36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

گوانتانامو کے معمر ترین پاکستانی قیدی کی رہائی کا امکان روشن ہو گیا

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ سیف اللہ پراچہ بدنامِ زمانہ گوانتانامو قید خانے کے سب سے عمر رسیدہ قیدی ہیں۔ بالآخر 16 سال تک قید کے بعد ان کی رہائی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

انہیں 2003ء میں القاعدہ کے ساتھ تعلقات کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان پر کبھی اس کا باضابطہ الزام نہیں لگایا گیا۔ ان کی شیلبی سلیوان-بینس کے مطابق سیف اللہ سمیت تین افراد کو ایک نظر ثانی بورڈ نے کلیئر کیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں فیصلے کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی اور اس میں صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ سیف اللہ اب امریکا کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

اس پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوراً رہا کر دیے جائیں گے لیکن یہ ان کی رہائی کی سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس حراستی مرکز کی بندش کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جسے گزشتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روک دیا تھا۔

سیف اللہ پراچہ کی وکیل کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ چند ماہ میں وہ اپنے گھر واپس پہنچ جائیں گے کیونکہ پاکستانی ان کی واپسی کے خواہاں ہیں اور ہمارے خیال میں ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

ان کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ عبد الربانی اور یمن کے عثمان عبد الرحیم کو بھی کلیئر قرار دیا گیا ہے۔ عثمان جنوری 2002ء سے گوانتانامو میں قید ہیں۔

سیف اللہ امریکا میں رہتے تھے بلکہ نیو یارک میں جائیداد بھی تھی۔ وہ ایک امیر کبیر پاکستانی کاروباری شخصیت تھے لیکن ان پر الزام تھا کہ القاعدہ کے "سہولت کار” تھے جنہوں نے 11 ستمبر کے منصوبہ ساز دو کرداروں کی مالی مدد کی تھی۔ لیکن سیف اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان افراد کا تعلق القاعدہ سے تھا اور میرا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔

امریکا نے سیف اللہ کو 2003ء میں تھائی لینڈ سے گرفتار کیا تھا اور ستمبر 2004ء میں انہیں کیوبا میں قائم اس امریکی قید خانے گوانتانامو میں ڈال دیا گیا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ جنگ کے بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی کو بھی بغیر الزام لگائے قید رکھ سکتا ہے۔

گزشتہ نومبر میں سیف اللہ پراچہ کو آٹھویں مرتبہ نظر ثانی بورڈ کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ وہ ذیابیطس اور دل کے امراض سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ یہ بورڈ صدر براک اوباما نے تشکیل دیا تھا تاکہ گوانتانامو سے ایسے قیدیوں کی رہائی کو روکا جا سکے کہ جنہیں حکومت رہائی کے بعد امریکا کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

سیف اللہ کے صاحبزادے عزیر پراچہ کو 2005ء میں نیو یارک کی ایک وفاقی عدالت میں دہشت گردی میں مدد فراہم کرنے کا مجرم ٹھیرایا گیا تھا۔ لیکن مارچ 2020ء میں گواہوں کے بیانات مسترد ہونے اور حکومت کی جانب سے نیا مقدمہ دہ کرنے کی وجہ سے عزیر پراچہ رہا ہو گئے اور پاکستان بھیج دیے گئے۔ اس فیصلے نے سیف اللہ کی رہائی کے امکانات کو بھی روشن کیا اور اب اس سمت میں مزید پیش رفت ہو گئی ہے۔ وہ ان 40 قیدیوں میں شامل ہیں جو اب بھی گوانتانامو میں موجود ہیں۔ 2003ء میں اس بدنام زمانہ جیل میں موجود قیدیوں کی تعداد تقریباً 700 تھی۔

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے