27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

‏’تنہا ترین انسان’ مائیکل کولنز چل بسے

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

جب جولائی 1969ء میں اپالو 11 مشن چاند کی جانب گیا تھا تو اس دوران دو خلا باز نیل آرمسٹرونگ اور بز ایلڈرن چاند کی سطح پر اترے جبکہ مائیکل کولنز اپنے خلائی جہاز میں چاند کے مدار میں گردش کرتے رہے۔ اس دوران وہ چاند کے دوسری جانب بھی چکر کاٹتے، جب ان کا رابطہ زمین سے بھی منقطع ہو جاتا تھا، یعنی وہ اس مقام تک پہنچے جہاں انسان کبھی نہیں گیا۔ زمین سے اتنا دُور اور خلائی جہاز میں اکیلا ہونے کی وجہ سے انہیں ‘تاریخ کا تنہا ترین انسان’ کہا گیا۔

آج وہی کولنز امریکی ریاست فلوریڈا میں چل بسے ہیں۔ ان کی عمر 90 سال تھی۔

مائيکل کولنز مشہورِ زمانہ خلائی مشن اپالو 11 کے کمانڈ ماڈیول ‘کولمبیا’ میں رہے جبکہ ان کے دونوں ساتھی لینڈر ‘ایگل’ کے ذریعے چاند پر گئے اور وہاں قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے۔ زیادہ تر شہرت بھی آرمسٹرونگ اور ایلڈرن کو ملی لیکن کولنز کو اس کا کوئی غم بھی نہیں تھا۔ وہ بہت کسرِ نفسی سے کام لیتے تھے یہاں تک کہ ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ تک کہا کہ زندگی میں نے جتنی کامیابیاں حاصل کیں، ان میں سے 90 فیصد محض قسمت کی وجہ سے مجھے ملی۔

کولنز 1930ء میں اطالوی دارالحکومت روم میں امریکی فوج کے ایک افسر کے گھر پیدا ہوئے، جو وہاں ملٹری اتاشی کے فرائض نبھاتے تھے۔ وہ بعد ازاں امریکی فضائیہ میں لڑاکا پائلٹ بنے اور پھر زمین کے مدار میں جانے والے پہلے امریکی جان گلین سے متاثر ہونے کے بعد امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (NASA) میں درخواست دی اور 1963ء میں خلا باز کے طور پر منتخب ہوئے۔

کولنز نے اپنی پہلی خلائی پرواز جیمنائی 10 مشن میں کی، جس میں انہوں نے ریکارڈ دو مرتبہ ‘خلائی واک’ کی۔ لیکن ان کو اصل شہرت اپنے اگلے مشن ‘اپالو 11’ سے ملی جس میں ان کے دو ساتھیوں نیل آرمسٹرونگ اور بز ایلڈرن نے 20 جولائی 1969ء کو ایک تاریخ رقم کی۔

اسی مشن کے بعد انہیں ‘تنہا ترین انسان’ قرار دیا گیا، گو کہ کولنز ہمیشہ اس تاثر کو مسترد کرتے رہے۔ 2019ء میں اپالو مشن کے 50 سال مکمل ہونے پر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "میں گرما گرم کافی کا لطف اٹھا سکتا تھا، دل چاہنے پر موسیقی سُن سکتا تھا۔ کمانڈ ماڈیول ‘کولمبیا’ میں ہر وہ سہولت تھی جس کی مجھے ضرورت تھی۔ یہ بہت بڑا بھی تھا اور میں نے اس کے اندر تنہائی محسوس نہیں کی بلکہ بہت مزے کیے۔” البتہ کولنز کا کہنا تھا کہ انہیں آرمسٹرونگ اور ایلڈرن کی بخیر و عافیت واپسی کی پریشانی ضرور تھی۔

بالآخر اپالو 11 مشن کامیاب ہوا، وہ بحر الکاہل میں بحفاظت اتر گئے اور پھر کچھ عرصے بعد دنیا بھر کا دورہ کیا، جس کے اختتام پر انہیں حکومتِ امریکا کی جانب سے صدارتی تمغۂ آزادی سے نوازا گیا۔

کولنز کو بعد ازاں چاند پر جانے والے ایک مشن کی کمان بھی پیش کی گئی، لیکن انہوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ وہ سات سال خلا باز کی حیثیت سے ‘ناسا’ میں رہے۔ بعد ازاں انہیں نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم، واشنگٹن کا پہلا ڈائریکٹر بنایا گیا۔ انہوں نے چند کتابیں بھی لکھیں کہ جن میں ان کی مشہور آپ بیتی "Carrying the Fire” بھی شامل تھی۔

ریٹائر ہونے کے بعد فلوریڈا میں مقیم رہے، جہاں 2014ء میں ان کی اہلیہ کی وفات ہوئی۔ کولنز عرصے سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے