتی ہے کہ اس نے پہلے چند ہفتے امریکا میں گزارے تھے، افریقی غلاموں کی تجارت کی جو اس نے گنجِ سواہی کی لوٹ مار سے کمانے والے پیسوں سے خریدے۔ اس نے بہاماس میں "سی فلاور” نامی ایک بحری جہاز خریدا تھا اور درجنوں غلام امریکا آ کر بیچے۔

بیلی سمجھتے ہیں کہ ایوری ممکنہ طور پر آئرلینڈ میں مرا ہوگا، جیسا کہ کچھ داستانیں مشہور ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مڈگاسکر میں ایک بحری قزاقوں کے ایک زبردست خفیہ ٹھکانے پر چلا گیا تھا اور وہاں "شاہانہ” زندگی گزاری۔

گو کہ یہ جاننے کا کوئی واضح طریقہ نہیں ہے کہ امریکا میں ملنے والے ان سکوں کو دراصل ایوری نے خود استعمال کیا تھا لیکن بیلی کو یقین ہے کہ وہ مغل بحری جہاز سے لوٹی گئی دولت ہی کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ زیادہ تر سکے پگھلا دیے گئے ہوں گے تاکہ سکوں کا پتہ نہ چلے۔ ہمیں جو مل رہا ہے وہ دراصل ایسے سکے ہیں جو بحری قزاقوں نے اپنے فرار کے دوران استعمال کر لیے تھے۔ کھانے، پینے یا کہیں قیام کے لیے۔

ہنری ایوری اور اس کے جہاز ‘فینسی’ کی ایک خیالی تصویر

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے