36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

ترک ڈرامے دنیامیں کیوں مقبول ہورہے ہیں؟ اب تک کیا حاصل کیا؟

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

مریم سارہ عزیرلی دنیا کی مشہور ترین اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، لیکن غالباً آپ نے ان کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ ڈرامہ ‘عالیشان صدی’ (The Magnificent Century) میں سلطان سلیمان عالیشان کی ملکہ خرم سلطان کے روپ میں ان کے کردار کو دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک کے 50 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا۔ اسی طرح بیرین سات بھی ہیں، جنہوں نے ٹیلی وژن ڈرامے کے اگلے سلسلے ‘کوسم’ میں کروڑوں لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ یہ دونوں خواتین ترک ٹیلی وژن ڈراموں کی بین الاقوامی کامیابی سے بڑی اسٹارز بنی ہیں۔

یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ترکی انہی ٹیلی وژن ڈراموں کی بدولت باقی دنیا تک اپنی رسائی بڑھا رہا ہے بلکہ اس کا یہ عالمی پھیلاؤ تو سلطنتِ عثمانیہ کی وسعتوں سے بھی آگے نکل گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند ممالک ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان نظر آتے ہیں۔

ترکی اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے ابھرتا ہوا ٹیلی وژن سیریز برآمد کنندہ بن رہا ہے اور امریکا کے بعد عالمی ٹیلی وژن سیریز برآمدات میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اپنی زبردست مقامی ٹیلی وژن انڈسٹری سے ترکی نے عوام کے دل اور ذہن فتح کر لیے ہیں۔

ترکی میں بننے والے ڈرامے اب مشرق وسطیٰ سے بلقان اور افریقہ سے وسط ایشیا تک تقریباً 146 ممالک کے 70 کروڑ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں اور ترک حکومت کو امید ہے کہ جلد ہی اس کی ٹیلی وژن برآمدات 1 ارب ڈالرز کا ہندسہ عبور کر جائیں گی۔

‘عالیشان صدی’ ترکی کی تاریخ کے کامیاب ترین ڈراموں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان میں ‘میرا سلطان’ کے نام سے نشر ہوا تھا اور کُل 70 ممالک میں پیش کیا گیا۔ اس نے ترک ڈراموں کی گونج دنیا بھر میں پہنچائی۔

ترک ڈراموں کی مقبولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے ترکی ڈراموں کے بڑے تقسیم کاروں میں سے ایک ‘گلوبل ایجنسی’ کے صدر اور بانی عزت پنتو کہتے ہیں کہ ترک ڈرامے دراصل خاندان روایات و اقدار اور جذبات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو ان کی کہانیاں اپنے دل کے قریب محسوس ہوتی ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ میں قدم جمانے کی وجہ ہے ترک سینسرشپ اتھارٹی ‘ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن سپریم کونسل’ کی موجودگی، جو یقینی بناتی ہے کہ ڈرامے فحش اور غیر اخلاقی مناظر سے پاک ہوں۔

پچھلے سال وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے عوام سے کہا تھا کہ وہ ترکی کی بنائی گئی سیریز ‘قیامتِ ارطغرل’ دیکھیں، کیونکہ اس میں اسلامی اقدار کو بہت خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی ہدایت پر سرکاری ٹیلی وژن ‘پی ٹی وی’ نے ایک اس سیریز کو اردو میں ڈب کیا اور گزشتہ سال رمضان میں ‘غازی ارطغرل’ کے نام سے ریلیز کیا۔ اس ڈرامے نے پاکستان میں مقبولیت کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس وقت ‘غازی ارطغرل’ کا چوتھا سیزن پاکستان ٹیلی وژن پر جاری ہے اور اس کے کردار گھر گھر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ‘غازی ارطغرل’ کے 13 کروڑ سے زیادہ ناظرین ہیں۔

پھر ڈراما ‘نور’ کو دیکھ لیں کہ جس کی آخری قسط کو 8.5 کروڑ عرب ناظرین نے دیکھا تھا۔

ترکی کے کئی ڈرامے دیگر ملکوں میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹیلی وژن پروگرام بنے ہیں اور یوں نہ صرف بیرونِ ملک ترکی کی ساکھ بلکہ برآمدات بھی بہتر بنا رہے ہیں۔ لاطینی امریکا میں جہاں جہاں یہ ٹیلی وژن ڈرامے پہنچے، وہیں سے کچھ عرصے بعد کاروباری وفود استانبول چیمبر آف کامرس سے رابطہ کرتے نظر آئے۔

ترکی میں سیاحت کی مقبولیت میں ایک بڑا ہاتھ ان ڈراموں کا بھی ہے۔ کرونا وائرس کی وبا سے پہلے ‏2018-19ء میں جنوبی امریکا سے ترکی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 46 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

لیکن ترکی کی اس کامیابی سے سب خوش نہیں ہیں۔ خاص طور پر اس کے پڑوسی کافی نالاں نظر آتے ہیں۔ سعودی حکومت نے تو ‘نور’ کو "غیر اسلامی” قرار دیتے ہوئے ترک ڈراموں پابندی لگا دی تھی۔ پھر 2013ء میں فوجی بغاوت کے ذریعے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد مصر میں ترک ٹیلی وژن پر پابندی لگا دی گئی۔

یہی نہیں بلکہ یہ ممالک اب ترکی کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں مصر نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے "مملکت النار” نامی ایک ترکی مخالف سیریز بنائی ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عثمانیوں کا دور عرب دنیا کے لیے تباہ کن تھا اور ان کی حیثیت قابض حکمرانوں جیسی تھی۔ اب سعودی عرب بھی ‘سافٹ پاور’ کی اس جنگ میں قدم رکھ رہا ہے کیونکہ ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ سالوں میں تفریح کے شعبے میں 64 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے