27.7 C
Islamabad
بدھ, مئی 19, 2021

کیا سعودی عرب واقعی اپنی نصابی کتب میں رامائن اور مہابھارت پڑھائے گا؟

تازہ ترین

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...
- Advertisement -

گزشتہ چند دنوں سے بھارت کے کئی بڑے اخبارات اور میڈیا ادارے یہ خبر نشر کر رہے ہیں کہ سعودی عرب اپنے ‘وژن 2030ء’ کے تحت نصابی کتب میں رامائن اور مہابھارت بھی پڑھائے گا۔ یہ خبر آج تک، ہندوستان ٹائمز، انڈیا ٹوڈے، نیوز 18، زی میڈیا کے ادارے WION، ری پبلک ٹی وی اور یاہو نیوز جیسے اداروں تک نے شائع کی۔

ان خبری اداروں کے مطابق سعودی عرب اپنے ‘وژن 2030ء’ کے تحت طلبہ کو دی جانے والی تعلیم میں دیگر ممالک کی تاریخ اور ثقافت کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ان تمام خبروں میں ایک سعودی خاتون نوف المروعی کی ٹوئٹ بھی شامل تھی جو عرب یوگا فاؤنڈیشن کی بانی ہیں اور سعودی عرب میں یوگا کی ترویج پر 2018ء میں بھارت نے انہیں اپنا اہم ترین شہری اعزاز پدمَ شری بھی دیا تھا۔

ایک ٹوئٹ میں نوف نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کا ‘وژن 2030ء’ اور نصاب ایک جامع، آزاد خیال اور روادار مستقبل بنانے میں مدد دے گا۔ آج میرے بیٹے کے اسکول میں جاری امتحانات میں معاشرتی علوم کے پرچے کا ایک عکس، جس میں ہندو مت، بدھ مت، رامائن، کرم، مہابھارت اور دھرم کے تصورات و تاریخ کے بارے میں سوالات شامل ہیں۔ مجھے پڑھائی میں اس کی مدد کرنے پر بہت مزا آ رہا ہے۔

یہ ٹوئٹ کیا سامنے آئی، گویا بھارت کے میڈیا اداروں کے تخیل کی پرواز اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ ایک کے بعد ایک اخبار اور چینل نے اس خبر کو اسی حوالے کے ساتھ پیش کیا اور ان میں سے ہر ایک کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ہزاروں لائیکس اور شیئرز آئے۔

سعودی عرب کا ‘وژن 2030ء’ دراصل ایک تزویراتی منصوبہ ہے جو سعودی عرب کے تیل پر انحصار کو کم کر کے اس کی معیشت کو متنوّع بنانے اور صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، تفریح اور سیاحت جیسے شعبوں کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ہے۔ اس کی تفصیلات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 25 اپریل 2016ء کو پیش کی تھیں۔

‏’وژن 2030ء’ کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی رامائن اور مہابھارت کا ذکر تک نہیں موجود ہے۔

بھارتی ادارے "آلٹ نیوز” نے ایک سعودی اخبار ‘عرب نیوز’ سے وابستہ سینیئر صحافی نعمت خان سے رابطہ کیا، جنہوں نے بتایا کہ رامائن اور مہابھارت کے حوالے سے سعودی عرب نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ ویسے سعودی عرب میں سرکاری تعلیمی اداروں کا ذریعہ تعلیم عربی ہے جبکہ نوف المروعی کے شیئر کیے گئے امتحانی پرچے میں معاشرتی علوم کا پرچہ انگریزی میں نظر آ رہا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ کسی نجی ادارے کا نصاب ہو۔

نعمت خان کے ٹوئٹس میں نوف المروعی کے جواب میں آزاد سعودی سیاسی تجزیہ کار عمر الغامدی کا ٹوئٹ بھی پیش کیا گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ "آپ کا بیٹا آپ کے خاندانی تعلقات کی وجہ سے سعودی عرب کے ایک انٹرنیشنل انڈین اسکول میں پڑھتا ہے۔ یہ اسکول وژن 2030ء کے آغاز سے بھی پہلے سالوں سے یہی نصاب پڑھا رہا ہے، اس لیے کسی غیر ملکی نصاب کو سعودی عرب سے منسلک کرنا بہت بڑا جھوٹ ہے۔”

دوسری جانب کالم نگار ابراہیم السلیمان نے بھی نوف المروعی کے ٹوئٹ کا جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی انٹرنیشنل اسکولوں میں دیگر کمیونٹیز کو تعلیم کی آزادی ہے، اسے سرکاری اسکولوں کے نصاب سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

 

عمر الغامدی کے ٹوئٹ کے بعد نوف المروعی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو پرائیوٹ کر دیا۔ "آلٹ نیوز” سے بات کرتے ہوئے نوف کا کہنا تھا کہ "میرے ٹوئٹ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ مجھے اپنے بیٹے کو ایسے موضوعات پڑھانے میں مزا آتا ہے جو برصغیر کے حوالے سے ہوں۔ میرا بیٹا ایک نجی اسکول میں پڑھتا ہے اور اس کا نصاب وزارت تعلیم کا منظور شدہ ہے۔ میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ رامائن اور مہابھارت میرے بیٹے کے اسکول میں نہیں پڑھائی جاتیں۔ اس میں محض ان کا ذکر تھا۔ میرا بیٹا دسویں جماعت میں ہے۔ جس موضوع پر اس کا امتحان لیا جا رہا تھا وہ معاشرتی علوم اور عالمی جغرافیہ تھے۔” انہوں نے اس نصابی کتاب کا اسکرین شاٹ بھی پیش کیا کہ جس میں رامائن اور مہابھارت کے حوالے ہیں۔

نوف نے مزید کہا کہ "میں نے دیکھا کہ کچھ میڈیا اداروں نے میری ٹوئٹ کو استعمال کر کے سعودی عرب کے وژن 2030ء کے حوالے سے ایک غلط اور گمراہ کُن خبر چلائی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ یوگا کے حوالے سے بھارت میں میرے جذبات کی قدر کی جاتی ہے لیکن میں یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتی ہوں کہ کسی ایک میڈیا ادارے نے بھی تبصرے کے لیے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ اس لیے میں اُن سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر میرے بیان کو شائع کرنے سے پہلے مجھ سے رابطہ کریں۔”

مزید تحاریر

تین سال بعد ژوب کے لیے پروازوں کا آغاز

تقریباً تین سال بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کراچی اور ژوب کے درمیان پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی پرواز...

کرونا وائرس کے بعد سمندری طوفان بھی بھارت پہنچ گیا، 24 ہلاک، 100 لاپتہ

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان سے بھارت کے مغربی ساحل پر کم از کم 24 افراد ہلاک اور 100 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے...

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں...

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے