36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

مقبوضہ کشمیر، کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا شکار

تازہ ترین

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...
- Advertisement -

‏82 سالہ امینہ بانو بڈگام کے ایک سرکاری ہسپتال کے ویکسینیشن روم میں موجود ہیں تاکہ کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوا سکیں لیکن ڈیوٹی پر موجود نرس نے انہیں لوٹا دیا ہے کہ اس وقت ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ ذیابیطس کی مریضہ اور لاٹھی کے سہارے سے چلنے والی امینہ کے ساتھ آنے والے دو مردوں کو ڈاکٹر نے کہا کہ یہاں آنے کی زحمت نہ کیا کریں۔ جب ویکسین آئے گا تو ہم خود کال کر لیں گے۔

لیکن یہ یقین دہانیاں عوام کو قائل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ کشمیر میں ویکسین کی عدم موجودگی سے اشتعال بڑھ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں، ماہرین، ڈاکٹروں اور عام شہریوں کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ مسلم اکثریتی علاقے کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ گو کہ جموں و کشمیر کے امیونائزیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سلیم الرحمٰن کہتے ہیں کہ میڈیا ویکسین کی قلت کے معاملے کو ‘کشمیر بمقابلہ جموں’ کے تناظر میں نہ دیکھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب جموں میں ویکسینیشن کا عمل ہموار انداز میں جاری ہو تو کشمیر میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد کا بہت کم ہونا تشویش تو پیدا کرے گا۔

پیر کے روز ضلع سری نگر میں صرف 274 افراد کو ویکسین لگائی گئی جبکہ اسی دن جموں میں یہ تعداد 3,667 تھی۔ حکومت یکم مئی کو 45 سال سے کم عمر افراد کے لیے ویکسینیشن پروگرام کا اعلان کر چکی ہے لیکن یہاں ابھی تک ویکسین کی قلت کی وجہ سے ایسا عمل شروع نہیں ہو سکا۔

سری نگر کے 43 سالہ عارف رشید کہتے ہیں کہ میں تب سے ویکسین کی درخواست کر رہا ہوں لیکن کامیابی نہیں ملی۔ حکومت لوگوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ویکسین لگوائیں، لیکن ویکسین ہے کہاں؟

ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے سری نگر اور وادئ کشمیر کے دیگر علاقوں کے کئی ویکسین مراکز گزشتہ ہفتے بند کر دیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ پرائیوٹ ادارے بھی ویکسین سروسز نہیں دے رہے۔

ایک معروف عالم اور پیپلز کانفرنس کے رہنما عمران انصاری کا کہنا ہے کہ اس مہلک وبا کے دوران ایک علاقے کو ترجیح دینا اور دوسرے کو نظر انداز کرنا قابلِ افسوس ہے۔ ہم جموں و کشمیر میں ویکسین کی فراہمی میں یکسانیت چاہتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں اب تک کرونا وائرس سے 3,149 افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں، جبکہ اس وقت بھی 51,623 مریض موجود ہیں جن کی اکثریت کشمیر میں ہی ہے۔

بھارت نے اگست 2019ء میں کشمیر کی نیم خود مختارانہ حیثیت کا خاتمہ کر کے اسے وفاق کے زیرِ انتظام علاقہ بنا دیا تھا۔ اس لیے ویکسین کے لیے بھی اس خطے کو وفاق ہی کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ اب تک جموں و کشمیر کو ویکسین کے کُل 34 لاکھ ڈوز فراہم کیے جا چکے ہیں جن میں سے 28 لاکھ لگائے جا چکے ہیں جبکہ 5 لاکھ سے زیادہ افراد ایسے ہیں جنہیں دونوں ٹیکے لگ چکے ہیں۔ ان میں سے 6,21,870 ڈوز وزارت صحت کی جانب سے فوج کو دیے گئے تھے۔

وادئ کشمیر، جس کی آبادی 10 سال پرانی مردم شماری کے مطابق بھی 1.25 کروڑ ہے، کو صرف 15 لاکھ ویکسین ڈوز دیے گئے ہیں۔ جو 45 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ہیں۔ جبکہ جموں، جو بی جے پی کا گڑھ ہے اور اس کی آبادی بھی کشمیر سے آدھی ہے، تقریباً 19 لاکھ ڈوز فراہم کیے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع سری نگر میں 45 سال سے زیادہ عمر کے ہر تین میں سے ایک فرد کو ہی ویکسین لگی ہے جبکہ جموں میں اس عمر کے تقریباً 100 فیصد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

ایک سینیئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ضلع جموں میں ایک یا دونوں ٹیکے لگوانے والوں کی تعداد تقریباً چھ لاکھ ہے، جبکہ سری نگر جو اس سے کہیں زیادہ آبادی رکھتا ہے، ایسے افراد کی تعداد دو لاکھ سے بھی کم ہے۔

کشمیر اور جموں کے درمیان ویکسین کی تقسیم ہی میں امتیاز نہیں برتا جا رہا بلکہ وبا کے مقابلے کے لیے جو بنیادی ڈھانچا ترتیب دیا گیا ہے، وہ بھی جموں میں کہیں بہتر ہے۔ 53 لاکھ کی آبادی رکھنے والے جموں میں کووِڈ مریضوں کے لیے 2,457 بستر مختصر کیے گئے ہیں، جن میں سے 1,641 پر مریض موجود ہیں۔ آئسولیشن کے لیے 2,276 اور انتہائی نگہداشت کے لیے 271 بستر موجود ہیں۔

اس کے مقابلے میں مسلم اکثریتی کشمیر میں کہ جو جموں سے دو گنی آبادی رکھتا ہے، صرف 2,853 بستر کووڈ مریضوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 1,717 پر مریض موجود ہیں۔ حکومت نے آئسولیشن کے لیے بھی 2,853 بستر مختص کیے ہیں۔ کشمیر کے لیے صرف 133 انتہائی نگہداشت کے بستر موجود ہیں۔

بھارتی اخبار ‘ہندوستان ٹائمز’ کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر کے لیے حاصل کیے گئے پانچ میڈیکل آکسیجن جنریشن پلانٹس بھی جموں منتقل کر دیے گئے، حالانکہ کشمیر میں کرونا وائرس کے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

مزید تحاریر

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے