29.9 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

کرونا وائرس دنیا کے بلند ترین مقام پر بھی پہنچ گیا

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

یہ ماؤنٹ ایورسٹ کا بَیس کیمپ ہے، دنیا کے بلند ترین پہاڑ کا دامن، اور کرونا وائرس نے اس علاقے کو بھی خالی کرا دیا ہے۔ کووِڈ-19 کی وبا پھوٹنے کے بعد یہاں سے درجنوں کوہ پیماؤں کو نکال لیا گیا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ بَیس کیمپ پر وائرس کی موجودگی کا پہلی بار 15 اپریل کو پتہ چلا تھا، جس کے بعد صورت حال بگڑتی چلی گئی اور اب 30 سے زیادہ کوہ پیماؤں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکال کر کیمپ کو خالی کر دیا گیا ہے۔

کاٹھمنڈو ہسپتال لائے جانے والے ایک کووِڈ پازیٹو برطانوی کوہ پیما کا کہنا ہے کہ پہاڑ کے دامن میں سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا تھا۔

کوہ پیما اسٹیو ہیرس کی طے شدہ دو مہینے کی مہم تب ختم ہوئی جب وہ بیمار پڑے۔ انہیں 20 اپریل کو بَیس کیمپ لایا گیا اور یہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر قریبی قصبے منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ "ابتدا میں بلندی پر ہونے والے ایک عارضے HAPE کی تشخیص ہوئی۔ بہرحال، بَیس کیمپ سے قریبی قصبے نمچے بازار لایا گیا۔ یہاں نہ میں نے پوچھا اور نہ مجھے کووِڈ-19 ٹیسٹ کروانے کو کہا گیا۔ چار دن بعد یہاں سے کاٹھمنڈو پہنچایا گیا جہاں میرا کووِڈ-19 ٹیسٹ مثبت آیا اور نمونیا کی بھی تصدیق ہوئی۔ بعد ازاں مجھے ایک ہفتے تک انتہا نگہداشت میں رہنا پڑا۔ ہسپتال سے تو میں فارغ ہو چکا ہوں لیکن اب بھی ہوٹل میں آئسولیشن میں ہوں اور کووِڈ ابھی تک مثبت ہی ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ بَیس کیمپ پر کووِڈ کی ‘افواہیں’ تو تھیں لیکن تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ وہاں سماجی فاصلے اور ماسک پہننے جیسے اقدامات کا خیال نہیں رکھا جا رہا تھا۔

اب لگتا ہے کہ ہیرس کو ایورسٹ کی طرح رواں سال جون میں پاکستان میں کے ٹو کی مہم بھی ترک کرنا پڑے گی۔ اپنے حالیہ بلاگ میں انہوں نے لکھا ہے کہ "یہ پہاڑ انتظار کر سکتا ہے۔ ایک دن، ممکنہ طور پر اگلے سال یا اس کے بعد، ایسا آئے گا جب میں اس کی چوٹی پر کھڑا ہوں گا۔”

نیو یارک کی ایک کوہ پیما جینا میری ہین-لی نے بتایا کہ انہیں پچھلے ہفتے بَیس کیمپ سے نکالا گیا اور بعد ازاں کووِڈ-19 ٹیسٹ بھی مثبت آیا اور نمونیا کی بھی تشخیص ہوئی۔ چار دن آئی سی یو میں رہنا پڑا۔

پولینڈ کے کوہ پیما پاول مچالسکی کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ سے 30 کوہ پیماؤں کو نکال کر کاٹھمنڈو پہنچایا گیا ہے۔

ایک نیپالی صحافی کے مطابق نیپالی حکومت اب بھی تردید کر رہی ہے کہ ایورسٹ پر کووِڈ-19 کی وبا پھوٹی ہے۔ صحافی رجیتا ادھیکاری کا کہنا ہے کہ کیمپ سے واپس آنے ہی میرا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔ آخر حکومت سچ کیوں چھپا رہی ہے؟ وہ سینکڑوں کوہ پیماؤں کی جان کیوں خطرے میں ڈال رہی ہے؟ صرف سیاحت کے چند پیسوں کے لیے؟

یاد رہے کہ وبا کی آمد کے بعد گزشتہ ماہ پہلی بار کوہ پیماؤں کو ایورسٹ پر آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کوہ پیماؤں اور سرکاری عہدیداروں کا کہنا تھا کہ کوہ پیما کووِڈ-19 پابندیوں کے مطابق چوٹی کو سر کریں گے۔

گزشتہ سال وبا کی وجہ سے مجبوراً بند کیے جانے کے بعد دنیا کے بلند ترین پہاڑ کو سر کرنے کا سیزن اپریل میں شروع ہوا تھا۔ اس سیزن میں 300 سے زیادہ کوہ پیماؤں نے 8,848 میٹر بلند اس پہاڑ سر کرنے کی کوشش کرنا تھی۔ 2019ء کے انہی مہینوں میں 381 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کی تھی۔

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے