27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

مر جائیں گے، گوشت کھانا نہیں چھوڑیں گے: برطانیہ میں سروے کے دلچسپ نتائج

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

برطانیہ میں تین چوتھائی سے زیادہ افراد کا کہنا ہے کہ چاہے ان کی متوقع عمر میں پانچ سال سے دس سال کی کمی ہو جائے لیکن گوشت نہیں چھوڑ سکتے۔

وَن پول کی جانب سے ‘No Meat May’ کے لیے کیے گئے سروے میں 2 ہزار افراد نے حصہ لیا، جس میں بتایا گیا کہ ملک میں تقریباً نصف، 51 فیصد ایسے ہیں جو خوراک میں گوشت کی زیادہ مقدار کو "مردانہ” خوراک سمجھتے ہیں جبکہ 36 فیصد سبزی خور (vegetarian) اور 35 فیصد دودھ اور دودھ سے بنی اشیا بھی استعمال نہ کرنے والی سبزی خور (vegan) خوراک کو "زنانہ” سمجھتے ہیں۔

تقریباً ایک تہائی مرد، 30 فیصد، یہ سمجھتے ہیں کہ انسان گوشت خور ہی ہے جبکہ ایک چوتھائی سے کم خواتین، 22 فیصد، ایسا سمجھتی ہیں۔ ہر 20 میں سے 1 شخص، یعنی 6 فیصد، کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاہے انہیں جیل بھی بھیج دیا جائے لیکن وہ گزشت کھانا پسند نہیں کریں گے۔ یہ شرح 25 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ دکھائی دی۔

‏27 فیصد افراد نے کہا کہ گوشت کے بجائے وہ کافی چھوڑ سکتے ہیں اور 19 فیصد نے گوشت کے مقابلے میں شراب چھوڑنے کا اعلان کیا۔ 35 فیصد نے کہا کہ اگر اس سے صحت بہتر ہوتی ہے تو وہ گوشت کھانا چھوڑ سکتے ہیں۔

خواتین کے لیے سبزی خوری کی جانب منتقل ہونے کی بنیادی وجہ صحت کی پیچیدگیاں ہیں۔ 38 فیصد کا کہنا تھا کہ اگر ان کی صحت بہتر ہوتی ہے تو وہ گوشت کھانا بند کر دیں گی۔ 36 فیصد نے کہا اگر کینسر ہونے کا امکان ہو تو وہ ایسا کریں گی جبکہ 33 فیصد نے یہ کہا کہ اگر کم از کم ایک اسٹون (6.35 کلو) وزن کم ہونے کا امکان ہو تو وہ گوشت چھوڑ سکتی ہیں۔

گوشت اور جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت کو محدود کرنے میں بھی خواتین کو زیادہ دلچسپی ہے۔ 60 فیصد نے کہا کہ وہ کسی حد تک گوشت کا استعمال محدود کر رہی ہیں یا اس میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ مردوں میں یہ شرح 51 فیصد رہی۔

تحقیق نے یہ بھی پایا کہ نوجوان نسل میں گوشت کا رجحان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ اپنے قرب و جوار کے لوگوں کی نظر میں قبولیت حاصل کریں۔ 16 سے 34 سال کی عمر کے 21 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور اہل خانہ کی نظر میں قبولیت حاصل کرنے کے لیے گوشت کھاتے ہیں۔ 20 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ گوشت کھاتے ہیں تاکہ کوئی انہیں بزدل نہ سمجھے۔

ماحولیات کے حوالے سے دیکھیں تو 76 فیصد افراد نے کہا کہ وہ ماحول کی پروا کرتے ہیں لیکن صرف 26 فیصد نے کہا کہ وہ ماحولیاتی اثرات کو گھٹانے کے لیے گوشت کا استعمال ترک کر دیں گے۔

خواتین ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد، 28 فیصد، نے کہا کہ اگر ہزاروں جانوروں کی جانیں بچتی ہیں تو وہ گوشت کھانا چھوڑ دیں گی جبکہ مردوں میں یہ شرح 21 فیصد رہی۔

سروے میں 42 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے سبزی خور بننے میں رکاوٹ کی بڑی وجہ خوراک میں ‘بورنگ چوائس’ تک محدود ہو جانا ہے۔ تقریباً ایک تہائی، 32 فیصد، نے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں کہ ایسا کرنے کی صورت میں انہیں کیا کھانا پڑے گا اور ایک چوتھائی سے زیادہ، 26 فیصد، کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ گوشت چھوڑنے کے بعد انہیں پروٹینز کہاں سے حاصل ہوں گے۔

پلانٹ بیسڈ ہیلتھ پروفیشنلز یو کے کی بانی ڈاکٹر شیریں قاسم کہتی ہیں کہ یہ سروے گوشت خوری کے حوالے سے سائنس اور عوامی رویّے کے مابین واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ گوشت خوری، بالخصوص سرخ اور پروسیسڈ گوشت کا استعمال، ہماری انتہائی عام بیماریوں کا سبب ہے، یہ امر حیران کُن ہے کہ سبزی خوری کے حوالے سے کیسی کیسی باتیں عام ہیں۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے