27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

پاکستان اپنی شمسی توانائی کی زبردست صلاحیت کا فائدہ کیوں نہیں اُٹھاتا؟

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے کیونکہ شمال مغربی پہاڑی علاقوں کو چھوڑ کر ملک کے بیشتر علاقوں میں خشک اور گرم موسم پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں بجلی کی کُل قومی پیداوار کا صرف 1.6 فیصد حصہ ہی شمسی توانائی سے آتا ہے جبکہ 64 فیصد معدنی ایندھن (فوسل فیولز) سے جو ماحول دوست نہیں ہوتے۔ بجلی پیدا کرنے کے دیگر ذرائع میں ہائیڈرو پاور کا حصہ 27 فیصد اور نیوکلیئر کا 5 فیصد ہے۔ قابل جدید یعنی ماحول دوست توانائی کے ذرائع کُل بجلی کی پیداوار میں صرف 4 فیصد کا حصہ رکھتے ہیں۔

پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہ موسمیاتی تبدیلی سے اثرات سے بُری طرح متاثر ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایسے طریقے اپنائے جا رہے ہیں، جو ماحول دوست نہیں ہیں۔

گزشتہ سال وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے عہد کیا تھا کہ پاکستان 2030ء تک اپنی 60 فیصد بجلی قابلِ تجدید یعنی ماحول دوست ذرائع سے پیدا کرے گا۔ اس کے لیے پاکستان کو اپنی سولر اور ونڈ پاور گنجائش میں تقریباً 24 ہزار میگاواٹ کا اضافہ کرنا ہوگا، جو اِس وقت صرف 1,500 میگاواٹ ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس شمسی توانائی کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔ ایک ماحولیات دار حسن عباس کہتے ہیں کہ پاکستان میں شمسی توانائی سے 2,900 گیگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے امکانات ہیں۔ یہ کتنی زیادہ بجلی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 1 گیگاواٹ سے 11 کروڑ ایل ای ڈی بلب روشن کیے جا سکتے ہیں۔

حسن عباس کا کہنا ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والی افسر شاہی، پالیسی ساز اور ہائیڈرو کاربن کی لابی شمسی توانائی کے خلاف ہیں۔ چین نے پنجاب میں جو پرانے انداز کا سولر سسٹم لگایا ہے، اس سے ان افراد کے دعووں کو تائید ملتی ہے جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں سولر سسٹم کام نہیں کرے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی ہائیڈرو الیکٹرک سے بھی سستی پڑے گی اور دعویٰ کیا کہ شمسی توانائی میں 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے 50 سے 60 گیگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، جو تربیلا اور منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی سے 10 گُنا زیادہ ہے۔

ایک توانائی ماہر غزالہ رضا کا کہنا ہے کہ ایسے کئی عوامل ہیں جو شمسی توانائی کو آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ ان میں سولر فارمز بنانے کے لیے جگہ کی تلاش میں پیچیدگیاں، تعمیراتی منظوریوں میں تاخیر اور قومی گرڈ کے لیے بجلی کرنے کے غیر پر کشش نرخ شامل ہیں۔ "سیاسی ارادے کی کمی اور حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری میں تذبذب ماحول دوست ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے امکانات ختم کر رہا ہے۔”

ایک ماہر معیشت شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ ابتدائی سرمایہ کاری کی بہت زیادہ لاگت شمسی توانائی کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے، یہاں تک کہ توانائی کے دیگر ذرائع کو بھی ملا لیا جائے تو شمسی توانائی توانائی کے منصوبوں کا معاشی فائدہ طویل میعاد میں نظر آتا ہے۔

البتہ پاکستان کے تمام اقتصادی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ عذرا طلعت سعید شمسی توانائی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے قبل تمام عوامل کو مد نظر رکھنے کی بات کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی ماحول کے لیے معدنی ایندھن سے کہیں بہتر ہے لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان کا امریکا اور چین پر ٹیکنالوجی انحصار بڑھ جائے گا۔ "پھر بڑے علاقے میں شمسی پینلز لگانے سے یہ بہت بڑی جگہ گھیریں گے، جس سے ہماری زراعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھاری ابتدائی سرمایہ کاری کے علاوہ ان پینلز کی پائیداری بھی ایک مسئلہ ہے۔”

غزالہ رضا کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کے لیے موجودہ پاور پلانٹس کو ختم کرنے کا تصور غلط ہے، جو اگلی کئی دہائیوں تک چل سکتے ہیں۔ پاکستان نے ہائیڈرو اور تھرمل پاور میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان میں چند ایسے ہیں جو سالہا سال تک کام کر سکتے ہیں۔ ان کو ختم کرنے کا مطلب پاکستان مالی طور پر ایک مصیبت مول لے۔

حسن عباس کہتے ہیں کہ گو کہ حکومت موجودہ پاور پلانٹس کو فی الفور بند نہیں کر سکتی، لیکن اسے نئی سرمایہ کاری ان منصوبوں میں نہیں کرنی چاہیے جو ماحول دوست نہیں۔

پاکستان کو بجلی کی ترسیل کے ناقص نظام کی وجہ سے بھی کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا سامنا رہتا ہے۔ مقامی سولر پاور پروجیکٹس اس مسئلے کا حل پیش کر سکتے ہیں۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے