9.4 C
Islamabad
منگل, جنوری 25, 2022

‏”جو نظر آئے اسے گولی مار دو،” برما کے دو فوجیوں نے مسلمانوں کے قتلِ عام کا اعتراف کر لیا

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

دو فوجی اہلکاروں نے سپاٹ لہجے میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا، گفتگو کے دوران ان کے چہرے پر واحد تاثرات ان کی جھپکتی ہوئی آنکھیں تھیں۔

پرائیوٹ میو وِن تُن نے وڈیو اعترا ف میں کہا ہے کہ اگست 2017ء میں کمانڈنگ افسر کی جانب سے ملنے والے احکامات تھے کہ "جو نظر آئے اور جس کی آواز سنائی دے، اُسے گولی مار دو۔”

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکم کی تعمیل کی اور 30 روہنگیا مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ انہیں موبائل ٹاور اور فوجی اڈے کے قریب اجتماعی قبر میں دفنایا گیا۔

عین اسی وقت قریبی علاقے میں پرائیوٹ زا نینگ تُن نے کہا کہ وہ اور ان کے کامریڈ ایک اور بٹالین میں تھے کہ جنہیں بھی افسرانِ بالا سے یہی احکامات ملے کہ "جو نظر آئے مار دو، چاہے بچہ ہو یا بڑا۔”

نیو یارک ٹائمز کے مطابق دو فوجی اہلکاروں کا یہ وڈیو پیغام، جو بین الاقوامی وکلاء کے سامنے پیش کیا گیا ہے، پہلا موقع ہے کہ برمی فوج کے کسی رکن نے کھلا اعتراف کیا ہے کہ جسے اقوامِ متحدہ کے اہلکار ملک کی مسلم اقلیت کے خلاف نسل کُشی قرار دے رہے ہیں۔

پیر کو پچھلے ماہ برما سے فرار ہونے والے یہ دو اہلکار ہیگ لائے گئے جہاں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مقدمے کا آغاز کیا کہ آیا برمی فوج نے بڑے پیمانے پر روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے یا نہیں۔

ان دو اہلکاروں کی جانب سے دیے گئے بیان سے انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق ہوتی ہے کہ جن کے بارے میں پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین نے مطلع کیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ باتیں مظلوم کرتے تھے، اب ظالم خود اپنے زبان سے بتا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے فورٹیفائی رائٹس کے چیف ایگزیکٹو افسر میتھیو اسمتھ کا کہنا ہے کہ یہ انصاف کی جدوجہد کرنے والے روہنگیا اور برمی عوام کے لیے ایک یادگار موقع ہے۔ یہ اہلکار بین الاقوامی عدالت میں مقدمے کی زد میں آنے والے برما کے اولین مرتکب اور پہلے گھر کے بھیدی بن سکتے ہیں۔”

جرائم جن کے بارے میں ان اہلکاروں نے بتایا ہے، ان میں تقریباً 150 شہری مارے گئے تھے اور درجنوں دیہات کو تباہ کیا گیا۔ یہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برما کی طویل کارروائیوں کا محض ایک حصہ تھے۔ یہ ایک طے شدہ اور سوچے سمجھے منصوبے کو ظاہر کرتے ہیں جس میں ایک نسلی اقلیت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی گئی، یہی نسل کشی کے اس مقدمے کی بنیاد ہے۔

اعترافِ جرم کرنے والے دونوں اہلکار، یہ تصویر ان کے وڈیو بیانات سے نکالی گئی ہے

روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام جو 2017ء میں اپنے عروج پر پہنچا، دنیا کی تیز ترین ہجرت میں سے ایک کا سبب بنا۔ ہفتوں میں ہی ساڑھے 7 لاکھ سے زیادہ یہ لوگ برما کی ریاست اراکان میں اپنے گھروں سے نکال دیے گئے کیونکہ فوج ان کے دیہات پر حملہ آور تھی اور بندوقوں اور تلواروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں کو نذرِ آتش بھی کر رہی تھی۔

عینی شاہدین اور قتلِ عام میں بچ جانے والوں نے بتایا کہ اس دوران بزرگوں کے سر کاٹے گئے، نوعمر لڑکیوں کا ریپ کیا گیا، ان کے اسکارف پھاڑ کر آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کے لیے استعمال کیے گئے۔ ڈاکٹر وِدآؤٹ بارڈرز کا اندازہ ہے کہ 2017ء میں اگست کے اواخر سے لے کر ستمبر کے اختتام تک کم از کم 6,700 روہنگیا مسلمان مارے گئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2017ء سے 2019ء کے دوران ان کے تقریباً 200 دیہات مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔

پچھلے سال شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بتایا کہ نسل کشی کے اقدامات دوبارہ ہو سکتے ہیں اور برما اسے روکنے، نسل کشی کی تحقیقات کرنے اور اس کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سزا دینے کے وعدے پر عمل نہیں کر رہا۔

برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کسی طے شدہ منصوبے سے انکاری ہے۔ گزشتہ دسمبر میں ملک کی رہنما آنگ سان سوچی نے ہیگ میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جاری ایک اور مقدمے میں ملک کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا۔ نوبل امن انعام یافتہ سوچی کی ساکھ برمی فوج کی حمایت اور روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرنے سے انکار کی وجہ سے خراب ہوئی ہے۔

اب تک برمی فوج کے چند ہی اہلکاروں کو سزا دی گئی ہے، وہ بھی تھوڑے سے عرصے کی قید جیسی سزائیں۔

گو کہ روہنگیا مسلمانوں کا تعلق برما کی ریاست اراکان (راکھائن) سے ہے، لیکن ملک کی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ غیر ملکی مداخلت کار ہیں۔ برما کےعہدیداروں کاکہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اپنے دیہات خود نذرِ آتش کیے۔

یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ ان دو اہلکاروں کے ساتھ کیا ہوگا کہ جو گرفتار تو نہیں ہیں لیکن بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحویل میں ضرور ہیں۔ دونوں اہلکاروں کے وڈیو بیانات میں ان واقعات کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔

یہ مقدمہ پچھلے سال افریقہ کے ملک گیمبیا نے 57 رکنی اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کی جانب سے کیا تھا۔ پچھلے ہفتے نیدرلینڈز اور کینیڈا نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں قانونی مدد فراہم کریں گے تاکہ برما کو نسل کشی ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے