27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

خلائی دوڑ میں چین کا اہم قدم، مستقل خلائی اسٹیشن کا پہلا حصہ روانہ

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

چین نے اپنے پہلے مستقل خلائی اسٹیشن کا بنیادی ماڈیول لانچ خلا میں بھیج دیا ہے۔ یہ خلا بازوں کی طویل عرصے تک میزبانی کرے گا اور چین کی بڑھتی ہوئی خلائی کامیابیوں کو ظاہر کرنے والی تازہ ترین پیش رفت ہے۔

تیانہی (Tianhe) ماڈیول نے چین کے جنوبی صوبے ہائنان میں واقع وین چانگ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ 5بی راکٹ کے ذریعے خلا کا رُخ کیا، جو ملک کی خلائی کامیابیوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس لانچ کے ساتھ ہی خلائی اسٹیشن کی تکمیل، رسد اور عملے کی روانگی کے لیے مطلوبہ 11 مشنز کا آغاز ہو گیا ہے جو اگلے سال کے آخر میں اسٹیشن کی تکمیل تک جاری رہیں گے۔

چین کا خلائی پروگرام حال ہی میں چاند سے نمونے واپس زمین پر لایا ہے، جو 40 سال میں پہلا موقع ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے مشن نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے مہینے چین مریخ کی سطح پر ایک پروب اور روور اتارے گا۔

لانچنگ کے چند منٹوں بعد تیانہی راکٹ سے علیحدہ ہوا اور پھر توانائی کے مستقل ذریعے کے لیے اپنے شمسی پینلز کھول لیے۔

یہ خلائی پروگرام چین کے لیے فخر کا باعث ہے اور وزیر لی کی چیانگ دیگر عہد سول اور فوجی رہنماؤں نے بیجنگ میں واقع کنٹرول سینٹر سے اس لانچ کو براہ راست دیکھا۔ وین چانگ لانچ سینٹر کے ملازمین کو ملک کے صدر شی جن پنگ کا مبارک بادی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔

صدر کے پیغام میں کہا گیا کہ یہ مشن چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کو بنانے کے لیے "تین مراحل” کی حکمت عملی کو مزید آگے بڑھاتا ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی اور ایروسپیس میں ایک طاقتور ملک بنانے میں نمایاں منصوبہ ہے۔

بنیادی ماڈیول خلائی اسٹیشن کا وہ حصہ ہے جس میں خلا باز ایک چکر میں چھ ماہ رہیں گے۔ مزید 10 لانچز کے دوران دو اور ماڈیولز بھیجے جائیں گے کہ جن میں عملے کے اراکین تجربہ کریں گے، چار کارگو سپلائی شپمنٹس اور عملے کے چار مشنز اس کے علاوہ ہوں گے۔

اس اسٹیشن کی جانب پرواز اور وہاں قیام کے لیے کم از کم 12 خلا بازوں کی تربیت جاری ہے، جن میں گزشتہ پروازوں میں شامل خلا باز، نو آموز اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کا پہلا انسان بردار مشن، شین چو-12، جون میں لانچ ہونا متوقع ہے۔

‏2022ء میں تکمیل کے بعد T کی شکل کا چینی خلائی اسٹیشن تقریباً 66 ٹن وزنی ہوگا، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے کہیں چھوٹا ہوگا کہ جس کا پہلا ماڈیول 1998ء میں لانچ کیا گیا تھا اور تکمیل پر اس کا وزن 450 ٹن ہوگا۔

تیانہی میں ایک ڈاکنگ پورٹ شامل ہوگا اور یہ طاقتور چینی خلائی سیٹیلائٹ سے منسلک ہونے کے قابل ہوگا۔ عملاً اسے چھ ماڈیولز کے ساتھ توسیع دی جا سکتی ہے۔ اس اسٹیشن کو کم از کم 10 سال چلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

تیانہی 1970ء کی دہائی میں بھیجے گئے امریکا کے مشہور ‘اسکائی لیب’ اور سوویت روس کے سابق اسٹیشن ‘میر’ کے حجم کا ہے۔ ان میں سے میر نے 1986ء میں لانچ ہونے کے بعد 14 سال سے زیادہ عرصے تک خلا میں کام کیا۔

بنیادی ماڈیول عملے کی تبدیلی کے دوران زیادہ سے زیادہ چھ خلا بازوں کے رہنے کی جگہ فراہم کرے گا جبکہ اس کے دیگر دو ماڈیولز، وین تیان اور مینگ تیان، سائنسی تجربات کے لیے جگہ دیں گے۔

چین نے ایک خلائی اسٹیشن کے منصوبے پر 1992ء میں کام شروع کیا تھا۔ امریکی اعتراضات کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے باہر کیے جانے کی وجہ سے چین کو یہ سب تنہا کرنا پڑا۔

راکٹ اور کمرشل سیٹیلائٹ لانچ میں سالہا سال کی کامیابی کے بعد چین نے اکتوبر 2003ء میں اپنا پہلا خلا باز خلا میں بھیجا، اور یوں سابق سوویت یونین اور امریکا کے بعد آزادانہ طور پر یہ کارنامہ انجام دینے والا تیسرا ملک بنا۔

مزید انسان بردار مشنز کے ساتھ چین نے سنگل ماڈیول خلائی اسٹیشنوں کے تجربات بھی کیے جس کے تحت تیان گونگ-1 اور اس کے بعد تیان گونگ-2 کو خلا میں بھیجا گیا۔ پہلا اسٹیشن رابطہ کھو بیٹھنے اور مدار سے نکل جانے کے بعد تباہ ہو گیا البتہ دوسرے کو 2018ء میں کامیابی سے مدار سے نکالا گیا۔

تیان گونگ-1 کا عملہ 33 دن تک اس میں موجود رہا۔

گو کہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (NASA) کو چینی خلائی پروگرام سے رابطہ کرنے میں مزاحم کانگریس کی اجازت لینا ہوگی، لیکن دیگر ممالک کا رویہ ایسا نہیں۔ یورپی ممالک اور اقوام متحدہ چینی اسٹیشن کی تکمیل کی صورت میں متوقع طور پر اس میں تجربات میں تعاون کریں گی۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے