28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

پاکستان کے بنائے گئے وینٹی لیٹرز پر شبلی فراز اور شہباز گل کے بیانات میں تضاد

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ وینٹی لیٹرز کارآمد نہیں ہیں کیونکہ یہ 16 میں سے صرف 4 فنکنشز پر پورا اترتے ہیں، ہمارے پاس کورونا ایمرجنسی کے لیے آکسیجن اور ضروری اسٹاک موجود نہیں ہے۔

گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نسٹ یونیورسٹی کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر صنعت و پیداوار سے اسٹیل ملز کے پلانٹ سے متعلق بات ہوئی ہے۔ اسٹیل ملز سے آکسیجن ہنگامی طور پر فعال کرنے میں وقت لگے گا، اگر ایسا ہوجائے تو اچھی بات ہے لیکن لگتا ہے کہ اس میں مسائل ہیں۔

شبلی فراز نے کہا تھا کہ پاکستان میں کورونا ایمرجنسی کے لیے آکسیجن اور ضروری اسٹاک موجود نہیں ہے۔ این آر ٹی سی اور پرائیویٹ فرمز وینٹی لیٹرز بنا رہی ہیں لیکن ہمارے وینٹی لیٹرز 16 میں سے صرف 4 فنکشنز پر پورا اترتے ہیں۔ کورونا سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہم سے جو بھی بھارت کے لیے ہوسکا ضرور کریں گے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، بھارت کے ساتھ پوری ہمدردیاں ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں بلکہ کاروبار کے لیے ماحول اور مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں مقامی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔

اس حوالے سے آج وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ ٹویٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وبا آئی تو ہم ماسک تک نہیں بناتے تھے۔ آج اللہ کا شکر اس سارے سامان کے ساتھ ساتھ وینٹی لیٹرز پاکستان میں بن رہے ہیں۔ نہ صرف استعمال ہو رہے ہیں بلکہ سری لنکا عراق اور دوسرے ملکوں کو سپلائی بھی ہونے جارہے ہیں۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے